پولیس نے ہمیں 8 دن تک اندھیرے میں رکھا۔ مسلم نوجوان کے ورثا الزام

مدھیہ پردیش کے شہر کھرگون میں فرقہ وارنہ جھڑپوں کے دوران لاپتہ 30 سالہ ایک شخص اس تشدد کی پہلی ہلاکت بنا ہے لیکن اس کی موت کو چھپانے کا الزام لگا ہے۔

کھرگون : مدھیہ پردیش کے شہر کھرگون میں فرقہ وارنہ جھڑپوں کے دوران لاپتہ 30 سالہ ایک شخص اس تشدد کی پہلی ہلاکت بنا ہے لیکن اس کی موت کو چھپانے کا الزام لگا ہے۔

مرحوم کے رشتہ داروں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے اس کی موت کو 8 دن تک چھپائے رکھا۔ کھرگون کے آنند نگر علاقہ میں ابریش خان کی نعش ملی تھی۔

کھرگون میں فریزر سہولت نہ ہونے کی وجہ سے نعش کو 8 دن اندور کے سرکاری دواخانہ میں رکھا گیا۔ پولیس نے پیر کے دن یہ بات بتائی۔

ایک پولیس عہدیدار نے کہا کہ ابریش خان کی موت سر پر پتھر لگنے سے ہوئی۔ 10 اپریل کو رام نومی جلوس کے دوران کھرگون میں فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوئی تھیں جس کے بعد شہر میں کرفیو لگانا پڑا تھا۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس روہت کشوانی نے بتایا کہ 11 اپریل کو آنند نگر علاقہ سے ایک نامعلوم نعش ملی تھی۔ کھرگون میں فریزر کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے پوسٹ مارٹم کے بعد نعش کو اندورگورنمنٹ ہاسپٹل میں رکھا گیا۔ ابریش کے ارکان خاندان نے 14 اپریل کو اس کے لاپتہ ہونے کی شکایت درج کرائی تھی۔

اتوار کے دن شناخت کے بعد نعش ورثا کو سونپ دی گئی۔ اسلام پورہ کے رہنے والے ابریش کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ پولیس نے بہت سی باتیں چھپائی ہیں۔

مرحوم کے بھائی اخلاق خان کا دعویٰ ہے کہ بعض لوگوں نے 12 اپریل کو ابریش کو پولیس حراست میں دیکھا تھا۔ پولیس نے ابریش کی موت اور نعش اندور میں ہونے کی اطلاع‘میڈیا سے رجوع ہونے کی دھمکی کے بعد دی۔ اخلاق کا کہنا ہے کہ ابریش افطاری دینے آنند نگر گیا تھا۔

آنند نگر کے لوگوں نے اس پر ہتھیاروں سے حملہ کردیا اور پتھر سے سر کچل دیا۔12 اپریل کو جن لوگوں نے ابریش کو پولیس کی حراست میں دیکھنے کی بات کہی ہے وہ گواہی دینے کو تیار نہیں ہیں۔ نعش کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ابریش پر بہیمانہ حملہ کیا گیا۔ پولیس نے 8 دن تک ہمیں تاریکی میں رکھا۔ میڈیا میں جانے کی دھمکی دینے کے بعد ہی پولیس نے ہمیں بتایا کہ نعش کہاں ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button