نمبر صحیح ہونا چاہیے

یوسف ناظم

شادی کو آدمی کا اختیاری فعل سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ اختیاری سے زیادہ اضطراری عمل ہوتا ہے۔ اسے فعل کہنا ایک لحاظ سے زیادتی ہی ہے۔ یہ ایک حرکت ہے جو چند مخصوص لوگوں میں آہستہ آہستہ عادت کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور مشکل ہی سے چھوٹتی ہے اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ایک لمبے عرصے تک اپنے ہوش و حواس کو قابو میں رکھتے ہیں اور آخر عمر تک شادی نہیں کرتے لیکن آخرکار بیٹھتے ہیں (آخر عمر میں آدمی عام طور پر رفاہی کاموں کی طرف راغب ہوجاتا ہے۔)
دنیا میں شادی کا طریقہ اس لیے رائج کیا گیا تھا کہ سوسائٹی کے معائب کو محاسن میں تبدیل کیا جاسکے اور بہت ممکن تھا کہ شادی کے انسٹی ٹیوشن کا یہ مقصد پورا بھی ہو جاتا لیکن آدمی کی روشن خیالی کی وجہ سے خود معائب کا تصور بدل گیا اور انھیں بھی محاسن کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ شادی کے بعد آتشزنی اور خود سوزی کے بے شمار واقعات اس کا ثبوت ہیں۔ شادی کو خودکشی کا ایک مہذب پیرایہ بھی مانا گیا ہے لیکن اس میں قباحت یہ ہے کہ پتہ نہیں چلتا کہ خودکشی ہے کس فریق کی۔ دونوں فریق چونکہ بے حد شائستہ ہوتے ہیں اس لئے دونوں میں سے کوئی بھی اُف تک نہیں کرتا۔
خودکشی بہرحال جاری رہتی ہے۔ شادی ایک بہت ہی قدیم طریقہ زندگی ہے (جب تک سانس کی آمد و شد برقرار ہے اسے زندگی ہی کہا جائے گا) لیکن اس طریقہ زندگی کو دلچسپ اور عصری بنانے کے لیے اس میں کچھ اضافے کئے جارہے ہیں جن میں سے کچھ افسانے واقعی دلکش ہیں۔ والدین کی پسند کی شادیاں اب ناپسند کی جانے لگی ہیں (ان میں رکھا بھی کیاہے) نوجوان اپنا کام خود نپٹانے لگے ہیں، ورنہ اپنے قدموں پر کھڑے رہنے کا فائدہ کیا ہے۔ ان شادیوں میں گر جی چاہے تو ان کے پسماندہ والدین بھی شریک ہو سکتے ہیں اور ان کے لائے ہوئے تحفے بھی قبول کیے جاسکتے ہیں۔ بشرطیکہ قیمتی ہوں اور عام مہمانوں کی طرح قطار میں کھڑے رہ کر اپنی باری آنے پر پیش کیے جائیں۔
کچھ والدین ایسی شادیوں میں موقع واردات پر موجود رہنا پسند نہیں کرتے۔ لوگ عروس، نوشاہ سے زیادہ ان کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں، یعنی تو انگلیاں بھی اٹھاتے ہیں حالانکہ انھیں اس موقع پر صرف آئس کریم سے مطلب رکھنا چاہیے۔
شادیوں کے موقع پر گواہ اور وکیل ضرور ہوتے ہیں، لیکن منصف کوئی نہیں ہوتا، کوئی حرج نہیں، منصف حقیقی تو دیکھتا ہی ہے۔ شادیاں اب قاضیوں، پنڈتوں اور پجاریوں کی محتاج نہیں رہیں، ایک عام شخص جسے رجسٹرار کہا جاتا ہے، یہ کام انجام دے سکتا ہے۔ اسے سول میرج کا نام دیاجاتا ہے اور کسی قطعہ زمین کی طرح اس شادی کی بھی رجسٹری ہوسکتی ہے۔
