میں بھی گناہ سے بچنا چاہتا ہوں

میرا نام محمود اللہ ہے۔ میری عمر 28 برس ہوچکی ہے۔ میں ایک ٹیوب ویل آپریٹر ہوں۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے گھر والے میری شادی نہیں کر وا رہے ہیں۔ حالانکہ میں بے حیائی کے موجودہ ماحول میں گناہوں سے بچنا چاہتا ہوں۔ مگر میرے مطالبے پر میرے گھر والے توجہ نہیں دے رہے ہیں۔

محمد مصطفی علی سروری

میرا نام محمود اللہ ہے۔ میری عمر 28 برس ہوچکی ہے۔ میں ایک ٹیوب ویل آپریٹر ہوں۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے گھر والے میری شادی نہیں کر وا رہے ہیں۔ حالانکہ میں بے حیائی کے موجودہ ماحول میں گناہوں سے بچنا چاہتا ہوں۔ مگر میرے مطالبے پر میرے گھر والے توجہ نہیں دے رہے ہیں۔
قارئین کرام20؍ جون 2020ء کو بی بی سی ڈاٹ کام اردو کی ویب سائٹ نے ’’شادی نہ کروانے پر بیٹا تھانے پہنچ گیا۔ والد نے پولیس کو وضاحت دے دی۔‘‘ کی سرخی کے تحت پشاور سے عزیز اللہ خان نے رپورٹ شائع کی۔ تفصیلات کے مطابق خیبر پختون خواہ کے ضلع ہنگو کے ایک پولیس تھانے میں 28 سال کے ایک نوجوان نے درخواست داخل کرتے ہوئے پولیس سے مدد طلب کی کہ اس کے گھر والوں کو اس کی فوری شادی کروانے کو کہا جائے۔
محمود اللہ نے اپنی درخواست میں بتلایا کہ میں گناہ سے بچنا چاہتا ہوں لیکن بے حیائی کے موجودہ دور میں کب تک گناہ سے بچتا رہوں گا۔ میرے والدین مجھ پر توجہ نہیں کر رہے ہیں اور میرے مطالبے پر کوئی کوشش نہیں کی جارہی ہے۔ میرے والد سخت مزاج ہیں اور میری بار بار کوششوں کے باوجود میری شادی نہیں کر وا رہے ہیں۔ اس لیے میں پولیس سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ میرے والد سے کہہ کر میری شادی کروائی جائے۔
ہنگو ضلعی پولیس کے افسر نے محمود اللہ اور ان کے والد کو پولیس اسٹیشن طلب کر کے تفصیلی بات کی تو پتہ چلا کہ محمود اللہ کے متعلق اس کے والد کچھ اچھی رائے نہیں رکھتے۔ پولیس کے حوالے سے بی بی سی نے رپورٹ دی کہ محمود اللہ کے والد معین گل کا کہنا ہے کہ محمود نافرمان ہے اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتاہے۔ اس وجہ سے اس کی شادی ابھی تک نہیں کروائی جاسکی۔ معین گل نے مزید کہا کہ اگر محمود اللہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے تو ایک ماہ کے اندر اس کی شادی کے لیے تیار ہیں۔ معین گل کے مطابق محمود اللہ نے مختلف طریقوں سے اپنے والدین کے لیے پریشانیاں کھڑی کی ہیں۔
والدین سے پیسے لے کر دوستوں پر خرچ کردیتا ہے۔ والدین سے پیسے حاصل کرنے، اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اپنے ہی اغواء کا ڈرامہ کر کے بھی والدین سے پیسے حاصل کیے۔ اب محمود کو ایک سرکاری ملازمت ضرور مل گئی لیکن اس کے والد صاحب نے شکایت کی کہ وہ اپنی تنخواہ میں سے والدین کو کچھ بھی نہیں دیتا ہے۔ اس سارے پس منظر میں انہوں نے کہا کہ وہ کیسے کسی کی بیٹی کا ہاتھ اپنے بیٹے کے لیے مانگ سکتے ہیں اور کون والدین ہیں جو اپنی بیٹی کا ہاتھ دے دیں۔
قارئین کرام بی بی سی ڈاٹ کام کی یہ خبر اگرچہ ہے تو پڑوسی ملک پاکستان سے لیکن برصغیر ہند و پاک میں سماجی اور معاشرتی مسائل بہت صورتوں میں یکساں ہیں۔ کیا اس طرح کی خبر جہاں 28 برس کا ایک نوجوان کھلے عام پولیس سے مدد مانگ رہا ہے کہ وہ گناہوں سے بچنا چاہتا ہے اس لیے اس کی شادی کروادی جائے کیونکہ بے حیائی کے ماحول میں اس کا بغیر شادی کیے گذارہ ممکن نہیں ہے یہ صرف ایک ایسی خبر ہے جو کہ پڑوسی ملک سے آئی ہے کہہ کر نظر انداز کردی جاسکتی ہے یا اس خبر کے پیچھے چھپے مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ قارئین یہ سوال بھی اٹھ سکتا ہے کہ دوسرے ملک کی خبر کو بنیاد بناکر ہمارے ملک کے مسلمانوں کے مسائل کا تجزیہ کیسے کیا جاسکتا ہے تو آیئے میں آپ حضرات کو شہر حیدرآباد کے ایک واقعہ کے ذریعہ سے اس مسئلے کی سنگینی کا احساس کروانا چاہوں گا۔
