ٹیم انڈیا نے پہلا ٹی ٹوئنٹی 6 وکٹس سے جیت لیا

ٹیم انڈیا کی کامیابی میں اوپنرس کا اہم رول رہا جنہوں نے پہلی وکٹس کیلئے 64 رنوں کی شراکت داری کی۔ کپتان روہت شرما 19 گیندوں میں 4 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے 40 جبکہ ایشان کشن 4 چوکوں کی مدد سے 35 رن بناکر آؤٹ ہوئے۔

کولکتہ: سلامی بلے بازوں کپتان روہت شرما اور ایشان کشن کی شاندار بیاٹنگ کی مدد سے ہندوستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز کو 6 وکٹس سے شکست دیکر 3 میاچس کی سیریز میں 1-0 کی سبقت حاصل کرلی۔ ٹیم انڈیا کو جیت کیلئے 158 رنوں کی ضرورت تھی جو اس نے 4 وکٹس کھوکر 18.5 میں بنالئے۔ ٹیم انڈیا کی کامیابی میں اوپنرس کا اہم رول رہا جنہوں نے پہلی وکٹس کیلئے 64 رنوں کی شراکت داری کی۔ کپتان روہت شرما 19 گیندوں میں 4 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے 40 جبکہ ایشان کشن 4 چوکوں کی مدد سے 35 رن بناکر آؤٹ ہوئے۔

 سابق کپتان ویراٹ کوہلی کا ناقص فارم ونڈے کے بعد ٹی ٹوئنٹی بھی میں جاری رہا۔ کوہلی 13 گیندوں میں ایک چوکے کی مدد سے صرف 17 رن بناکر پویلین لوٹ گئے جبکہ وکٹ کیپر ریشبھ پنت صرف 8 رن پر آؤٹ ہوئے۔ فاتح ٹیم نے اپنے 4 وکٹس 114 رن پر گنوادیئے تھے تاہم سوریا کمار یادو اور وینکٹیش ایئر نے پانچویں وکٹ کیلئے 48 رنوں کی ناقابل شکست شراکت داری کرتے ہوئے مزید کوئی وکٹ گنوائے ٹیم کو جیت دلادی۔ سوریا کمار یادو 18 گیندوں میں 5 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 34 جبکہ وینکٹیش ایئر 2 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 24 رن بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

 ویسٹ انڈیز کیلئے روسٹن چیز نے 2 جبکہ شیلڈن کاٹریل اور فیبین ایلن نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ قبل ازیں ویسٹ انڈیز نے پہلے بیاٹنگ کرتے ہوئے نیکولاس پورن کی نصف سنچری کی مدد سے 157 رن بنائے۔ نیکولاس پورن نے 43 گیندوں میں 4 چوکوں اور 5 چھکوں کی مدد سے 61 رن بنائے جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں اوپنر برینڈن کنگ 4‘ کائیل میئرس 31‘ روسٹن چیس 4‘ روومیان پاویل 2‘ عقیل حسین 10 اور اوڈین اسمتھ 4 رن بناکر آؤٹ ہوئے جبکہ کپتان کرن پولارڈ 2 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 24 رن بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

 میزبان ٹیم کی جانب سے ہرشل پٹیل اور روی بشنوئی نے 2,2 جبکہ بھونیشور کمار‘ دیپک چہر اور یوزویندر چہل نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ 2 وکٹس حاصل کرنے والے ہندوستانی اسپنر روی بشنوئی کو میان آف دی میاچ قرار دیاگیا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا دوسرا میاچ جمعہ 18 فروری کو ایڈن گارڈن میں ہی کھیلا جائے گا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button