نوجوانوں اور طلباء کو مفت لیاپ ٹاپس دینے اکھلیش یادو کا وعدہ

اکھلیش یادو نے کہاکہ پارٹی نے برسراقتدار آنے پر نوجوانوں اور طلباء کو بہترین معیاری لیاپ ٹاپس فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے گذشتہ مرتبہ لاکھوں لیاپ ٹاپس تقسیم کیے تھے۔

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے آج کہاکہ اگر اترپردیش میں ان کی پارٹی برسراقتدار آتی ہے تو ریاست کے نوجوانوں اور طلباء میں لیاپ ٹاپس تقسیم کیے جائیں گے۔ یادو نے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی کامیابی پر ہر گھر کو 300 یونٹ تک برقی مفت دینے کا اعلان ایک دن پہلے ہی کیا تھا۔ 

ایس پی سربراہ نے بی جے پی میڈیا سے سل کی جانب سے ان کی تصویریں سوشل میڈیا پر پیش کرنے پر سخت اعتراض کیا ہے، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کانپور کے عطر کے تاجر جن کے خلاف حال ہی میں محکمہ انکم ٹیکس نے دھاوے کیے ہیں، فرانس کے دورہ میں یادو کے ساتھ تھے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ ان کی پارٹی کا لیگل سل جھوٹا پروپگنڈہ کرنے پر بی جے پی کے آئی ٹی سیل انچارج کے خلاف ایف آئی آر درج کرائے گا۔

 انہوں نے یہاں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ پارٹی نے آب پاشی مقاصد کے لیے مفت برقی اور ہر گھر کو 300 یونٹ تک مفت برقی سربراہی کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی نے برسراقتدار آنے پر نوجوانوں اور طلباء کو بہترین معیاری لیاپ ٹاپس فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ہم نے گذشتہ مرتبہ لاکھوں لیاپ ٹاپس تقسیم کیے تھے اور انہیں حاصل کرنے والے ابھی بھی ان سے استفادہ کررہے ہیں اور اپنے روزگار کے لیے انہیں استعمال کررہے ہیں۔ ریاست کی یوگی آدتیہ ناتھ حکوت بھی نوجوانوں میں اسمارٹ فونس اور ٹیابلٹس تقسیم کررہی ہے۔

 ریاستی انتخابات قریب ہیں اور سیاسی جماعتیں رائے دہندوں کو راغب کرنے کئی وعدے کررہی ہیں۔ اکھلیش یادو نے پریس کانفرنس کے دوران تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے میری فرانس کی تصویر شیئر کی ہے اور کہا ہے کہ کانپور میں گرفتار کیے گئے عطر کے تاجر میرے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔

 سماج وادی پارٹی کا لیگل سل ان لوگوں کے خلاف یقیناا یف آئی آر درج کرائے گا۔ یادو نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی، آئی ٹی سل کے انچارج حکومت ہند اور حکومت اترپردیش کی مدد سے اور پیسہ کی خاطر جھوٹی باتیں پھیلا رہے ہیں۔ میں اپنی ڈیجیٹل سے کہوں گا کہ وہ بھی ان کی تصویر استعمال کریں اور عوام کو یہ بتائیں کہ وہ سب سے بڑے جھوٹے ہیں۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button