پارلیمنٹ میں مسلم مکت ہوئی بی جے پی

10 جون کو ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات کیلئے بی جے پی کے 22امیدواروں میں ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔ بی جے پی نے راجیہ سبھا کے اپنے تین مسلم ارکان میں سے کسی کو دوسرا موقع نہیں دیا ہے۔ مودی حکومت میں اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی، سابق وزیر مملکت برائے امور خارجہ ایم جے اکبر اور بی جے پی کے ترجمان سید ظفر اسلام کا راجیہ سبھا سے پتہ صاف ہو گیا ۔ ان تینوں کی میعاد ختم ہونے والی ہے۔ اب راجیہ سبھا میں بی جے پی کا ایک بھی مسلم ممبر نہیں ہوگا۔ موجودہ لوک سبھا میں بی جے پی کے پاس کوئی مسلم ایم پی نہیں ہے۔ اس طرح بی جے پی پارلیمنٹ میں پوری طرح ’ ‘مسلم مکت‘ بن گئی ہے۔

یوسف انصاری


10 جون کو ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات کیلئے بی جے پی کے 22امیدواروں میں ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔ بی جے پی نے راجیہ سبھا کے اپنے تین مسلم ارکان میں سے کسی کو دوسرا موقع نہیں دیا ہے۔ مودی حکومت میں اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی، سابق وزیر مملکت برائے امور خارجہ ایم جے اکبر اور بی جے پی کے ترجمان سید ظفر اسلام کا راجیہ سبھا سے پتہ صاف ہو گیا ۔ ان تینوں کی میعاد ختم ہونے والی ہے۔ اب راجیہ سبھا میں بی جے پی کا ایک بھی مسلم ممبر نہیں ہوگا۔ موجودہ لوک سبھا میں بی جے پی کے پاس کوئی مسلم ایم پی نہیں ہے۔ اس طرح بی جے پی پارلیمنٹ میں پوری طرح ’ ‘مسلم مکت‘ بن گئی ہے۔
مختار عباس نقوی کا کیا بنے گا؟ : راجیہ سبھا سے پتا صاف ہونے کے بعد مودی حکومت میں واحد مسلم چہرہ اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کے مستقبل کو لے کر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ان کی راجیہ سبھا کی میعاد 7 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔ اگر نقوی چھ ماہ میں ایم پی نہیں بنتے ہیں تو ان کا وزارتی عہدہ جانا یقینی ہے۔ تاہم، ان کے بی جے پی کی طرف سے رام پور سے لوک سبھا ضمنی انتخاب لڑنے کی بات ہے۔ اگر وہ لوک سبھا انتخابات جیتنے کے بعد آتے ہیں تو ان کا وزارتی عہدہ برقرار رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ الیکشن ہار گئے تو انہیں وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑے گا۔ ایسے میں انہیں تنظیم میں بڑی ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔ بعد میں گورنر بھی بنایا جا سکتا ہے۔ ان کی جگہ بی جے پی کسے اقلیتی امور کا وزیر بنائے گی؟ اس پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اس کا کوئی مسلم رکن اسمبلی نہیں ہے۔ اس لیے ایسی صورت حال میں ان کی جگہ سکھ، بدھ، جین یا عیسائی برادری سے کسی کو وزیر بنایا جا سکتا ہے۔
کیا بی جے پی کسی مسلمان کو نامزد کرے گی؟ : بی جے پی کے ترجمان سید ظفر اسلام کی میعاد 4 جولائی اور ایم جے اکبر کی میعاد 29 جون کو ختم ہو رہی ہے۔ فی الحال صدر کی طرف سے نامزدگی کے زمرے میں سات سیٹیں خالی ہیں۔ لیکن اس زمرے میں ان دونوں کا راجیہ سبھا میں واپس آنا ناممکن ہے۔ ظفر اسلام اس زمرے کے لیے کسی بھی طرح موزوں نہیں۔ ایم جے اکبر سینئر صحافی ہونے کے ناطے اس زمرے میں آسکتے تھے۔کئی خواتین صحافیوں کی طرف سے ایم جے اکبر پر جنسی استحصال کے سنگین الزامات کی وجہ سے ان کے لیے اس زمرے میں نامزد ہونا ممکن نہیں ہے۔
لوک سبھا میں پہلےسے ہی بی جے پی ’مسلم مکت ‘ ہے : بتادیں کہ لوک سبھا میں بی جے پی کے پاس پہلے ہی کوئی مسلم ایم پی نہیں ہے۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے چھ مسلم امیدوار کھڑے کیے تھے۔ لیکن سب ہار گئے تھے۔ پچھلی بار بی جے پی نے سید شاہنواز حسین کو ٹکٹ نہیں دیا تھا، جن کے پاس لوک سبھا الیکشن جیتنے کی صلاحیت تھی۔ انہوں نے 2006 میں بہار کی بھاگلپور سیٹ سے ضمنی انتخاب اور 2009 میں عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ وہ اس سیٹ سے 2014 کا الیکشن ہار گئے تھے۔ 2019 میں بی جے پی نے وہ سیٹ جنتا دل یونائیٹڈ کو شیئرنگ میں دی تھی۔ تاہم، شاہنواز حسین نے 1999 میں کشن گنج سے الیکشن جیتا تھا۔ لیکن 2004 میں شکست ہوئی تھی۔ موجودہ لوک سبھا میں این ڈی اے کے پاس صرف ایک مسلم ایم پی ہے۔ کھگڑیا سے محبوب علی قیصر ایل جے پی کے ٹکٹ پر جیت کر آئے ہیں۔ پچھلی لوک سبھا میں بھی وہ این ڈی اے کی طرف سے واحد مسلم ایم پی تھے۔ پچھلی بار انہیں حج کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا تھا۔
