چندرشیکھر راؤ ملک میں تیسرے محاذ کے قیام کیلئے کوشاں

چیف منسٹر تلنگانہ و صدر تلنگانہ راشٹرا سمیتی ‘کے ۔چندرشیکھر راؤ گزشتہ چند دنوں سے مرکز میں برسراقتدا بی جے پی حکومت کے خلاف سخت ترین تنقیدوں پر اتر آئے ہیں۔

سلیم احمد

چیف منسٹر تلنگانہ و صدر تلنگانہ راشٹرا سمیتی ‘کے ۔چندرشیکھر راؤ گزشتہ چند دنوں سے مرکز میں برسراقتدا بی جے پی حکومت کے خلاف سخت ترین تنقیدوں پر اتر آئے ہیں۔ ان کے اس رویہ پر مختلف گوشوں سے یہ اظہار خیال کیا جارہا ہے کہ چیف منسٹر ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔ وہ وقت اور حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ذرائع ابلاغ میں اپنی رائے پیش کرتے ہیں۔ اس دوران چندرشیکھر راؤ سے چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی کے علاوہ سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا نے ربط پیدا کرتے ہوئے موجودہ صورتحال میں تیسرے محاذ کے قیام پر زور دیا۔ قبل ازیں چندرشیکھر راؤ نے ملک کی دیگر ریاستوں کے چیف منسٹرز سے فرداً فرداً ملاقات کرتے ہوئے مرکز میں زیر اقتدار بی جے پی حکومت کا ریاستوں کے ساتھ معاندانہ رویہ کی پرزور مذمت کریں گے اور ان سے نئے محاذ کی تشکیل میں تعاون کی درخواست کریں گے۔ اس خصوص میں مسٹر راؤ نے بی جے پی حکومت کی جانب سے عین انتخابات کے موقع پر سرجیکل اسٹرائیک کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنے کا الزام عائد کیا ۔ اس ضمن میں راہول گاندھی نے کہا تھا کہ سرجیکل اسٹرائیک کے ثبوت و شواہد عوام کے سامنے لائے جائیں کیوں کہ پاکستان کے خلاف کی گئی سرجیکل اسٹرائیک بعید از حقیقت ہے۔ راہول گاندھی کے اس مطالبہ پر آسام کے بھاجپائی چیف منسٹر ہیمنت بسواس شرما ‘ نے راہول گاندھی پر پلٹ وار کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ میں بیان دیا کہ وہ یہ ثابت کریں کہ وہ راجیو گاندھی کے فرزند ہیں۔ اس جملہ پر چراغ پا ہوکر ریاست تلنگانہ کے چیف منسٹر کی جانب سے راہول گاندھی کے بیان کو حق بجانب قراردیتے ہوئے ان کے بیان کی تائید کی اور بذات خود یہ سوال کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی سے جواب طلب کیا کہ سرجیکل اسٹرائیک کے حقائق سے واقف کروایا جائے اور مزید کہا کہ ایک ریاست کے چیف منسٹر کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اس طرح کے واہیات سوالات کریں۔ چندرشیکھر راؤ کے اس بیان پر نہ صرف کانگریس پارٹی بلکہ دیگر قومی و علاقائی سیاسی جماعتوں کے سربراہان سکتہ میں آگئے۔ ریاست تلنگانہ کے بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے کی جانب سے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ریاست تلنگانہ میں دشمنی اور نئی دہلی میں دوستی چیف منسٹر تلنگانہ کا وتیرہ ہے۔ جبکہ تلنگانہ کانگریس کے صدر ریونت ریڈی کی جانب سے یہ اظہار خیال کیا گیا کہ چندرشیکھر راؤ سپاری گینگ کے سربراہ ہیں اور بی جے پی کے ہمدرد ہیں۔ اگر وہ واقعی تیسرے محاذ کے قیام میں سنجیدہ ہوتے تو وہ نوین پٹنائک‘ کجریوال ‘ اکھلیش یادو کے علاوہ جگن موہن ریڈی جیسے قائدین سے ربط پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔ خلاصہ یہ کہ مذکورہ چاروں چیف منسٹرز بی جے پی کے اتحادی گروپ میں شامل ہیں ۔ جبکہ چندرشیکھر راؤ کانگریس کے اتحادی گروپ سے علاقائی جماعتوں کی تائید کے خواہاں ہیں۔ ریونت ریڈی کے اس بیان سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ چندرشیکھر راؤ کانگریس کے اتحادی علاقائی جماعتوں سے اتحاد قائم کرنے کے لئے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں بلکہ اس کے برعکس اگر دیکھا جائے تو وہ کانگریس اور اس کے اتحادیوں کی صفوں میں دراڑ پیدا کرنے کی کوششوں میں سرگرداں ہیں۔ چندرشیکھر راؤ کی راہول گاندھی کو حمایت بھی ایک طرح سے کانگریس کے ساتھ اتحاد کی طرف پہلا قدم قراردیا جارہا ہے۔ لیکن چندرشیکھر راؤ حالیہ عرصہ میں جس طرح بی جے پی کی شدت کے ساتھ مخالفت کرتے دکھائی دے رہے ہیں ریاست تلنگانہ کی عوام ان کے اس رویہ سے حیران ہیں۔ چندرشیکھر راؤ نے نوٹ بندی میں بی جے پی کا ساتھ دیا‘ صدر اور نائب صدر کے عہدوں پر بھی بی جے پی کی حمایت کی ‘ یہاں تک کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ریاست تلنگانہ میں مسلم طبقہ کے ووٹوں کے ذریعہ کئی ایک نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہیں اور مسلمانوں کے لئے ایوان پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے والے بلز تین طلاق کے علاوہ آرٹیکل370 پر بی جے پی کا ساتھ دیا۔ اتنا سب کچھ کرگزرنے کے باوجود چیف منسٹر تلنگانہ مرکز سے ریاست تلنگانہ کیلئے زائد رقومات یا کوئی بڑے پراجکٹس کے حصول میں ناکام رہے اور اب بی جے پی کی مخالفت اس لئے کی جارہی ہے کہ وہ ریاست تلنگانہ میں اپنے قدم جماتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے جو مستقبل قریب میں ٹی آر ایس کے لئے نقصاندہ صورتحال ثابت ہوسکتی ہے۔
