پہلے آر ایس ایس اور بجرنگ دل پر امتناع عائد کیا جائے:کانگریس لیڈر ضمیر احمد

ضمیر احمد نے دائیں بازو کے ہندو گروپس کو حجاب تنازعہ کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا۔ واضح رہے کہ حجاب تنازعہ جنوری میں اڈپی میں شروع ہوا تھا جب ایک کالج حکام نے مسلم طالبات کو کالج کے احاطہ میں حجاب استعمال نہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔

بنگلورو: کرناٹک کانگریس نے آر ایس ایس اور بجرنگ دل پر امتناع عائد کرنے کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔ رکن اسمبلی ضمیر احمد نے اس بات کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قائدین نے چیف منسٹر کرناٹک بسوا راج بمئی کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کے دوران کسی تنظیم پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ احمد نے بتایا کہ انہوں نے اقلیتی بہبود کے لیے بجٹ میں اضافہ کرنے کے لیے ایک یادداشت پیش کرنے چیف منسٹر سے ملاقات کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ سدا رامیا حکومت کے دور میں اقلیتی بہبود کا بجٹ 3,200 کروڑ روپئے ہوا کرتا تھا، جسے گھٹاکر 1150 کروڑ روپئے کردیا گیا۔ ہم نے کسی تنظیم پر پابندی عائد کرنے کے لیے ان سے ملاقات نہیں کی تھی۔ بہرحال اگر کسی تنظیم پر پابندی عائد کرنے کا سوال پیدا ہوتا ہے تو وہ چاہیں گے کہ پہلے آر ایس ایس اور بجرنگ دل پر امتناع عائد کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایف آئی پر امتناع عائد کرنے سے پہلے فرقہ وارانہ بے چینی پیدا کرنے کی پاداش میں آر ایس ایس اور بجرنگ دل پر امتناع عائد کیا جانا چاہیے۔ یہ سارے مسائل کون پیدا کررہا ہے۔ کیا ایس ڈی پی آئی فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کررہی ہے۔ انہوں نے دائیں بازو کے ہندو گروپس کو حجاب تنازعہ کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا۔ واضح رہے کہ حجاب تنازعہ جنوری میں اڈپی میں شروع ہوا تھا جب ایک کالج حکام نے مسلم طالبات کو کالج کے احاطہ میں حجاب استعمال نہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔

جلد ہی یہ تنازعہ ریاست کے دیگر علاقوں میں پھیل گیا اور یہ معاملہ کرناٹک ہائی کورٹ پہنچا، جس نے کہا کہ اسلام میں حجاب پہننا لازمی نہیں ہے اور ریاستی حکومت کے احکام کو برقرار رکھا، جن کے ذریعہ تعلیمی اداروں میں یونیفارم پہننے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ضمیر احمد نے کہا کہ اب انہوں نے حلال مسئلہ شروع کیا ہے۔ اس کے پیچھے کون ہے۔ آر ایس ایس اور بجرنگ دل اس کے لیے ذمہ دار ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں آر ایس ایس اور بجرنگ دل پر امتناع عائد کرنا چاہیے۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button