پرینکا گاندھی،کانگریس کی اسٹار مہم جو ثابت ہوئیں

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی وڈرا اسٹار کمپینر بن کر ابھری ہیں جو ان تمام ریاستوں کا دورہ کرتی رہی ہیں جہاں انتخابات مقررہیں۔انہوں نے 167 ریالیوں سے خطاب کیا‘42روڈ شوز منعقد کئے اور ورچول ریالیاں بھی منعقد کی ہیں۔

نئی دہلی: کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی وڈرا اسٹار کمپینر بن کر ابھری ہیں جو ان تمام ریاستوں کا دورہ کرتی رہی ہیں جہاں انتخابات مقررہیں۔انہوں نے 167 ریالیوں سے خطاب کیا‘42روڈ شوز منعقد کئے اور ورچول ریالیاں بھی منعقد کی ہیں۔

اترپردیش میں پارٹی انچارج کی حیثیت سے ریاست میں ان کا کافی حصہ ہے اور 2022کے اسمبلی انتخابات میں ان کی انتخابی مہم سرخیوں کی حصہ رہی ہے۔

پرینکا کی سخت محنت،ان کی توانائی اور مثبت رویہ سے بھرپور انتخابی مہم نے عوام کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔کانگریس کے داخلی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے نعروں نے عوام کے دل میں جگہ بنالی۔

شدید بارش میں ان کی انتخابی مہم،عوام سے ملاقات اور بارہ بنکی کے کھیتوں میں کام کرنے والے خواتین سے ملاقات نے عوام کا دل موہ لیا۔پرینکا گاندھی نے پنجاب‘گوا‘ اترا کھنڈ اور منی پور میں بھی انتخابی مہم چلائی۔ اپنے42روڈ شوز اور گھر گھر مہم کے ذریعہ پرینکا نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے ملاقات کی اور ان ریاستوں کا دورہ کیا جہاں انتخابات مقرر تھے۔

انہوں نے پنجاب کے تین،اتراکھنڈ اور گوا کے 2’2 دورے کئے اور منی پور میں ورچول ریالی سے خطاب کیا۔پارٹی قائدین کا کہنا ہے کہ پرینکا مسلسل اپنی تقاریر میں یہ کہتی رہی تھیں کہ جمہوریت کی طاقت عوام کے ہاتھوں میں مضمر ہے۔انہوں نے عوام سے کہا کہ اپنے ووٹ کی طاقت پہچانیں اور مسائل کی بنیاد پر ووٹ دیں۔

جب وزیر اعظم نے اپنی ایک تقریر میں یہ کہا کہ وہ اترپردیش میں آوارہ مویشیوں کے مسئلہ سے واقف نہیں ہیں تو پرینکا نے ان پر طنز کیا اور عوام سے کہا ”آپ نے ان قائدین کو 5 سال دیئے ہیں لیکن ان کا یہ کہنا ہے وہ یہ کام آئندہ5سال میں کریں گے“۔

پرینکا گاندھی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ میں عوام کو یہ پیام دینے کی کوشش کر رہی ہوں کہ سیاست نفرت اور تشدد پر مبنی نہیں ہونی چاہئے۔اب ایک نئی قسم کی سیاست کا وقت آچکاہے جس میں عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے کام کرنا چاہئے۔

بی جے پی اور دیگر سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذات پات اور مذہب کی سیاست کی وجہ سے عوام مصیبت میں مبتلا ہیں۔

ایسی سیاست صرف چند سیاسی جماعتوں کے لئے سود مند ثابت ہوتی ہے اور کبھی عام آدمی کے مفادات کی تکمیل نہیں کرتی۔سیاسی قائدین کو چاہئے کہ وہ عوام کے مسائل کا حل تلاش کرنے کیلئے کام کریں۔

تبصرہ کریں

Back to top button