نفرت کے سوداگر سری لنکا کی تباہی سے سبق حاصل کریں:مولانا ارشدمدنی

مولانامدنی نے انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ نفرت سے ملک تباہ وبربادہوجائے گا، پڑوسی ملک سری لنکا کو نفرت ہی کی سیاست نے بربادکیا ہے، نفرت کے سوداگروں کو سری لنکاسے سبق حاصل کرنا چاہئے۔

نئی دہلی: ملک کے موجودہ حالات کے پس منظرمیں جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ ہندوستان میں صدیوں سے مختلف مذاہب کے لوگ مل جل کر رہتے آئے ہیں، شہرہی نہیں گاؤں درگاؤں کہیں بھی جاکردیکھیں وہاں ہندواورمسلمان دونوں مل جل کر رہتے ہیں۔

مگربراہوفرقہ پرست ذہنیت کا، انہوں نے آج اپنی پرانی تاریخ کو آگ لگادینے کی ٹھان لی ہے۔یہ بات انہوں نے مہاراشٹر کے سیلاب سے تباہ حال علاقہ مہاڈ میں جمعیۃ کی طرف سے بنائے گئے مکانات کی چابیاں تقسیم کرتے ہوئے کہی۔

مولانامدنی نے انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ نفرت سے ملک تباہ وبربادہوجائے گا، پڑوسی ملک سری لنکا کو نفرت ہی کی سیاست نے بربادکیا ہے، نفرت کے سوداگروں کو سری لنکاسے سبق حاصل کرنا چاہئے۔

ہم یہ باتیں اس لئے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اپنے ملک سے محبت ہے اورہم اسے سرسبزوشاداب اورپھلتاپھولتاہوادیکھناچاہتے ہیں، مولانا مدنی نے دہلی میں میڈیاکے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ فرقہ پرست عناصر اور ملک کا متعصب میڈ یا دونوں مل کر ملک کے امن واتحاداوریہاں کی صدیوں پرانی روایت سے جو خطرناک کھلواڑکررہے ہیں اس نے ملک بھر میں ایک بارپھر منافرت کی خلیج کو بہت گہراکردیاہے۔

انہوں نے گیان والی مسجد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سروے میں کسی چیز کے برآمد ہونے کی خبر آئی بس پھر کیا تھا میڈ یا نے یکطرفہ شرانگیز مہم شروع کر دی، اور جو کام عدلیہ کا ہوتا ہے وہ خود کرنے لگا۔

مولانا مدنی نے کہا کہ ہم لگا تار یہ بات کہتے آئے ہیں کہ ان کی پشت پر اقتدار میں بیٹھے بعض طاقتورلوگوں کا ہاتھ ہے اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ میڈیا کو نہ تو ملک کے قانون ووقار کی کوئی پرواہ ہے نہ ہی عدلیہ کا کوئی خوف اور ڈر۔

میڈیا کی شرانگیزیوں پر لگام دینے کے غرض سے ہی جمعیہ علماء ہند نے 6 اپریل 2020 میں سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی تھی، اب تک تیرہ سماعتیں ہو چکی ہیں مگر ہر بارکسی نہ کسی وجہ اس پر حتمی بحث نہیں ہو پاتی۔

تبصرہ کریں

Back to top button