نواب ملک جیسے لیڈروں کی ضرورت ہے!

صوفی انیس دُرّانی (دہلی)

مہاراشٹرریاست کی موجودہ مخلوط حکومت مرکزی حکومت کے گلے کی ہڈی بن چکی ہے جسے وہ نہ اُگل سکتے نہ نگل سکتے ہیں۔ پہلے بنگال میں ممتابنرجی کی حکومت نے بھاجپا کو زمین چٹائی تھی، اب وہی منظر دوبارہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ اقتدار اور ہندوتوا کے نشہ میں سرمست بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت نے تمام وفاقی حدود اور روایات کو تہہ وبالا کرکے رکھ دیا ہے۔ کوئی ایسی غیر کانگریسی حکومت نہیں بچی ہے جہاں انھوں نے ممبران اسمبلی کی خرید وفروخت کرکے اپنی لولی لنگڑی سرکار نہ بنالی ہو، لیکن ابھی جب سالِ گزشتہ بنگال اسمبلی کے لےے انتخابات ہوئے تواس سے نہ صرف ممتا بنرجی ایک قومی حیثیت کی رہنما بن کر ابھریںبلکہ اپنی ریاست بنگال میں میں پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہوگئیں۔ حالانکہ بھاجپا نے الیکشن کے دوران وہاں سام دام دنڈبھید ہرحربے کا استعمال کیاتھا۔ مگر منہ کی کھائی۔ لیکن بھاجپا کی قیادت اس قدر چکنا گھڑا ہے کہ وہ کسی بھی بے عزتی کو نہایت بے شرمی کے ساتھ پی جاتی ہے، اور پھرنئے نئے حربے استعمال کرنے لگتی ہے۔ مہاراشٹر میں اقلیتی امور کے وزیر نواب ملک کی گرفتاری نے ایک بار پھر بھاجپاکی قیادت کو رسوا کردیا ہے۔ نواب ملک کو میں اس وقت سے جانتاہوں جب وہ مہاراشٹر حج کمیٹی کے سربراہ تھے۔ راقم الحروف اس وقت دہلی حج کمیٹی کا جوائنٹ سکریٹری تھا ۔ان سے بیشتر ملاقاتیں اس وقت ہی ہوتی تھیں جب ممبئی میں تمام صوبائی حج کمیٹیوں کی مشترکہ میٹنگ ہوتی تھی۔ وہ اس وقت بھی بہت دبنگ اور صاف گو تھے اور ہم بھی بے باک اور منہ پھٹ تھے، اس لےے ان سے ہر میٹنگ میں گرم جوشی کے ساتھ ملاقات ہوتی تھی۔ تادم تحریر وہ بھلے ہی جیل میں ہوں، مگر انھوں نے بھاجپا کی ریاستی اور مرکزی قیادت کے منہ پر کالک پوت دی ہے۔ عرصہ دراز سے مرکزی حکومت نے سماجی کارکنوں، علمائے کرام، صنعت کاروں عوامی خدمت گارتنظیموں پر جو بین الاقوامی عطیات کے تحت سماجی کام کرتی ہیں، ان پر کنٹرول کرنے کے لےے (NCB)،انکم ٹیکس، نیشنل نارکوٹک بورڈ اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ED)کے کئی اداروں کا ناجائز استعمال کرتی رہی ہے۔ جیسے ہی کسی فرد یا تنظیم نے زبان کھولی اوراحتجاج کیا فوراً ہی وزارت داخلہ سے اس کی فائل کو نکال کرکارروائی شروع کردی جاتی ہے۔ بھلے ہی کچھ ثابت نہ ہوسکے گا۔ مگران ایجنسیوں کے چھاپے سے اس فرد اور تنظیم کی عزت مٹی میں مل جاتی ہے ۔ حکومت کے اس روےے اور طریقہ کار کا پول کھولنے کا سہرا نواب ملک کے سرجاتاہے۔
نواب ملک اور مہاراشٹر کے سابق وزیراعلیٰ دیو۶یندر پھڈنویس کے درمیان تلخ تعلقات توایک زمانے سے ہیں۔ دراصل بھاجپا کے سابق وزیر اعلیٰ نے ۲۰۱۹ءکے اسمبلی انتخابات میں ۱۰۵ نشستیں جیتی تھیں اور شیوسینا نے ۵۶ نشستیں جیتی تھیں۔ الیکشن کے بعد پھڈنویس کی نیت بدل گئی انہوں نے شیوسینا کے سربراہ اودھوٹھاکرے کے بجائے خود وزیراعلیٰ بننے کا اعلان کردیا۔ شیوسینا کے سربراہ نے اس بے ایمانی کے خلاف بھاجپا کو سرکار بنانے کے لےے تعاون دینے سے انکار کردیا ۔ پھڈنویس کی پشت پر امیت شاہ تھے۔ جنھیں پوری امید تھی کہ شیوسینا کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے، اس لےے وہ سرنگوں ہوجائیں گے، مگر نواب ملک، NCPکے سربراہ شردپوار سے مل کریہ تجویزرکھی کہ کیوں نہ شیوسینا شردپوار کی NCP اور کانگریس مل کر مخلوط سرکار بنالیں۔ شردپوار بھی چاہتے تھے کہ مہاراشٹر میں بھاجپا کی سرکارنہ بنے اور کانگریس بھی اس کے لےے فوراًآمادہ ہوگئی۔ ظاہرہے اس مخلوط حکومت کاوزیراعلیٰ اودھوٹھاکرے کوہی ہوناتھا۔ چنانچہ نواب ملک نے بھاجپا کی پکی پکائی ہنڈیا کو پھڈنویس کے سامنے سے اٹھاکر ادھو ٹھاکرے کے آگے رکھ دی۔ امیت شاہ اور پھڈنویس منہ دیکھتے رہ گئے۔ سابق وزیراعلیٰ پھڈنویس کی نواب ملک سے پنجہ آزمائی کی دوسری وجہ گزشتہ دنوں فلم اداکار شاہ رخ خاں کے فرزند آرین خاں کی گرفتاری تھی۔ امیت شاہ ایک زمانے سے اس فراق میں ہیں کہ کسی طرح عامر خاں ،سلمان خاں اور شاہ رخ خاں کو دباو¿ میں لے کر بھاجپا کی حمایت پرآمادہ کرلیا جائے۔ اس خفیہ مشن کاانچارج پھڈنویس کوبنایا گیاتھاچنانچہ شاہ رخ خاں کے کم عمر فرزند آرین خاں کو ان کے کسی دوست نے بحری جہاز پر منعقد پارٹی میں مدعو کیا اور پھر وہاں نارکوٹک کنڑول بیورو NCBنے چھاپہ مارکر کئی سولوگوں میں صرف آرین خاں اور ان کے دوستوں کو گرفتار کرلیا۔ نواب ملک نے آرین خاں کی حمایت کی ۔فوٹو اوردستاویزی ثبوت پیش کرکے سارے معاملے کا پول کھول دیا اور نارکوٹک کنڑول کو منہ کی کھانی پڑی۔ دریں اثناءنواب ملک نے بھاجپا کے کئی بڑے لیڈروں پر بھی سیاسی حملے کیے جو MVAکی مخلوط حکومت گرانے کے لےے سازشیں کرتے رہتے تھے۔
ظاہر ہے نواب ملک مہاراشٹر میں بھاجپا کے لےے لگاتار سردردی کا سبب بن گئے تھے اور بھاجپا ان کی زبان بند ی کے لےے کوشاں تھی۔ دس دن قبل انھوں نے سابق وزیر اعلیٰ پھڈنویس پر منشیات کے تاجروں کے ساتھ گہرے تعلقات کا الزام لگاتے ہوئے جیل میں بند جے دیپ رانا کے ساتھ ان کے اور ان کی اہلیہ کی تصویروں کو ٹویٹ کیا۔ پھڈنویس نے ان تصاویر کو سرکاری تقریب کے دوران کھینچی گئی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی جلد ہی نواب ملک کے داو¿د سے تعلقات کے ثبوت عوام کے سامنے لائیں گے۔ گزشتہ ہفتے پھڈنویس نے نواب ملک کی ایک جائیداد کے داو¿د کے رشتہ داروں سے خرید نے کے کاغذات عام کیے اور اس کی ایک کاپی انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کو بھی بھیجی۔ انہیں لے کر NCPنے کئی سوال اٹھائے ہیں۔ پھڈنویس جنھوںنے یہ کاغذات EDکو دیے ہیں وہ 2014سے 2019 تک خود مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ رہے ہیں۔ انھوںنے اپنے دور حکومت میں اس تعلق سے کوئی کارروائی کیوں نہیںکی جبکہ زمین کی خریداری کے معاملے کو بیس سال گزر چکے ہیں۔ یہ ایک عام سا خرید وفروخت کا مسئلہ تھا۔جوپاورآف اٹارنی کے اختیار کے معاملے کولے کرعدالت میں زیرسماعت تھا۔ اس میں کہیں کبھی کوئی دہشت گردی کامعاملہ شامل نہیں تھا۔ پھر اچانک بیس سال کے بعد اس میں دہشت گردی کیسے شامل ہوگئی؟
