ٹوئٹر پر وزیر اعظم مودی پر کے ٹی آر کی ایک بار پھر تنقید

ٹویٹر پر وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور مرکزی وزیر جی کشن ریڈی جو تلنگانہ سے تعلق رکھتے ہیں پر بھی تنقید کی۔طنزیہ انداز میں کشن ریڈی کو مبارکباد دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ مودی کابینہ کے وزیر کشن ریڈی جی!۔ ریاست کو باوقار ادارہ لانے والے ہیں۔،اوہو! معمول کی طرح انتظار کریں، وزیر اعظم نریندر مودی نے جام نگر منتقل کردیا ہے۔

حیدرآباد: حکمراں جماعت ٹی آر ایس کے کارگذار صدر وریاستی وزیر بلدی نظم نسق وشہری ترقیات کے ٹی آر نے تلنگانہ کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ دعویٰ کیا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے گلوبل سنٹر فارٹریڈیشنل میڈیسن کو جسے حیدرآباد میں قیام کی منظوری دی گئی تھی، مودی نے گجرات منتقل کردیا۔

ٹویٹر پر وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور مرکزی وزیر جی کشن ریڈی جو تلنگانہ سے تعلق رکھتے ہیں پر بھی تنقید کی۔طنزیہ انداز میں کشن ریڈی کو مبارکباد دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ مودی کابینہ کے وزیر کشن ریڈی جی!۔ ریاست کو باوقار ادارہ لانے والے ہیں۔،اوہو! معمول کی طرح انتظار کریں، وزیر اعظم نریندر مودی نے جام نگر منتقل کردیا ہے۔

کے ٹی آر نے ٹوئٹر پر تحریر کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ اس سے قبل انہوں نے مرکز کی این ڈی اے حکومت کو نان پرفارمنسنگ اسیٹس قرار دیا تھا۔مودی جی، تلنگانہ کے ساتھ مسلسل امتیاز برتنے والے بابا ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز گجرات کے جام نگر میں ڈبلیو ایچ او کے روایتی طب کے عالمی مرکز کا سنگ بنیاد رکھا۔

یہ مرکز پہلے حیدرآباد کیلئے منظور ہوا تھا مگر مودی جی نے اسے جام نگر منتقل کردیا۔ کے ٹی آر نے کشن ریڈی کے قبل ازیں کردہ ٹوئٹ کو پوسٹ کیا جس میں کشن ریڈی نے یہ تحریر کیا تھاکہ ”وزارت آیوش حکومت ہند، حیدرآباد میں گلوبل سنٹر فار ٹریڈیشنل میڈیسن قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ میرا شدید احساس ہے کہ اس سنٹر سے نہ صرف شہر حیدرآباد بلکہ ریاست کو بھی فائدہ ہوگا۔ کے ٹی آر نے جدول کی شکل میں تلنگانہ کے ساتھ مرکز کے امتیازی سلوک کی تفصیلات بھی پیش کیں۔ مودی حکومت نے ملک بھر میں ایمس کے علاوہ7 آئی آئی ایم،7آئی آئی ٹی، 2آئی آئی ایس ای آر، 16ٹریپل آئی ٹی، 4این آئی ٹی،157 میڈیکل کالجس،84نو ودیالیہ اسکولس جیسے باوقار ادارے قائم ہیں مگر ان میں ایک بھی ادارہ کوتلنگانہ کیلئے منظوری نہیں دی گئی۔

تبصرہ کریں

Back to top button