ٹی آر ایس کی تین سالہ میعاد کی تکمیل

چیف منسٹر کے چند رشیکھرراو کی جانب پارٹی قائدین اور کارکنوں کو یہ ہدایات جاری کئے جانے کی اطلاعات زیرگشت ہیں کہ سال23-2022 کے اسمبلی انتخابات کیلئے ابھی سے تیار یوں کا آغاز کردیا جائے۔

سلیم احمد ایم اے، ایم فل

ٹی آرایس حکومت کی دوسری میعاد کے 12/ڈسمبر کو تین سالہ عرصہ کی تکمیل پر پارٹی سربراہ کی جانب سے کسی جشن یا خصوصی اجلاس کاانعقاد عمل میں نہیںلایاگیا۔ چیف منسٹر کے چند رشیکھررائو کی جانب پارٹی قائدین اور کارکنوں کو یہ ہدایات جاری کئے جانے کی اطلاعات زیرگشت ہیں کہ سال23-2022 کے اسمبلی انتخابات کیلئے ابھی سے تیار یوں کا آغاز کردیا جائے۔

کیونکہ مستقبل قریب میں بی جے پی اور کانگریس پارٹی کے بڑھتے قدم کو ابھی سے روکنے کی خاطر پارٹی کارکنوں کو عوام سے قریبی روابط بنائے رکھنے کے علاوہ دو سالہ عرصہ کے دوران شدید محنت کرتے ہوئے ٹی آر ایس پارٹی کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہوگا۔ اس ضمن میںپارٹی کے توسیعی پروگرام کے تحت پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میںبڑے پیمانے پر ردوبدل کے امکانات کو مسترد نہیں کیاجاسکتا ۔

دوسرا یہ کہ پارٹی کے اہم قائدین کو وزارتی عہدوں کیلئے منتخب کرتے ہوئے غیر کارکردوزراء کی تبدیلی کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح پارٹی میںبلاک سطح سے لے کر ضلع واری اساس پرتبدیلیوں کاقوی امکان ہے اور یہ قیاس آرائیاںبھی عروج پر ہیں کہ پارٹی کے نامزد عہدوںپر جو تقریباً تین سالہ عرصہ سے پرنہیں کئے گئے ان عہدوں پر پارٹی کے وفادار کارکنوں کو نامزد کرتے ہوئے پارٹی میںایک نئی جان ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔ کیونکہ ٹی آر ایس میں دیگر پارٹیوں سے شامل ہونے والے قائدین جنہیں پارٹی سربراہ کی جانب سے اس بات کا تیقن دیا گیا تھا کہ پارٹی میں انہیںاہم عہدے دیئے جائیںگے۔

تاحال ان افراد کو جو عہدوں کی دوڑ میں شامل ہیں، نامزد عہدے جو تقریباًپانچ کے قریب بھرتی کرنا ہے اطلاعات ہیں کہ چندر شیکھررائو مذکورہ عہدوں پر پارٹی کے وفادار لوگوں کو نامزد کرتے ہوئے عوام میں نہ صرف پارٹی کے قد کو اونچا کرنے کی کوشش کریںگے بلکہ آنے والے دنوں میں پارٹی کو دوبارہ حصول اقتدار کے لیے پارٹی کے سرکردہ قائدین اور پارٹی کارکنوں کے علاوہ نو نامزد قائدین کو بھرپور ذمہ داری کے ساتھ اہم اور نمایاں خدمات انجام دینی ہوںگی۔ حکومت اگر پانچ سے زائد نامزد عہدوں پر پارٹی کے قائدین کو منتخب کرتی ہے تو ایسی صورت میںپارٹی کوان قائدین پر سرمایہ صرف کرنا ہوگا۔

موجودہ صورتحال میں حکومت کا خزانہ خالی ہے۔ حکومت چلانے کی خاطر چندر شیکھررائو کو مختلف بانڈس (Bonds) کی شکل میں رقم کے حصول کے علاوہ حکومت ور لڈ بینک اور دیگر ذریعے سے قرض حاصل کرتے ہوئے نظم ونسق چلارہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کے تحت موجود اثاثوں کو فروخت کرتے ہوئے ان اثاثوں سے حاصل ہونے والی رقم کو حکومتی امور کی انجام دہی پرخرچ کیاجاتا ہے۔ سال2018-19 اورسال2019-20 کے دوران بالترتیب کورونا وباء کی وجہ سے حکومت کو کروڑہا روپیوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا اورآج حکومت اس موقف میں نہیں ہے کہ وہ ریاست تلنگانہ کے عوام کو دئے گئے تیقنات پر عملدرآمد کرسکے۔