جون 2022ء کے تیسرے ہفتے کے دوران شاہ علی بنڈہ پولیس اسٹیشن کے حدود میں ایک نوجوان کی خود کشی کا واقعہ سامنے آیا۔ خود کشی کرنے والے نوجوان کو عثمانیہ دواخانہ لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس نوجوان کی جان کو بچالیا بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اس نوجوان نے جو کہانی سنائی ہے وہ اسی مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہوم ٹیوشن کر کے زندگی گذر بسر کرنے والا ایک نوجوان سال 2017ء تک خوش و خرم تھا لیکن اس برس اس کے ساتھ ایک سانحہ پیش آتا ہے جس میں اس کی اہلیہ کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ اپنی بیوی کی موت کے بعد غم سے نڈھال اس نوجوان کو دلاسہ دینے کے بہانہ ایک دوسرا نوجوان اس کو اپنے جال میں پھانس لیتا ہے اور پھر دو مسلم نوجوان آگے چل کر گناہ کے راستے پر چلنے لگتے ہیں۔ یعنی ان دونوں کے درمیان ایسی حرکات سر انجام پانے لگتی ہیں جس کی نہ تو مہذب معاشرے میں اجازت ہے اور نہ ہی مذہب اسلام اجازت دیتا ہے۔
ہوم ٹیوشن کرنے والا نوجوان چونکہ اپنی بیوی کی موت کے بعد تنہاء ہوگیا تھا تو اس کا جم کو جانے والا دوست اب اس کا ہم راز اور بہت قریب ہوگیا تھا۔ یہاں تک کہ اس نے دونوں کو قابل اعتراض حالت میں تصاویر بھی اتار لی اور ان تصاویر کے سہارے وہ شاہ علی بنڈہ کے نوجوان کو اپنا ہر کام کرنے پر مجبور کرنے لگا۔ ہم جنس پرستی میں مبتلا ہونے کے بعد اس دلدل سے باہر نکلنے کے لیے جب ہوم ٹیوشن دینے والے نوجوان نے سال 2019ء نومبر میں دوسری شادی کرلی تو اس کے دوست نے اب بھی اس کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور مسلسل بلیک میل سے تنگ آکر شاہ علی بنڈہ پولیس حدود کے رہنے والے اس نوجوان نے بالآخر خود کشی کرنے کا فیصلہ کرلیا اور زہر کھالیا۔ لیکن چند لوگوں نے اس نوجوان کو فوری طور پر پولیس کی مدد سے عثمانیہ دواخانہ منتقل کیا اور یوں ڈاکٹروں کی ابتدائی طبی امداد کے بعد اس نوجوان کی جان بچالی گئی اور دواخانے کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس نوجوان نے اپنے نام کے علاوہ اپنے اس دوست کا نام کا بھی باضابطہ انکشاف کیا جس کے ساتھ وہ غیر فطری تعلقات میں مبتلا ہوگیا تھا۔
قارئین کرام یہ توایک واقعہ ہے جس کا ذکر یہاں کیاگیا ہے لیکن ایسے کئی واقعات روزانہ کی بنیاد پر رونما ہو رہے ہیں۔ جو یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ بے حیائی کے موجودہ ماحول میں نوجوانوں کی شادی میں عجلت کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ گناہوں سے بچنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔
شہر حیدرآباد کے پولیس اسٹیشن افضل گنج کے حدود میں 16؍ جون کو خاتون پولیس کے خصوصی دستے SHE ٹیم نے 27 سال کے ایک مسلم نوجوان کو باضابطہ ثبوت کے ساتھ گرفتار کرلیا۔ حیدرآباد سٹی پولیس کی جانب سے 17؍ جون کو جاری کردہ پریس نوٹ کے مطابق افضل گنج بس اسٹاپ پر شی پولیس کی ٹیم نے ایرہ گڈہ کے رہنے والے 27 سالہ خانگی ملازم مسلم نوجوان کو اس وقت گرفتار کرلیا جب وہ بس اسٹاپ پر کھڑی لڑکیوں اور خواتین کو ہراساں کر رہا تھا۔ پولیس نے ملزم کی ان حرکات کی خفیہ طریقہ سے باضابطہ ریکارڈنگ کر کے اسے گرفتار کرلیا اور اسے پانچویں اسپیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کردیا جہاں پر عدالت نے اس نوجوان کو پانچ دن کی قید کی سزاء تجویز کر کے جیل بھیج دیا۔