تین دہائیوں میں پہلی بار بی جے پی ’مسلم مکت‘ : 1989 کے بعد سے لگاتار ایک نہ ایک پارلیمنٹ میں بی جے پی کا کوئی نا کوئی مسلم ایم پی ضرور رہاہے ۔ 1998سے 2009 تک ہر لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کا ایک ممبرضرور جیتا رہا ہے۔ 1984کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی صرف 2 سیٹوں پر سمٹ گئی تھی۔ لیکن 1989کے انتخابات میں بی جے پی کو 86سیٹیں ملی تھیں۔ ان میں سے محمد عارف بیگ نے مدھیہ پردیش کی بیتول سیٹ سے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن جیتنے والے پہلے مسلم ایم پی تھے۔ ان کے بعد مختار عباس نقوی اور سید شاہنواز حسین بی جے پی کے ٹکٹ پر لوک سبھا الیکشن جیتے ہیں۔1996کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے کسی مسلمان کو لوک سبھا کا ٹکٹ نہیں دیا۔
1998 سے 2009 تک بی جے پی کے مسلم ایم پی : 1998کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے دو مسلمانوں کو ٹکٹ دیا تھا۔ اترپردیش کی رام پور سیٹ سے مختار عباس نقوی اور بہار کی کشن گنج سیٹ سے سید شاہنواز حسین۔ شاہنواز حسین کو شکست ہوئی۔ مختار عباس نقوی جیت کر لوک سبھا پہنچے تھے۔ وہ واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت میں اطلاعات و نشریات کے وزیر مملکت بنےتھے۔ نقوی کو 1999 کے انتخابات میں شکست ہوئی تھی۔ لیکن اس بار سید شاہنواز حسین کشن گنج سے جیت کر لوک سبھا پہنچے تھے۔ وہ واجپئی حکومت میں وزیر بنے ۔ اگرچہ شاہنواز حسین 2004ں کشن گنج سیٹ سے الیکشن ہار گئے تھے لیکن 2006 کے ضمنی الیکشن میں وہ بہار کی بھاگلپور سیٹ سے جیتے اور 2009 میں بھی انہوں نے یہ سیٹ دوبارہ جیتی لیکن 2014 میں وہ الیکشن ہار گئے تھے۔ اس طرح 1998سے 2009تک بننے والی ہر لوک سبھا میں بی جے پی کا ایک مسلم ایم پی موجود تھا۔
راجیہ سبھا میں بی جے پی کے مسلم ارکان : 1990 میں بی جے پی نے سکندر بخت کو راجیہ سبھا بھیجا تھا۔ وہ بی جے پی کی طرف سے راجیہ سبھا بھیجے جانے والے پہلے مسلم رکن تھے۔ 1996 میں انہیں دوبارہ راجیہ سبھا بھیجا گیا۔ انہوں نے 2002 تک دو میعاد مکمل کی۔ 2002 میں راجیہ سبھا سے سبکدوش ہونے کے بعد انہیں کیرالہ کا گورنر بنا کر بھیجا گیا تھا۔ سکندر بخت کی گورنر کے طور پر تقرری سے خالی ہونے والی راجیہ سبھا کی سیٹ کو 1999 کے لوک سبھا انتخابات میں ہارنے والے مختار عباس نقوی کو جھارکھنڈ سے راجیہ سبھا بھیج کر پُر کیا گیا۔
2010 میں نقوی کو دوسری بار اتر پردیش سے اور 2016 میں پھر تیسری بار جھارکھنڈ سے راجیہ سبھا بھیجا گیا۔ اس طرح مختار عباس نقوی واحد مسلمان ہیں جو بی جے پی کے ٹکٹ پر تین بار راجیہ سبھا گئے ہیں۔
نجمہ ہپت اللہ اور ایم جے اکبر : نجمہ ہپت اللہ اور ایم جے اکبر بی جے پی کے دو اہم رہنما رہے ہیں، جنہیں بی جے پی نے راجیہ سبھا بھیجا اور وزیر بھی بنایا۔ نجمہ ہپت اللہ نے لوک سبھا انتخابات سے عین قبل 2004 میں کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ بعد میں انہیں راجیہ سبھا بھیج دیا گیا۔ 2016 میں منی پور کی گورنر بننے کے بعد وہ راجیہ سبھا کی رکن تھیں۔ اس دوران 2014 سے 16 تک وہ مودی حکومت میں اقلیتی امور کی وزیر بھی رہیں۔ ایم جے اکبر نے صحافت چھوڑ دی اور 2014 میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ 2016 میں انہیں راجیہ سبھا بھیجا گیا اور انہیں امور خارجہ کا وزیر مملکت بھی بنایا گیا۔ سید ظفر اسلام کو بھی تقریباً 2 سال قبل راجیہ سبھا بھیجا گیا تھا۔ ان دونوں کا پتہ اب راجیہ سبھا سے صاف ہو چکا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پرایاس‘ کے نعرے کو اپنی حکومت کا بنیادی منتر بنانے والے وزیر اعظم نریندر مودی کے دور میں کیا بی جے پی پارلیمنٹ میں مکمل طور پر ’مسلم مکت‘ ہوگی یا پھر پارٹی کی طرف سے ملک کی دوسری سب سے بڑی مذہبی آبادی کی نمائندگی کرنےوالا کوئی شخص پارلیمنٹ کے کسی ایوان کا منھ بھی دیکھے گا ۔؟

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button