ٹاٹا کے سی آر۔بائے بائے مودی

زکریا سلطان۔ ریاض

مودی جی کی بھارتیہ جنتا پارٹی بھاجپا المعروف بی جے پی کہہ رہی ہے ٹاٹا کے سی آر اور کے سی آر کی ٹی آر ایس کہہ رہی ہے بائے بائے مودی! ۔ تنگ آمد بہ جنگ آمد۔نوبت اب یہاں تک آ پہنچی۔دونوں پارٹیوں میں خوب رسہ کشی چل رہی ہے ، جم کر بیان بازی کی جارہی ہے، الزامات کی بوچھاڑ اور پوسٹر وار چل رہی ہے۔ مخالفت میں زبردست ٹکراﺅ کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔دونوں اپنی اپنی برتری جتاکر مخالف کو زیر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بی جے پی کا قافلہ جس میں وزیر اعظم، وزیر داخلہ، مرکزی وزراءاور کئی چیف منسٹرس عاملہ اجلاس کے نام پر دلّی سے اپنے پورے لاﺅ لشکر کے ساتھ کے سی آر اور ان کی پارٹی پر حملہ کرنے کے لیے حیدرآباد پہنچ گئے۔سکندرآباد کے پریڈ گراﺅنڈ پر خوب زعفرانی پریڈ ہوئی ،گرجدار مضحکہ خیز بھاشن ہوئے، پوری قوت سے من کی بات کی گئی، دل کھول کر دھن خرچ کیا گیا تاکہ بھیڑ جمع کی جاسکے،تالیاں بجانے اور ہاتھ ہلانے والوں کو بڑی تعداد میں لایا گیاکہ آﺅ زعفرانی پارٹی کا گلابی پارٹی سے مقابلہ ہے، اس کی حمایت کرنے کی حماقت کرو جس طرح 2014 اور2019 میں کی تھی۔سب سے بڑا روپیہ! جب روپیہ پیسہ خوب خرچ کیا جاتا ہے تو کیا نہیں ہوتا! سکندرآباد کے جلسہ میں خوب طاقت کا مظاہرہ ہوا ، ڈبل انجن کی سرکار کے کارنامے گنوائے گئے، دھمکیاں دی گئیں، وزیر اعلیٰ کے بیٹے کے ٹی آر کو بیروزگار کرکے پیدل کردینے کی بات کی گئی ۔ خاندانی تسلط کو ختم کرکے ڈبل انجن کی سرکار لانے کا نیک ارادہ ظاہر کیا گیا۔ مودی صاحب نے بھی دل کی بھڑاس خوب نکالی اور من کی بات زبان پر لے آئے، انہوں نے کے سی آر کے پیچھے بنڈی لگادی ہے جو ان کی کار کے راستہ میں حائل ہو رہی ہے، کے سی آر مسلسل ہارن بجارہے ہیں مگر بنڈی ان کا راستہ روک رہی ہے، بنڈی کے تعاقب سے کار کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پرلطف بات یہ ہے کہ بنڈی تلنگانہ میں اور اسے کاڑھنے والے دو گجراتی بیل دِلّی میں ہیں۔ آٹھ سال میں جو اہم اور مثالی کارنامے بھاجپانے انجام دیے ہیں ان میں غیر بھاجپا سرکاروں کو گرانا اور شہروں کے نام بدلناہے، نظرِ بد اب حیدرآباد پر ٹکی ہوئی ہے۔ حد ہوگئی بابائے قوم گاندھی جی اور مجاہدین آزادی کے ناموںکا تک انہوں نے ” جلوس” نکال دیا۔انگریزوں کے تلوے چاٹنے والے غلام اور گاندھی کے قاتلوں کو ہیرو کے طور پر بے شرمی سے قوم کے سامنے پیش کیا گیا۔عوام کے کھاتے میں پندرہ لاکھ کا وعدہ اور پنڈت نہرو کے کھاتے میں بے شمار برائیاں اور ناکامیاں آئیں، اپنی تمام ناکامیوں اور نا اہلی کا الزام ماضی کی کانگریس حکومت اور چچا جان (چاچا نہرو)کے کھاتے میں ڈال کر بی جے پی خوب واویلا کرتی رہی۔ کتنا عظیم کام ہے بی جے پی کا اورکتنی شاندار کارکردگی ہے واہ! کسانوں کو رلانے اور تڑپانے کے علاوہ نوجوانوں کو ماب لنچنگ پر اکسانے اور گائے گوبر کی حفاظت پر مامور کرنے کا عظیم کارنامہ بھی بھاجپا نے انجام دیا۔ ہے کوئی پارٹی اور ماضی کی حکومت جس نے ای ڈی اور دیگرایجنسیوں کا اتنا پرفیکٹ اورصحیح استعمال کیا ہو؟ کیا مینجمنٹ اور کیا ایڈمنسٹریشن ہے مودی جی ، واہ! پرامن احتجاجیوں پر جو اپنے حق کے لیے، جمہوریت اور دستور کی بحالی کے لیے آواز اٹھارہے تھے، پولیس کے ایسے ڈنڈے برسائے گئے کہ گونگے بھی گلوکار بن گئے۔ واہ مودی جی، واہ امیت شاہ صاحب! حکمرانی تو کوئی آپ حضرات سے سیکھے واہ بھئی واہ! بابری مسجد اور گجرات دنگوں کے فیصلے جو آپ نے سپریم کورٹ سے ”کروائے“ ہیںاس کا بھی جواب نہیں! بے چارے مودی جی پر جھوٹے الزامات لگائے گئے تھے ، بقول وزیر داخلہ امیت شاہ کے اس حلیم و بردبار شخص نے بڑے صبر و استقلال سے ساری تکالیف 19برس تک برداشت کیں، بوڑھی پاگل ہوگئی تھی خوامخواہ ایک شریف النفس شخص کو مسلسل ستاتی رہی، اس کی مدد گار خاتون کو جیل میں ٹھونس کر آپ نے بہت اچھا کیا ،ایک نیا ریکارڈ قائم ہوگیا جو تاریخ میں سنہری الفاظ سے لکھا جائے گا، یہ ایک سبق آموز کارنامہ ہے جس پر خوب تالیاں بجانے کو جی کرتا ہے!!! واقعی مودی جی آپ بہت شریف آدمی ہیں اور آپ کا سینہ چھپن انچ کا ہے۔ساری دنیا جانتی ہے کہ آپ بڑے لائق ہیں۔ آپ نے تعلیمیافتہ بے روزگار نوجوانوں کو پکوڑے تل کرروزگار حاصل کرنے کا جو قیمتی مشورہ دیا تھا وہ بھی لوگوں کی سمجھ میں نہ آیا اور نادان آپ کا مذاق اڑانے لگے۔ کسی ماہر نجومی کی طرح امیت شاہ نے کہا ہے کہ بی جے پی ہندوستان پر مزید تیس چالیس سال تک حکومت کرے گی ، ہاں ہاں ضرور کیجئے ، کیوں نہیں! لگتا ہے کے سی آر کو دوسری میعاد راس نہیں آئی ۔ پہلی میعاد میں تو انہوں نے مودی جی کی بہت سیوا کی تھی ، دل و جان سے انہیں اپنا گرو مانتے تھے، ان کی ہر بات اچھی بھلی لگتی تھی، حتیٰ کہ نوٹ بندی میں بھی انہوں نے ہونٹ بندی کرلی تھی، اب نہ جانے کیا ہوگیا کہ وہ مودی جی کوریسیوکرنے کے لیے طیرانگاہ بھی نہیں گئے ، بے چارے وزیراعظم کو کتنا بڑا جھٹکا لگا ہوگا کہ ریاست کا وزیراعلیٰ میرے استقبال کے لیے ایرپورٹ نہیںآیااور میرے رقیب یشونت سنہا کو لے آیا ! مودی جی کو کے سی آر اتنا برا بھلا کہہ رہے ہیں کہ ممتا بنرجی اور راہول گاندھی نے بھی اتنا نہیں کہا ہوگا۔کہنے لگے مودی جی الیکشن سے پہلے میٹھی میٹھی اور الیکشن کے بعد جھوٹی جھوٹی باتیں کرتے ہیں۔ کے سی آر کو مودی اور ان کی بی جے پی میں اور مودی کو کے سی آر اور ان کی ٹی آر ایس میں اب کوئی خوبی نظر نہیں آتی، ساری برائیاں اور سیاہ کاریاں ہی نظر آرہی ہیں۔دونوں ایک دوسرے پر کرپشن کے سنگین الزامات لگاتے ہوئے میدان میں اترگئے ہیں۔ اب صرف یہ دیکھنا باقی ہے کہ کون ٹاٹا ہوتا ہے اور کون بائے بائے۔ انتظار کیجئے ۔ ان اللہ مع الصابرین۔

تبصرہ کریں

Back to top button