پنجاب میں 63.44 فیصد پولنگ

اترپردیش اسمبلی الیکشن مرحلہ سوم میں اتوار کے دن شام 5 بجے تک رائے دہی کا تناسب 57.58 فیصد رہا۔ پنجاب میں یہ تناسب 63.44 فیصد درج ہوا۔ اترپردیش میں تیسرے مرحلہ کی پولنگ 16 اضلاع میں پھیلے 59 اسمبلی حلقوں میں ہوئی۔

نئی دہلی: اترپردیش اسمبلی الیکشن مرحلہ سوم میں اتوار کے دن شام 5 بجے تک رائے دہی کا تناسب 57.58 فیصد رہا۔ پنجاب میں یہ تناسب 63.44 فیصد درج ہوا۔ اترپردیش میں تیسرے مرحلہ کی پولنگ 16 اضلاع میں پھیلے 59 اسمبلی حلقوں میں ہوئی۔ ضلع للت پور میں سب سے زیادہ 67.37 فیصد رائے دہی ہوئی۔

ایٹا میں 63 فیصد اور مہوبہ میں 62.01 فیصد پولنگ ہوئی۔ شام 5 بجے تک کانپور میں رائے دہی کا تناسب سب سے کم 57.42 فیصد رہا۔ پنجاب کی 117 نشستوں کے لئے ایک ہی مرحلہ میں اتوار کے دن ووٹ ڈالے گئے۔

امرتسر میں رائے دہی کا تناسب 57.74 فیصد‘ برنالہ میں 68.03 فیصد‘ بھٹنڈہ میں 69.37 فیصد‘ فرید کوٹ میں 66.54 فیصد‘ فتح گڑھ صاحب میں 67.56 فیصد‘ فیروز پور میں 66.26 فیصد‘ گرداسپور میں 64.59 فیصد‘ ہوشیار پور میں 62.91 فیصد‘ جالندھر میں 58.47 فیصد‘ کپورتھلہ میں 62.46 فیصد‘ مالیر کوٹلہ میں 72.84 فیصد‘ پٹیالہ میں 65.89 فیصد اورترن تارن میں شام 5 بجے تک 60.47 فیصد رہا۔

چندی گڑھ سے پی ٹی آئی کے بموجب پنجاب میں سہ پہر 3 بجے تک لگ بھگ 50 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ رائے دہی صبح 8 بجے شروع ہوئی تھی۔ مرکزی فورسس کی 700کمپنیوں کے علاوہ ریاستی پولیس فورس بھی تعینات کی گئی تھی۔

مالیر کوٹلہ میں سہ پہر 3 بجے تک سب سے زیادہ ووٹنگ (57.07 فیصد) ہوئی۔ 1304 امیدواروں بشمول 93 خواتین اور 2 خواجہ سراؤں کا سیاسی مستقبل الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں بند ہوگیا۔

امرتسر کے ایک پولنگ بوتھ میں صدر پنجاب پردیش کانگریس نوجوت سنگھ سدھو اور شرومنی اکالی دَل قائد بکرم سنگھ مجیتیا کا آمنا سامنا ہوا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو ہیلو ہائے کہا۔ امرتسر مشرق نشست پر دونوں ایک دوسرے کے حریف ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے امیدوارِ چیف منسٹری بھگونت سنگھ مان نے اپنے آبائی مقام پر اپنی ماں سے ملاقات کی۔

الیکشن کمیشن نے اداکار اور مخیر شخصیت سونو سود کو موگہ کے پولنگ بوتھس کا دورہ کرنے سے روک دیا کیونکہ شکایتیں آئی تھیں کہ وہ رائے دہندوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ پولیس نے ان کی گاڑی ضبط کرلی تاہم سونو سود نے الزامات سے انکار کیا۔

ان کی بہن مالویکا سود سچر‘ موگہ سے کانگریس امیدوارہیں۔ چندی گڑھ کے مضافات میں واقع موضع زیرک پور میں ایک نوجوان خاتون دلہن کے لباس میں ووٹ ڈالنے آئی۔ ووٹ ڈالنے کے بعد اس کی شادی ہوئی۔ ریاست میں 196 پنک پولنگ اسٹیشن بنائے گئے جہاں کا سارا عملہ عورتوں پر مشتمل تھا۔

70پولنگ اسٹیشنس ایسے تھے جسے جسمانی معذورین چلارہے تھے۔ پولنگ بوتھس پر بزرگوں کی مدد کی گئی۔ انہیں وہیل چیئرس دستیاب کرائی گئیں۔ پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے والوں کو سرٹیفکیٹ دیا گیا۔ سابق چیف منسٹر پنجاب اور شرومنی اکالی دل کے سرپرست پرکاش سنگھ بادل(94 سالہ) نے ووٹ ڈالا۔

وہ معمرترین امیدوار ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے امیدوار ِ چیف منسٹری بھگونت مان نے موہالی میں ووٹ ڈالا۔ شرومنی اکالی دل سربراہ سکھبیر سنگھ بادل خود گاڑی چلاکر پولنگ بوتھ پہنچے۔ وہ اپنی فیملی کو ووٹ ڈالنے لائے تھے۔ انہوں نے مکتسر میں ووٹ ڈالا۔

عام آدمی پارٹی قائد راگھو چڈھا نے ٹویٹ کیا کہ گرو ہر سہائے کے پولنگ بوتھ میں ایک سرپنچ نے رائے دہندوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سنور‘ اٹاری اور مجیتا میں بعض الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں خرابی پیدا ہوئی۔

چیف منسٹر چرنجیت سنگھ چنی اور عام آدمی پارٹی قائد اروند کجریوال نے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حق ِرائے دہی سے استفادہ کریں۔ چیف منسٹر چنی نے دعویٰ کیا کہ کانگریس کو دوتہائی اکثریت ملے گی۔

ووٹ ڈالنے کے بعد پرکاش سنگھ بادل نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہماری جمہوریت بے حد مضبوط ہے۔ میں آخری سانس تک اپنے عوام کی خدمت کرتا رہوں گا۔ پٹیالہ میں سابق چیف منسٹر امریندر سنگھ نے اعتماد ظاہر کیاکہ انہیں جیت ملے گی۔

پنجاب میں ہمہ رخی مقابلہ ہوا۔ ریاست میں 24 ہزار 740 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے۔ بی جے پی نے کپتان امریندر سنگھ کی پنجاب لوک کانگریس اور سکھ دیو سنگھ دھنڈسہ کی شرومنی اکالی دل سنیوکت سے اتحاد کیا۔

تبصرہ کریں

Back to top button