پارلیمنٹ سیشن کا بائیکاٹ کرنے ٹی آر ایس کا فیصلہ خفیہ معاہدہ کا حصہ: ریونت ریڈی

صدر پردیش کانگریس نے کہا کہ بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان پائے خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے کہ کے ٹی راما راؤ کو نوٹس کی اجرائی روک دی گئی اور دھان کی خریداری کے مسئلہ کو پس پشت ڈال دیا گیا۔

حیدرآباد: صدر ٹی پی سی سی اے ریونت ریڈی نے کہا کہ ٹی آ رایس اراکین کا، پارلیمنٹ اجلاس سے دور رہنے کے فیصلہ کے پس پردہ بی جے پی کے ساتھ خفیہ مفاہمت کار فرما ہے۔ آج دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے لخت جگر کے ٹی آر ایک اراضی تنازعہ میں ملوث ہیں اور ان کو انفورسمنٹ ڈائرکٹریٹ کی جانب سے نوٹس جاری کی جانے والی تھی۔ مگر اب نوٹس کی اجرائی کو عارضی طور پر ملتوی کردیا گیا۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ نوٹس کو التواء میں رکھنے کے عوض پارلیمنٹ اجلاس کو بغیر خلل کے جاری رکھنے کیلئے ٹی آر ایس اراکین نے سیشن سے دور رہنے کا فیصلہ کیا۔ ریڈی نے مزید کہا کہ حیدرآباد کے مضافات میں 3000کروڑ روپے مالیتی اراضیات کے خرید وفروخت میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے انتہائی قریبی رفیق اور آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر میں ملوث ایک کنٹراکشن کمپنی کو انفورسمنٹ ڈائرکٹریٹ کی جانب سے پوچھ تاچھ کیلئے نوٹس جاری کی گئی ہے۔

سابق میں ایچ ایم ڈی اے کی جانب سے کئے گئے ہراج میں ایک بیرونی کمپنی نے450 کروڑ روپے میں ان اراضیات کو خریدا تھا تاہم تشکیل تلنگانہ کے بعد ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے اُس کمپنی کو ڈرا دھمکاکر 300 کروڑ روپے میں اراضی حاصل کرلی تھی۔ ان اراضیات کی موجودہ قیمت تقریباً 3000 کروڑ روپے ہے۔ ٹنڈرس میں دی گئی شرائط کے مطابق ان اراضیات کو دوسری کمپنیوں کے نام کرنے کی کوئی گنجائش ہے۔ اس کے باوجود کے ٹی راما راؤ نے اراضیات کو دوسری کمپنی کے حوالہ کرنے کی اجازت دی تھی۔ ای ڈی کے مطابق اس سارے اسکام کیلئے کی ٹی راما راؤ ہی ذمہ دار ہیں۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ کے ٹی آر کو ای ڈی کی نوٹس جاری کرنے کے مسئلہ پر ٹی آ رایس اور بی جے پی کے درمیان اختلاف سامنے آیا تھا۔ جس کے بعد دھان کی خریداری کے مسئلہ کو سامنے لاکر ای ڈی کو نوٹس جاری کرنے سے روک دیا گیا اور پارلیمنٹ میں دونوں جماعتوں کی جانب سے ڈرامہ کیا گیا۔ صدر پردیش کانگریس نے کہا کہ بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان پائے خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے کہ کے ٹی راما راؤ کو نوٹس کی اجرائی روک دی گئی اور دھان کی خریداری کے مسئلہ کو پس پشت ڈال دیا گیا۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button