قارئین ذرا غور کیجئے۔ ہمارے اطراف و اکناف میں نوجوانوں کی شادیاں کن کن وجوہات اور اسباب سے تاخیر کا شکار ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف میڈیا میں جرائم کی خبروں کا جائزہ لیجئے۔
21؍ جون کو شہر کے اخبارات نے ایک نابالغ لڑکی کے اغواء اور پھر جنسی استحصال کے الزام میں 3 نوجوانوں گرفتار کرنے کی خبر شائع کی اور سب سے تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ نابالغ لڑکی کو اغواء کرنے والوں میں جو 3 نوجوان شامل تھے ان میں ایک ملزم بھی نابالغ ہے۔
یعنی ہمارے سماج کی عملی صورت حال تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں بچے قانونی بلوغت کی عمر سے پہلے ہی جنسی طور پر فعال ہوتے جارہے ہیں اور ہم لوگ بچوں کو نکاح کی ڈوری میں باندھنے کے بجائے اس بات کے انتظار میں ہیں کہ کب ہمارے بچے اپنے پیروں پر کھڑے ہوں گے، کب ہمارے گھر کی لڑکیوں کی شادیاں ہوجائیں گی۔ کب ہم اپنا ذاتی گھر خرید لیں گے، کب ہم حج و عمرے سے فارغ ہوجائیں تو بچے کی شادی کردیں۔
مذہب اسلام نے مسلمان مردوں کو چار نکاح کرنے کی اجازت دیتے ہوئے گناہ پر چلنے کے تمام راستوں کو مسدود کردیا تھا۔ لیکن آج ہندوستان میں اسی مسلمان طبقے کے نوجوان جنسی جرائم کی پاداش میں گرفتار کیے جارہے ہیں۔ اور مختلف مقدمات کا سامنا کرنے کے علاوہ عدالتوں میں سزاء سنائے جانے کے بعد جیلوں میں سزائیں بھگت رہے ہیں۔
اور مسلم سماج کے دانشور اور قائدین اس مسئلے سے آنکھیں موڑ کر تصور کر رہے ہیں کہ وقت پر بچوں کی شادی کا مسئلہ کوئی اہم نہیں ہے۔ علماء حضرات لڑکیوں کی شادی میں تاخیر پر تو لب کشائی کرلیتے ہیں مگر لڑکوں کی شادی میں تاخیر اور لڑکوں کی شادی کے لیے صحیح عمر کے موضوع پر کبھی غور ہی نہیں کیا جاتا۔ اس کے علاوہ اردو میڈیا مسلمانوں کے ایسے جرائم کی پردہ پوشی کرتے ہوئے انہیں بلیک آئوٹ کر کے یہ سمجھنے لگتا ہے کہ انہوں نے بڑی بلکہ بہت بڑی خدمت کی ہے اور اس طرح سے مسائل حل ہونے والے نہیں ہیں۔
لڑکی ہو یا لڑکا ان کے نکاح کو آسان بنانا ضروری ہے اور آسان بنانے کی بڑی آسان ترکیب تو یہ ہے کہ ان محافل میں مہمانوں کی تعداد محدود اور اخراجات کو کم کرنا از حد ضروری ہے۔ ورنہ تقاریر ہوں یا جلسے سمینار ہوں یا مقالے لکھنا، ان سے سماجی مسائل حل ہونے والے نہیں۔ عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور یہ کام ہم میں سے ہر ایک کو کرنا ہوگا۔ انشاء اللہ یہی ہمارے نیکی کی سمت سفر کا آغاز ہوگا۔
اگر روز محشر بھی ہمارے نوجوانوں سے پوچھا جائے کہ گناہوں میں کیوں ملوث ہوئے تو کہیں ان کا جواب ہمارے لیے پکڑ کا باعث نہ بن جائے کہ ائے خالق دوجہاں ہم تو گناہوں سے بچنا چاہتے تھے مگر ہمارے والدین شادیاں کرنے میں تاخیر کردیتے تھے۔ اللہ رب العزت سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں اور ہمارے نوجوانوں کو دونوں جہانوں کی رسوائی سے بچا اور روزِ محشر کی پکڑ سے ہماری حفاظت فرما۔ آمین یارب العالمین۔
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)۔sarwari829@yahoo.com

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button