رجسٹرار وہ تنہا سرکاری عہدیدار ہے جو کرسی چھوڑ کر کھڑا ہوتا ہے اور مبارکباد پیش کرتا ہے۔ عوام کی ایسی عزت کسی دوسرے دفتر میں نہیں کی جاتی (در پردہ عزت کی بات اور ہے کیونکہ اس کی وجہ اور ہے) سول میرج صرف غیر فوجیوں کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ فوجی لوگ بھی اسے استعمال کرسکتے ہیں۔ انھیں بھی آخر اس قسم کی ضرورتیں پیش آسکتی ہیں۔ سول میرج میں بس ایک ہی خرابی ہے کہ کئی مہینے پہلے فریقین کے ناموں کو باضابطہ مشتہر کردیا جاتا ہے بلکہ عوام سے عذرات اور اعتراضات طلب کیے جاتے ہیں۔ شادی نہیں ہوئی مسودہ قانون ہوگیا۔ یہ شادی اسی وقت ہو سکتی ہے جب میدان صاف ہو۔
سول میرج میں نوشاہ و عروس ایک بندھے ٹکے اور سائنٹفک طریقے کے پابند ہوتے ہیں۔ کمرہ عدالت میں نہ تو پھیرے لگائے جا سکتے ہیں نہ بادام چھواروں کی بارش ہوسکتی ہے لیکن ان پہلی قسم والی شادیوں میں ہر قسم کے کرتب آزمائے جا سکتے ہیں۔ اکثر شادیوں میں نوشاہ کو گھوڑے پر بیٹھنا پڑتا ہے۔ نوشاہ تو اس معاملے میں بھی نومشق ہوتا ہے، لیکن گھوڑا کافی سدھایا ہوا ہوتا ہے، اسے باضابطہ رقص کی مشق کرائی جاتی ہے۔
ایسے ماہر رقص گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر کسی نوشاہ کا صحیح و سالم حالت میں منزل پر پہنچنا کافی کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔
نوشاہ کی مدد کے لیے نوشاہ کے بھائیوں میں سے کسی ایک بھائی کو گھوڑے کے بالکل قریب بلکہ شانہ بہ شانہ رکھا جاتا ہے، ایسے موقعوں پر کسی غیرپر بھروسا نہیں کیا جاسکتا۔ نوشاہ کا چہرہ پھولوں سے ڈھکا ہوتا ہے اور اسے کچھ پتہ نہیں چلتا کہ اسے کہاں لے جایا جارہا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک خنجر بھی تھمایا جاتا ہے لیکن آج تک کسی نوشاہ کو یہ نہیں بتایا گیا کہ اس خنجر کا مصرف کیا ہے اور نہ کسی نوشاہ کی جرات ہوئی کہ وہ اس کی تاریخ یا اس کے اسباب وعلل دریافت کرتا۔ اس خنجر سے گھوڑے کو بہرحال کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔
نوشاہ کو شادی کے پنڈال میں پیدل چلنے کی اجازت بھی نہیں دی جاسکتی۔ اسے گود میں اٹھاکر نہایت احتیاط سے مسند شادی پر رکھا جاتا ہے، اس کے جوتے کسی ایسی جگہ رکھ دیئے جاتے ہیں جہاں سے غنیم انھیں آسانی سے چرا سکتا ہے (اکثر نوشاہ اب جوتوں کی ایک فاضل جوڑ ساتھ لے جاتے ہیں) کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دولہے کو دروازے ہی پر روک دیتے ہیں اور جب تک انھیں معقول انعام واکرام سے نوازا نہیں جاتا، وہ دولہے کو اندر داخل نہیں ہوتے دیتے۔ یہ سب ترکیبیں اصل میں اس لیے رو بہ عمل لائی جاتی ہیں کہ دولہا کسی طرح اپنے ارادے سے باز آجائے لیکن دولہے کی آنکھوں پر تو پھولوں کا پردہ پڑا ہوتا ہے۔ گھوڑے کے رقص کا مطلب بھی بہت دیر سے اس کی سمجھ میں آتا ہے۔