کرلامیں 1999-2003کے درمیانی وقفے میں نواب ملک کے خاندان نے یہ متنازعہ پلاٹ داو¿د ابراہیم کی بہن حسینہ پار کرسے ۵۵لاکھ میں خرید اتھا۔ بذر یعہ چیک پانچ لاکھ اورپچاس لاکھ روپئے نقد رقم حسینہ پارکرکو ادا کی گئی تھی۔ EDکا کہنا ہے کہ حسینہ پار کرکی پاورآف اٹارنی جعلی ہے جس میں زمین کو فروخت کرنے کے اختیارات حسینہ پار کرکے باڈی گارڈاور ڈرائیور سلیم پٹیل کو دےے گئے ہیں۔ EDکے مطابق یہ زمین منیرہ پلمبرکی تھی- نواب ملک نے جو رقم اداکی، وہ ہندوستان میں داو¿دابراہیم کے دہشت گردی کے جال کو مضبوط کرنے کے لےے دی گئی تھی۔ EDنے اس طرح نواب ملک کا تعلق داو¿دابراہیم سے جوڑدیا ہے۔ جب نواب ملک کو گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا تو EDکے وکیل انل سنگھ نے کہا کہ نواب ملک نے یہ زمین حقیقی مالک سے خریدنے کے بجائے حسینہ پار کرسے خریدی ہے اور ایک محدود شرائط والی پاورآف اٹارنی کی بنیا دپر جو غیر قانونی طورپر مالک سے حاصل کی گئی تھی۔ یہ سودا ہوا ہے جو ہرطرح سے غیر قانونی ہے اور صاف طورپر منی لارڈنگ کا کیس ہے۔ جوابی دلائل دیتے ہوئے نواب ملک کے وکیل امیت دیسائی نے کہا کہ ایک بیس سال سے چل رہے مقدمے میں اچانک دہشت گردی کو مالی امداد پہنچانے کا شک EDکی نیت کا پول کھولتاہے۔نواب ملک تیس سال سے عوامی خدمت کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ میں نہیں سمجھتا کہ عام لوگ ایک دہشت گردکو باربارووٹ دے کر جتانا چاہیں گے۔ یہ صریحاً میرے موکل کو سلاخوں کے پیچھے بند کرنے کی سازش ہے۔ یہ توصاف طورپر پاور آف اٹارنی کے نقلی یا اصلی ہونے کامقدمہ ہے جس میں میراموکل خودمظلوم ہے ۔ ایک ذمہ دار وزیر کو اس طرح سیاسی وعوامی زندگی سے دورکرنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے، البتہ تحقیقات جاری رکھی جاسکتی ہے۔ فی الحال نواب ملک پولیس کی حراست میں جے جے اسپتال ممبئی میں داخل ہیں لیکن دلچسپ با ت یہ ہے کہ عام روش کے برخلاف اب بھی کابینی وزیرہیں جن پر الزام لگایا گیا تھا اور ای ڈی والے انہیں پوچھ گچھ کے لیے لے گئے توفوراًہی شردپوار نے ممتا بنرجی وزیر اعلیٰ بنگال سے بات چیت کی ۔ممتا جی کے ایک وزیر کوبھیCBI نے گرفتار کرلیا تھا، لیکن انھوں نے وزیر کو کابینہ میں قائم رکھاتھا۔ ممتا جی سے مشورہ کے بعدشردپوارجی نے اعلان کردیا کہ نواب ملک کو وزیر کے عہدہ پرقائم رکھا جائے گا۔ علاوہ ازیں نواب ملک سے یک جہتی دکھانے کے لیے مخلوط حکومت کے اہم وزیروں اورلیڈروں نے ایک دن کا دھرنا بھی دیا۔ اگرچہ بھاجپا کی مرکزی حکومت کا مقصد ۲۰۲۴ کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے مہاراشٹر میں مخلوط حکومت کو ہٹاکر بھاجپا حکومت قائم کرنا ہے۔ مگر ذیلی طورپر صوبائی کشمکش کا تعلق ممبئی میونسپل کارپوریشن کے الیکشن سے بھی ہے جو کہ عنقریب ہونے والے ہیں۔میں نواب ملک کی صحت کے لئے دعا گوہوں اور امید کرتاہوں کہ دوسرے تمام مسلم لیڈربھی ان کی بے باکی سے کچھ سبق لیں گے۔
عام طورپر تمام صوبوںمیں جب کسی ایک مسلمان کو وزیر بنایا جاتاہے تواسے اقلیتی امور دے دیا جاتاہے، وقف دے دیا جاتاہے لیکن ان صوبوں میں جہاں کئی مسلمان وزیروں کی نامزدگی کی جاتی ہے، وہاں بھی انہیں معمولی محکمے ہی دیے جاتے ہیں اور ان کی صلاحیتوں کا پورا استعمال نہیں ہوپاتا، لیکن اگر مواقع ملیں توان کے جوہر کھلتے ہیں اوروہ دوسروں سے زیادہ بہترکارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال نواب ملک ہیں۔٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button