ٹاملناڈو میں نو مسلموں کی سرکاری ملازمتوں سے محرومی کی شکایت

جو ”نو مسلم“ کا آپشن منتخب کرتے ہیں انہیں پیغام وصول ہوتا ہے جس میں سرکاری حکم نامہ کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ انہیں ”دیگر“ (کھلے زمرے) میں تصور کیا جائے گا۔

چینائی: ٹامل ناڈو میں دیگر مذاہب کو ترک کرکے اسلام قبول کرنے والے مسلمانوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ٹامل ناڈو پبلک سرویس کمیشن (ٹی این پی ایس سی) کی سرکاری ملازمتوں میں تحفظات کے لیے ان پر غور نہیں کیا جاتا۔

فرقہ کے قائدین نے کہا کہ انہیں ”دیگر“ زمرہ میں ڈالا جاتا ہے جو ٹی این پی ایس سی کے مطابق سرکاری ملازمتوں کے لیے جنرل کوٹہ ہے۔ جبکہ پسماندہ طبقات کے افراد کے عیسائیت قبول کرنے کے باوجود انہیں پسماندہ طبقات سے وابستہ ہی تصور کیا جاتا ہے۔

رکن اسمبلی اور منی تانیا مکل کچی کے رکن ایم ایچ جواہر اللہ نے اس معاملے پر ریاستی وزیر فینانس پلانیویل تیاگ راجن کی توجہ مبذول کروائی۔

مدراس ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) جی ایم اکبر علی نے بھی ریاستی وزیر فینانس سے اس بے قاعدگی کو درست کرنے کی درخواست کی۔

سابق جج نے آئی اے این ایس سے کہا کہ اس بے قاعدگی کی اصلاح ہونی چاہیے۔ اسلام قبول کرنے والے افراد خود کو پسماندہ طبقہ کے مسلمانوں کے طور پر اندراج کرانے کے اہل ہونے چاہیے اور ہم صورت حال کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں مگر زمینی سطح پر کچھ نہیں ہورہا ہے۔

جو ”نو مسلم“ کا آپشن منتخب کرتے ہیں انہیں پیغام وصول ہوتا ہے جس میں سرکاری حکم نامہ کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ انہیں ”دیگر“ (کھلے زمرے) میں تصور کیا جائے گا۔

تبصرہ کریں

Back to top button