کچھ شادیاں کمرہ عدالت میں نہیں، حجرہ ولادت میں طے پاتی ہیں۔ ادھر نرس نے کمرے سے باہر آکر اطلاع دی نہیں کہ مبارک ہو بیٹی پیدا ہوئی ہے کہ نومولود بچی کی خالہ اسے اپنے چار سالہ فرزند دلبند کے لیے مانگ لیتی ہیں۔ دادا دادی یا نانا نانی مسکراکر ہاں کہہ دیتے ہیں۔ اس بیعنامہ کے بعد سارے رشتہ دار، ماں اور بچی کی خیریت پوچھتے اور دعا کرتے ہیں کہ کم سے کم نومولود بچی اپنی شادی کی عمر تک بقید حیات رہے۔ کچھ خاندانوں میں تو بچے اپنی ولادت سے پہلے ہی تقسیم کرلیے جاتے ہیں اور کوئی ہونے والے نواسے کو اس لیے مانگ لیتی ہے کہ آئندہ جب ان کے خاندان میں کسی کے ہاں بیٹی پیدا ہوگی تو یہ نواسا مناسب وقت پر اس کے کام آئے گا۔
کچھ ملکوں میں پسند کی شادیاں صرف اس لیے کی جاتی ہیں کہ دونوں فریقین کو اب اس کے سوا اور کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ بعض شادیوں میں شادی شدہ جوڑے آپس میں کبھی کسی بات پر مشورہ نہیں کرتے اور کرتے ہیں تو صرف طلاق کے مسئلہ پر ٹھنڈے دل سے۔ وہ طلاق کے کاغذات پر بھی اسی خوش دلی کے ساتھ دستخط کرتے ہیں جو خوش دلی کے ساتھ انھوں نے اپنے نکاح نامہ پر دستخط کئے تھے، بچے اگر ہوں تو برابر برابر تعداد میں تقسیم کرلیے جاتے ہیں، نہ ہوں تو ایک دوسرے کو آئندہ کامیاب ہونے کی دعا کرتے ہیں اور موقع ملتا ہے تو آٹھ دس سال کے وقفہ اور تبدیل ذائقہ کے بعد ازسر نو ایک دوسرے سے عقد کرلیتے ہیں۔ یہ عقد بھی کورٹ میں انجام پاتا ہے اور اس وقت تک ان کے اپنے بچے بھی کورٹ شپ کے قابل ہوجاتے ہیں۔ بچے اپنے حقیقی والدین کو دوبارہ رشتہ ازدواج میں بندھتا دیکھ کر سوچتے ہیں کہ کیا دنیا واقعی اتنی ہی تنگ ہے۔
بعض ملک ایسے بھی ہیں جہاں شادیوں کا زیادہ رواج نہیں ہے لیکن ملک کی آبادی میں بہرحال اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اکثر صورتوں میں بچوں کے اصرار پر والدین شادی کرلیتے ہیں۔ شادی کا خرچ بچوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے (والدین کو کیا پڑی کہ وہ ایسی فضول رسموں پر پیسہ خرچ کریں۔) ان شادیوں کے ناکام ہونے کا کوئی ڈر نہیں ہوتا کیونکہ اب وقت ہی کتنا رہ جاتا ہے۔
کامیاب شادیاں وہ بھی ہوتی ہیں جن میں ایک فریق دوسرے فریق کے خرچ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے بلاد یوروپ کے سفر پر جاتا ہے اور شاذ و نادر ہی واپس آتا ہے۔ وہاں کی صہبا اسے اتنی بے ذوق نہیں معلوم ہوتی جتنی کہ کہی جاتی ہے، وہ اگر واپس بھی آتا ہے تو تنہا نہیں آتا۔ عصری شادیوں میں دولہا دلہن کا آمنے سامنے رہنا تو ایک طرف ایک ہی ملک میں رہنا بھی ضروری نہیں۔ ٹیلی فون پر بھی یہ کام ہوسکتا ہے بس شرط یہ ہے کہ رانگ نمبر نہیں لگنا چاہیے۔ سماعی شادی میں فون نمبر اور آنکھوں دیکھی شادی میں عینک کا نمبر صحیح ہونا چاہیے۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button