نان ویج غذا استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ: ہیلت سروے

بہرحال صنفی لحاظ سے دیکھا جائے تو 15-49 سال کی عمر کی خواتین جنہوں نے پہلے کبھی مچھلی، مرغی یا گوشت کا استعمال نہیں کیا تھا، ان کی تعداد 2015-16 میں 29.9 فیصد تھی، جو 2019-21 میں قدرے گھٹ کر 29.4 فیصد ہوگئی۔

نئی دہلی: ملک میں اکثر ویجیٹیرین / نان ویجیٹیرین کے مسئلہ پر  بحث ہوتی ہے۔اس مسئلہ پر ایک سروے کی روشنی میں تازہ حقائق پیش کیے جاتے ہیں۔ اخبار انڈین اکسپریس کے نیشنل فیملی ہیلت سروے (این ایف ایچایس5) کے اعداد و شمار کے تجزیہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے کے مقابلہ میں اب زیادہ لوگ نان ویجیٹیرین غذا استعمال کررہے ہیں

 اور گذشتہ 6 برسوں  2015-16 اور 2019-21 کے دوران نان ویج غذا استعمال کرنے والے ہندوستانیوں کے تناسب میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ این ایف ایچ ایس۔ 5 کے اعداد و شمار کے مطابق جو 2019-21ء میں منعقد کیا گیا تھا، ظاہر ہوتا ہے کہ 15-49 سال کی عمر کے مرد جنہوں نے پہلے کبھی نان ویج غذا جیسے مچھلی، مرغی یا گوشت کا استعمال نہیں کیا تھا2019-21ء میں ان کی تعداد 16.6 فیصد تھی۔

پچھلے سروے این ایف ایچ ایس۔ 4 جو 2015-16ء میں کیا گیا تھا، اس میں ایسے افراد کی تعداد 21.6 فیصد تھی۔ پچھلے سروے کے مقابل حالیہ سروے میں ایسے افراد کی تعداد میں 5 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ بہرحال صنفی لحاظ سے دیکھا جائے تو 15-49 سال کی عمر کی خواتین جنہوں نے پہلے کبھی مچھلی، مرغی یا گوشت کا استعمال نہیں کیا تھا، ان کی تعداد 2015-16 میں 29.9 فیصد تھی، جو 2019-21 میں قدرے گھٹ کر 29.4 فیصد ہوگئی۔

 این ایف ایچ ایس۔ 4 کے مطابق 15 تا 49 عمر کے 78.4 فیصد مرد اور 70 فیصد خواتین یومیہ، ہفتہ واری یا کبھی کبھار نان ویج غذا کا استعمال کرتی تھیں، تاہم موجودہ سروے کے مطابق 83.4 فیصد مرد اور 70.6 فیصد خواتین اب یومیہ، ہفتہ واری یا کبھی کبھار نان ویج غذا کا استعمال کررہی ہیں۔

 ہفتہ واری گوشت کھانے والوں کے تناسب میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ این ایف ایچ ایس۔ 5 کے مطابق 2015-16 میں 48.9 فیصد مرد اور 42.8 فیصد خواتین ہفتہ میں ایک مرتبہ مچھلی مرغی یا گوشت کا استعمال کرتی تھیں، اب ان کی تعداد بڑھ کر بالترتیب 57.3 اور 45.1 فیصد ہوگئی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button