پولینڈ بارڈر پر ہندوستانی طلبا کو مارپیٹ

کانگریس قائد راہول گاندھی نے پیر کے دن حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کے لئے اپنا انخلاء منصوبہ فوری واضح کرے۔

نئی دہلی: کانگریس قائد راہول گاندھی نے پیر کے دن حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کے لئے اپنا انخلاء منصوبہ فوری واضح کرے۔

انہوں نے یوکرین میں فوج کی طرف سے بعض طلبا کو ہراسانی کا ایک ویڈیو شیئر کیا۔ ٹویٹر پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ میری دلی ہمدردیاں ہندوستانی طلبا اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔

حکومت ِ ہند کو چاہئے کہ وہ فوری اپنا انخلاء منصوبہ تفصیل سے بتائے۔ ہم اپنوں کو یوں ہی نہیں چھوڑسکتے۔ راہول گاندھی اور ان کی پارٹی‘ حکومت پر تنقید کررہی ہیں کہ یوکرین سے ہندوستانی طلبا کا بروقت انخلاء نہیں ہوا۔

کانگریس کے کئی قائدین نے یوکرین میں پریشان حال ہندوستانی طلبا کے ویڈیوزشیئر کئے اور حکومت ِ ہند سے انہیں جلد وطن واپس لانے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس نے بھی یوکرین میں ہندوستانیوں کو مارپیٹ کا ویڈیو ٹویٹ کیا۔

اس نے کہا کہ بیرونی ملک میں یہ لاٹھیاں ہندوستانی بچوں پر نہیں بلکہ ہندوستان کے وقار پر پڑرہی ہیں۔ پردھان منتری جی الیکشن چھوڑئیے‘ ملک کے بچوں کا دکھ دور کیجئے۔

اسی ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے پارٹی ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے بھی پوچھا کہ مودی جی ہمارے ہندوستانی بچوں پر ایسا ظلم دیکھنے کے بعد بھی کیا آپ منہ پھیرلیں گے؟۔

مشورہ دینے کے بجائے یوکرین سے ہزاروں ہندوستانیوں کو بحفاظت لانے کا کیا کوئی منصوبہ ہے؟کیا آپ انتخابی مہم چھوڑکر اپنے فرائض ادا کریں گے؟۔

راہول گاندھی کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کانگریس قائد ششی تھرور نے بھی ہندی میں ٹویٹ کیا اور کہا کہ غلط حکمت عملی اور دوراندیشی نہ ہونے کے باعث ہمارے ہزاروں بچے یوکرین میں پھنس گئے۔ حالات بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ وقت نکلتا جارہا ہے۔ ہندوستانی بچوں اوران کی زندگیوں کو بچانا ہمارا اولین فرض ہونا چاہئے۔

کانگریس ترجمان راگنی نائک نے کہا کہ ہزاروں ہندوستانی طلبا وار زون میں بنکروں میں کھانا پانی اور دواؤں کے بغیر پھنسے ہوئے ہیں۔

وہ مسلسل خوف کے ماحول میں جی رہے ہیں۔ انہیں حکومت کی کوئی مدد حاصل نہیں۔ ہمارے بچے مدد کے لئے رورہے ہیں۔ ہم نے کل رات یوکرین۔ پولینڈ سرحد کی ایک ویڈیو دیکھی ہے جہاں طلبا کو ماراپیٹا جارہا ہے۔

کیا وزیراعظم اور بی جے پی حکومت کے لئے یہ شرم کی بات نہیں جنہوں نے اپنے آنکھ اور کان بند کرلئے ہیں۔ مودی جی انتخابی مہم میں اتنے مصروف ہیں کہ ان کی حکومت نے طلبا کو پیشگی اڈوائزری جاری کرنے کی پرواہ نہیں کی۔

یوکرین میں امریکہ جیسے دیگر ممالک پیشگی اڈوائزری جاری کرچکے تھے۔ یوکرین سے چند طلبا کو لاکر ڈھول بجانا اور کریڈٹ لینا ٹھیک نہیں۔

حکومت کی ترجیح وہاں پھنسے مابقی طلبا کو لانا ہونی چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی ناکام ہوگئی کیونکہ پڑوسی ممالک نے اپنے شہریوں کو بہت پہلے پولینڈ سرحد پہنچادیا تھا۔

تبصرہ کریں

Back to top button