ٹیکساس واقعہ: فیصل اکرم، تبلیغی جماعت کا حامی تھا

اس نے کہا تھا کہ عافیہ صدیقی کو یہودی عبادت گاہ لایا جائے تاکہ ہم دونوں کی ایک ساتھ موت واقع ہو۔ اس نے حملہ کے دوران عافیہ صدیقی کو بہن کہا تھا لیکن عافیہ صدیقی سے اس کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔

نئی دہلی: ٹیکساس (امریکہ) میں یہودی عبادت گاہ میں لوگوں کو بندوق کی نوک پر یرغمال بنانے کے بعد مارا گیا برطانوی مسلمان کہا کرتا تھا کہ کاش اس کی موت 9/11 کے حملوں میں ہوئی ہوتی۔

برطانیہ اور امریکہ کی پولیس تحقیقات کررہی ہیں کہ آیا وہ کسی بڑے دہشت گرد سل کا حصہ تو نہیں تھا۔

پتہ چلا ہے کہ بلیک برن لنکا شائر کے رہنے والے 44 سالہ ملک فیصل اکرمنے خواہش ظاہر کی تھی کہ کاش وہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر حملہ (2001) کے وقت کسی ایک طیارہ میں سوار ہوا ہوتا۔

اکرم کے پاکستانی روابط کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اکثر پاکستان جایا کرتا تھا جہاں اس کے والد کی پیدائش ہوئی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ قدامت پسند تبلیغی جماعت کا حامی تھا۔

تبلیغی جماعت کو دہشت گرد ہونے سے انکار ہے لیکن سعودی عرب حال میں اسے خلیجی ملک میں دہشت گردی کا ایک دروازہ قراردے کر امتناع عائد کرچکا ہے۔

ایف بی آئی ایجنٹوں سے بات چیت میں ملک فیصل اکرم نے جیل میں بند ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ عافیہ صدیقی لیڈی القاعدہ کے نام سے جانی جاتی ہے۔

اس نے کہا تھا کہ عافیہ صدیقی کو یہودی عبادت گاہ لایا جائے تاکہ ہم دونوں کی ایک ساتھ موت واقع ہو۔ اس نے حملہ کے دوران عافیہ صدیقی کو بہن کہا تھا لیکن عافیہ صدیقی سے اس کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی‘ یہودی عبادت گاہ سے تقریباً 20 میل دور واقع جیل میں بند ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button