نفرت بھڑکانے والی تقاریر پر نظر رکھی جائے گی : چیف الیکشن کمشنر

الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ٹیم‘ اسمبلی الیکشن کی تیاریوں کا جائزہ لینے گوا آئی ہوئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ تمام پولنگ اسٹیشنس سے ویب کاسٹ ہوگا۔

پنجی: چیف الیکشن کمشنر سشیل چندر نے چہارشنبہ کے دن خبردار کیا کہ 2022 کے گوا اسمبلی الیکشن کی مہم کے دوران نفرت بھڑکانے والی تقاریر برداشت نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سوشیل میڈیا فیڈس پر پابندی سے نظر رکھی جائے گی۔

نفرت بھڑکانے والی تقاریر کے کیس میں کارروائی ہوگی۔ انہوں نے پنجی میں چہارشنبہ کے دن پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم ایسی کوئی تقریر نہیں چاہتے جس سے ماحول خراب ہوتا ہو۔ سوشیل میڈیا کی نگرانی کی جائے گی اور مناسب کارروائی ہوگی۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ٹیم‘ اسمبلی الیکشن کی تیاریوں کا جائزہ لینے گوا آئی ہوئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ تمام پولنگ اسٹیشنس سے ویب کاسٹ ہوگا۔ پہلی مرتبہ ہم ویب کاسٹنگ شروع کرنے جارہے ہیں تاکہ بوتھ پر اُسی وقت نظر رکھی جاسکے۔ الیکشن عہدیدار کتنا غیرجانبدار ہے اس کی بھی نگرانی ہوسکے گی۔

مانیٹرنگ کے دوران کوئی بھی غیرمطلوب شخص بوتھ کے اندر پایا گیا تو اس کا فوری پتہ چل جائے گا۔ سشیل چندر نے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور سرکاری عہدیداروں سے بات چیت کی۔گوا کی موجودہ اسمبلی کی میعاد 15 مارچ 2022کو ختم ہوجائے گی اور اس تاریخ سے قبل 40 حلقوں میں الیکشن کرانا ضروری ہے۔

39 حلقے عام زمرہ کے ہیں اور ایک حلقہ درج فہرست ذات(ایس سی) کے لئے محفوظ ہے۔ پی ٹی آئی کے بموجب الیکشن کمیشن آف انڈیا نے چہارشنبہ کے دن کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے امیدواروں کا مجرمانہ پس منظر اخبارات‘ ٹی وی چیانلس اور اپنی ویب سائٹس پر دکھان ہوگا۔

چیف الیکشن کمشنر سشیل چندر نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ انہوں نے مجرمانہ پس منظر کے حامل امیدوار کو کیوں چنا۔ صاف ستھرا امیدوار انہیں کیوں نہیں مل سکا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے 80 سال سے زائد عمر کے افراد کو اپنے گھر سے ووٹ دینے کی سہولت متعارف کرائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سہولت اختیاری ہوگی۔ گوا میں 30 ہزار سے زائد افراد کی عمر 80 سال سے زائد ہے۔ گھر میں ووٹ ڈالنے کے دوران ویڈیوگرافی کی جائے گی اور اس ووٹ کو سیکریٹ بیالٹ میں رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گوا میں ووٹنگ کا تناسب ہمیشہ زیادہ رہتا ہے۔ 2017 کے اسمبلی الیکشن میں 81.21 فیصد اور 2012 میں 82.25 فیصد رائے دہی ہوئی تھی۔

ریاست میں رائے دہندوں کی جملہ تعداد 11.56 لاکھ ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ تقریباً 100 پولنگ اسٹیشنس ایسے ہوں گے جنہیں خاتون عملہ چلائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات بل منظور ہوچکا ہے لیکن فہرست ِ رائے دہندگان سے کسی کا بھی نام نہیں کاٹا جائے گا۔ آدھار کوووٹر آئی ڈی سے لنک کرنے کی ایک خاص وجہ ہے۔ اس سے انتخابی فہرستیں صاف ستھری ہوجائیں گی۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button