نواب ملک نے انڈر ورلڈکے ساتھ اراضی معاملتیں کیں: فڈنویس

فڈنویس نے دعویٰ کیا کہ کیرلا میں 2.8 ایکڑ کے پلاٹ کا تخمینہ 3 کروڑ تھا تاہم نواب ملک فیملی کی کمپنی نے اسے صرف 20 لاکھ روپے میں خریدا۔ پراپرٹی ڈیل 2003 میں شروع ہوئی اور 2007 میں مکمل ہوئی۔

ممبئی: قائد اپوزیشن مہاراشٹرا اسمبلی دیویندر فڈنویس نے منگل کے دن الزام عائد کیا کہ ریاستی وزیر نواب ملک اور ان کے ارکانِ خاندان کی ایک کمپنی نے مضافاتی علاقہ کرلا میں ایک زمین فرضی کاغذات کے ذریعہ نہایت کم دام پر 1993 ممبئی سلسلہ وار دھماکے کیس کے 2 خاطیوں سے خریدی تھی۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں فڈنویس نے دعویٰ کیا کہ ان دو خاطیوں میں ایک سلیم اسحٰق پٹیل ممبئی میں داؤد ابراہیم کی بہن حسینہ پارکر کے فرنٹ میان کے طورپر کام کرتا تھا۔

انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ نواب ملک اور ان کے اہل خانہ نے انڈر ورلڈ سے جڑے لوگوں کے ساتھ اراضی معاملتیں کیں۔ یہ پوچھنے پر کہ انہوں نے چیف منسٹر مہاراشٹرا (2014 تا 2019) رہنے کے دوران یہ انکشاف کیوں نہیں کیا‘ بی جے پی قائد نے جواب دیا کہ انہیں یہ جانکاری پہلے ہوتی تو پہلے ہی انکشاف کرچکے ہوتے۔ چند دن قبل نواب ملک بی جے پی کو ایک مبینہ نارکوٹک ڈیلر سے جوڑنے کی کوشش کی تھی۔

 انہوں نے سابق چیف منسٹر اور ان کی بیوی امرتا کے ساتھ اس ڈیلر کی تصویر ٹویٹ کی تھی۔ سابق چیف منسٹر نے اس وقت کہا تھا کہ وہ نواب ملک کے انڈر ورلڈ لنک کو دیوالی کے بعد بے نقاب کریں گے۔ وہ این سی پی قائد شردپوار کو بھی اس کا ثبوت دیں گے۔ فڈنویس نے کہا کہ نواب ملک اور ان کے ارکان خاندان اس کمپنی کا حصہ تھے جس نے فرضی کاغذات تیار کرتے ہوئے ممبئی کے کرلا علاقہ میں نہایت کم دام پر زمین خریدی تھی۔

 ایسی کم ازکم 4 اراضی معاملتیں ہیں جن میں میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ نواب ملک نے انڈر ورلڈ کے ساتھ ڈیلنگ کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سردار شاہ ولی خان اور سلیم اسحٰق پٹیل سے اراضی خریدی گئی جو 1993 ممبئی سلسلہ وار دھماکے کیس میں خاطی قرارپائے۔ بی جے پی قائد نے سوال کیا کہ نواب ملک جی آپ نے ممبئی کے شہریوں کو ہلاک کرنے والوں کے ساتھ بزنس کیوں کیا؟ 12 مارچ 1993 کو ممبئی بھر میں سلسلہ وار دھماکے ہوئے تھے۔ 257  افراد ہلاک اور لگ بھگ 1400 زخمی ہوئے تھے۔

 فڈنویس نے کہا کہ ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دو ملزمین نے نواب ملک کو زمین کیوں بیچی؟ یہ لوگ ٹاڈا کے تحت خاطی قرارپانے والے تھے اور ان کی جائیداد ضبطی کے بعد حکومت کے کنٹرول میں آنے والی تھی۔کیا نواب ملک نے پرائم لوکیشن پر واقع ایسی زمین کو ضبط ہونے سے بچانے ان کی مدد کی؟ قائد اپوزیشن نے دعویٰ کیا کہ نواب ملک کے لڑکے فراز ملک نے خان اور پٹیل کے ساتھ کرلا اراضی معاملت کے کاغذات پر دستخط کئے تھے۔

 فڈنویس نے دعویٰ کیا کہ کیرلا میں 2.8  ایکڑ کے پلاٹ کا تخمینہ 3 کروڑ تھا تاہم نواب ملک فیملی کی کمپنی نے اسے صرف 20 لاکھ روپے میں خریدا۔ پراپرٹی ڈیل 2003 میں شروع ہوئی اور 2007 میں مکمل ہوئی۔ معاملت سے عین قبل نواب ملک نے وزارت چھوڑدی تھی کیونکہ موظف جج پی بی ساونت کی رپورٹ میں ان پر انگلی اٹھی تھی۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ نواب ملک کو سلیم پٹیل اور اس کے مبینہ انڈر ورلڈکنکشن کی جانکاری نہ ہو۔

مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں پوچھنے پر فڈنویس نے کہا کہ وہ یہ کاغذات سی بی آئی‘ ای ڈی یا این آئی اے جیسے حکام کو دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چیف منسٹر مہاراشٹرا اُدھو ٹھاکرے اور گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو بھی یہ کاغذات سونپنے پر غور کررہے ہیں۔ نواب ملک‘ نارکوٹکس کنٹرول بیورو(این سی بی) کے زونل ڈائرکٹر سمیر وانکھیڈے کے خلاف مہم چھیڑے ہوئے ہیں۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button