میکے داتو پراجکٹ پر بومئی کی صدارت میں کل جماعتی اجلاس

بومئی نے کہا کہ کل جماعتی اجلاس میں بے حد اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہم نے کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی (سی ڈبلیو ایم اے) میں اس کی فوری منظوری کے سلسلے میں مرکزی حکومت کو مکتوب تحریر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈبیو ایم اے کو اگلے اجلاس میں میکے داتو کے ڈی پی اے آر کو منظوری دینا چاہیے۔

بنگلورو: ریاستی حکومت نے متنازعہ میکے داتو پراجکٹ کے عاجلانہ نفاذ کے مطالبہ کے لیے کل جماعتی وفد نئی دہلی لے جانے اور مرکزی وزیر آبی وسائل سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ودھان سودھا میں میکے داتو پراجکٹ پر کل جماعتی اجلاس کی صدارت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے چیف منسٹر بسواراج بومئی نے یہ اعلان کیا۔

بومئی نے کہا کہ کل جماعتی اجلاس میں بے حد اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہم نے کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی (سی ڈبلیو ایم اے) میں اس کی فوری منظوری کے سلسلے میں مرکزی حکومت کو مکتوب تحریر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈبیو ایم اے کو اگلے اجلاس میں میکے داتو کے ڈی پی اے آر کو منظوری دینا چاہیے۔

ماحولیاتی منظوری بھی دی جانی چاہیے۔ حکومت اس سلسلے میں اجلاس کے انعقاد کے لیے مرکزی وزیر آبی وسائل سے بات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیر آبی وسائل گووند کارجول‘ نئی دہلی جائیں گے اور ہماری تشویش سے آگاہ کریں گے۔“ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اجلاس کے بعد میں نئی دہلی جاؤں گا اور اپر کرشنا پراجکٹ اور میکے داتو پراجکٹ پر اپنی تشویش سے واقف کرواؤں گا۔

ان سب کاموں کے بعد کل جماعتی وفد نئی دہلی لے جایا جائے گا۔ اس سوال پر کہ کیا وہ اس مسئلہ پر وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں، انہوں نے جواب دینے سے انکار کردیا۔ اپوزیشن لیڈر سدارامیا نے کہا کہ انہوں نے بومئی کو بتادیا کہ میکے داتو پراجکٹ کے ضمن میں کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ ہم نے حکومت سے جلد از جلد ماحولیاتی منظوری حاصل کرنے کو کہا ہے۔ ٹامل ناڈو کو میکے داتو پراجکٹ پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button