ایسی صورتحال میں یہ ناممکنات میں شامل ہے کہ حکومت نامزد عہدوں پرتقررات کرتے ہوئے مالی پریشانیوں میںمزید اضافہ کا موجب بنے گی۔ اس کیلئے حکومت وقت کو مزید قرض حاصل کرتے ہوئے حکومتی امور کو انجام دینا پڑے گا، جس کے ذریعہ اب تک حاصل کردہ قرض ڈھائی لاکھ کروڑ روپیوں میں مزید اضافہ ہوگا اور ریاست تلنگانہ کا ہر شہری مقروض کہلائے گا۔ چیف منسٹر چندر شیکھررائو کے حصول اقتدار سے قبل تلنگانہ ریاست ایک مالدار ریاست کہلاتی تھی اور حکومت کے سالانہ بجٹ میںاضافی بجٹ ہوا کرتاتھا۔

ٹی آرایس کے حصول اقتدار کے بعد تلنگانہ ریاست اب ایک مقروض ریاست بن چکی ہے اور ریاست کا ہر شہری قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب کورونا کے دو دفعہ سال2019-20 کے علاوہ 2021-22 میں بھی اومیکرون نامی وبائی مرض کے آغاز کے بعد ملک میںماہ مارچ کے آغاز تک ماہانہ اساس پرڈھائی لاکھ لوگوں کے بیمار ہونے کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں اور اس بات کے امکانات پائے جاتے ہیں کہ رات کا کرفیو آنے والے دنوں میں لاگو کردیا جائے ۔

جس کے سبب عام زندگی نہ صرف متاثر ہوگی بلکہ ریاست کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہونے کے قوی امکانات پائے جاتے ہیں۔ اس طرح ریاست تلنگانہ میں جومعاشی ابتری اوربدحالی ہے وہ مزید بڑھ جائے گی ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ریاست کی بگڑی ہوئی معیشت میں دوبارہ سدھار لانے کی سمت اقدامات روبہ عمل لانے کی کوشش کرے۔ ریاست تلنگانہ میں کچھ عرصہ سے کاروبار میںاضافہ دیکھنے میں آیا۔ جیسے رئیل اسٹیٹ اراضی کی خرید وفروخت کے ذریعہ محکمہ رجسٹریشن واسٹامپس کو تقریباً سالانہ بارہ ہزار کروڑ روپیوں کی آمدنی ریکارڈ کی گئی۔

اس کے علاوہ دیگر صنعتی شعبوں جیسے ہیلتھ سیکٹر کے علاوہ دیگر شعبہ جات میں بہتر آمدنی ریکارڈ کی جانے لگی تھی لیکن اب یہ کہا جارہا ہے کہ اومیکرون کے وبائی مرض کے آغاز کی وجہ سے ملک کے حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں… ایسی صورت میں ایک میڈیکل صنعت کو شاید فائدہ حاصل ہوسکتا ہے لیکن رئیل اسٹیٹ کی صنعت اوردیگر تجارتی فرمس کو بھاری نقصان ہوسکتا ہے ۔

جیسا کہ دیگر ریاستوں سے مزدور طبقہ کے افراد شہر حیدرآباد جہاں پرروزی اورروٹی کمائی کے ذرائع زیادہ پائے جاتے ہیں مزدور طبقہ کے دوبارہ اپنے اپنے مقامات کو واپس لوٹ جانے کے امکانات ہیں۔بہتر تو یہی ہوگا کہ پچھلے سال کے حالات ،مستقبل قریب میں دیکھنے کو نہ ملیں، کیوںکہ کئی ایک لوگ دو سالہ لاک ڈائون کے بعد روزگار سے محروم ہوچکے ہیں اور اب مزید لاک ڈائون کی صعوبت ایک عام آدمی کی برداشت کے باہرہے۔ ایسی صورت میںحکومت کو غور کرنا چاہیے کہ وہ لاک ڈائون نہ کرتے ہوئے عوام کو راحت پہنچائے۔

saleemjournalist@yahoo.com
٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button