نصاب سے مغل حکمرانوں کا تذکرہ حذف کرنے کی ہدایت دی جائے

عدالت میں این سی ای آر ٹی کے نصاب میں تاریخ کے ایک سبق کے خلاف درخواست کی سماعت ہورہی تھی جس میں مغل حکمرانوں کی جانب سے مندروں کی مرمت کے لئے رعایت دیئے جانے کا ذکر ہے۔

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے چہارشنبہ 15 دسمبر کو مفادِ عامہ کی فضول درخواستیں داخل کرنے پر ناراضگی ظاہر کی۔

عدالت میں این سی ای آر ٹی کے نصاب میں تاریخ کے ایک سبق کے خلاف درخواست کی سماعت ہورہی تھی جس میں مغل حکمرانوں کی جانب سے مندروں کی مرمت کے لئے رعایت دیئے جانے کا ذکر ہے۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ ہم حکومت کی موجودہ پالیسیوں کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں اور آپ شاہجہاں اور اورنگ زیب کی بعض پالیسیوں میں غلطیوں کی نشاندہی کررہے ہیں۔

چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس جیوتی سنگھ پر مشتمل بنچ نے کہا کہ یہ عدالت کے وقت کے ضیاع ہے۔ اس قسم کی مفاد ِ عامہ کی درخواستیں صرف دہلی ہائی کورٹ میں داخل کی جاتی ہیں۔ عوام سمجھتے ہیں کہ ہائی کورٹ کے پاس کافی وقت ہے۔

عدالت نے درخواست گزاروں پر جرمانہ عائد کرنے سے گریز کیا کیونکہ انہوں نے درخواست واپس لینے سے اتفاق کرلیا تھا۔ جاریہ سال کے اوائل میں این سی ای آر ٹی میں داخل کی گئی آر ٹی آئی کی درخواست کے ذریعہ دریافت کیا گیا تھا کہ ان معلومات کا کیا ذریعہ ہے اور اورنگ زیب و شاہجہاں نے کتنے مندروں کی مرمت کرائی تھی۔

این سی ای آر ٹی نے جواب میں کہا تھا کہ اس کی فائلوں میں یہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ علیحدہ اطلاع کے بموجب ججس نے کہا ”آپ کا یہ کہنا ہے کہ مندروں کی تعمیر کے لئے رقومات منظور کرنے شاہجہاں اور اورنگ زیب کی کوئی پالیسی نہیں تھی۔

ہم مرکز اور ریاستی حکومتوں کی موجودہ پالیسیوں کے بارے میں فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں اور آپ شاہجہاں اور اورنگ زیب کی بعض پالیسیوں کے بارے میں بات کررہے ہیں۔

کیا ہائی کورٹ اس پر فیصلہ کرے گا۔ عدالت نے کہا کہ مفادِ عامہ کی درخواستیں اکثر و بیشتر داخل کی جارہی ہیں اور درخواست گزار پی آئی ایل کے چمپئن ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ ٹیکس چوری سے متعلق درخواستیں داخل کریں۔

ذریعہ
ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button