چندرشیکھر راؤ کی بی جے پی کے خلاف اچانک جدوجہد نہ ہی ملک کے مفاد میں ہوسکتی ہے اور نہ ہی ریاست کے مفاد میں۔ کیوں کہ چندرشیکھر راؤ کا شمار ملک کے ابن الوقت سیاستدانوں میں ہوتا ہے ‘ جس طرح خود ریاست تلنگانہ کے صدر بی جے پی نے بتایا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کے دشمن نمبر ایک اور دہلی میں بی جے پی کے دوست نمبر ایک ہیں اور صدر کانگریس تلنگانہ کے تبصرہ کے مطابق چندرشیکھر راؤ کو چاہیے کہ وہ کانگریس اور اس کے حلیفوں سے دوستی کے بجائے بی جے پی کے حلیفوں کو اپنے نئے محاذ میں شامل کریں۔ اس طرح چندرشیکھر راؤ پر کی جانے والی تنقیدوں میں وزن لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں چندرشیکھر راؤ بی جے پی کو کمزور کرنے کے لئے نہیں بلکہ اس کو مزید طاقتور بنانے کے لئے سرگرداں ہیں اور حالیہ چھ ماہ کے عرصہ میں ان کی حکومت کی کارکردگی کا اگر جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے بی جے پی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یونیورسٹی کے نامزد وائس چانسلرز اور مختلف کمیٹیوں میں جیسے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن میں مسلم اقلیت کے نمائندوں کو شامل کئے جانے کی روایت رہی ہے کسی ایک بھی عہدہ پر مسلم طبقہ کے فرد کو نامزد نہیں کیا۔ حالیہ عرصہ میں ٹی آر ایس کے پارٹی صدور 31اضلاع میں نامزد کئے گئے ۔ سوائے سدی پیٹ کے مابقی تیس اضلاع میں غیر اقلیتی افراد کو نامزد کیا گیا۔ اس کے علاوہ کئی ایک پارٹی کے عہدے پر کرنے باقی ہیں۔ لیکن جہاں اقلیتوں کے خاص طور پر اردو اکیڈیمی‘ وقف بورڈ ‘ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے علاوہ حج کمیٹی جیسے نامزد عہدے ہیں ان پر بھی نامزدگی میں تاخیر کرتے ہوئے خاص طور پر ا قلیتی اداروں کو غیرکارکرد کردیا گیا تاکہ ریاست تلنگانہ میں اقلیتوں کے مسائل کو جوں کا توں رکھا جائے۔ چندرشیکھر راؤ جو ریاست تلنگانہ میں اقلیتوں کی آبادی کی بنیاد پر بارہ فیصد تحفظات کی فراہمی کے حق میں تھے نہ ہی پارٹی کے نامزد عہدوں پر تقررات کو اہمیت اور نہ ہی اس ضمن میں اب وہ بات کرنا پسند کرتے ہیں۔ اگر وہ چاہتے تو ریاست تلنگانہ کے مجالس مقامی کے علاوہ دیہی علاقوں میں مسلم ا قلیت کے نمائندوں کو بارہ فیصد کی اساس پر شامل کرتے ہوئے اس بات کا ثبوت فراہم کرسکتے تھے کہ وہ اپنے اختیار میں جو ہے وہ کرگزرتے ہیں۔ لیکن مسٹر راؤ نے ایسا نہیں کیا۔ نہ صرف سیاسی محاذ پر مسلم اقلیتوں کو غیر محسوس انداز میں کمزور کردیا گیا بلکہ نفسیاتی طور پر یہ باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ چندرشیکھر راؤ مسلم اقلیتوں کو نامزد عہدوں پر فائز کرنے والے نہیں ہیں۔ اس لحاظ سے اب مسلم اقلیتی طبقہ کے افراد چندرشیکھر راؤ یا پھر ان کے اہل خانہ ہریش راؤ ‘ کے۔ تارک راما راؤ یا پھر ان کی دختر کے۔کویتا سے ربط پیدا کرنے سے بھی کترارہے ہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی اور ٹی آر ایس میں مسلم اقلیتوں کی اہمیت کو گھٹایا جانے لگا تو وہ دن دور نہیں جب لوگ ٹی آر ایس پارٹی کے ماضی میں کئے گئے کارناموں اور مسلم اقلیتوں کے خلاف تین طلاق ‘ آرٹیکل 370 ‘ کے علاوہ ریاست میں کم از کم آبادی کی بنیاد پر نہ سہی ریاست میں جاری ساڑھے چار فیصد تحفظات کی بنیادوںپر پارٹی کے نامزد عہدوں کے علاوہ مجالس مقامی ‘ پنچایت اور دیگر اداروں میں جہاں دیگر اقوام کے افراد کو نامزد کیا جاتا ہے وہاں مسلم اقلیت کے نمائندوں کو بھی شامل کرتے ہوئے ریاست کے تمام طبقات کے ساتھ یکساں رویہ اختیار کرنے کا ثبوت حکومت اور اس کے سربراہ فراہم کرسکتے ہیں۔ ورنہ مسلم اقلیت اتنی کمزور بھی نہیں ‘ وہ اپنے ووٹ کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کو گھر بٹھاسکتی ہے ۔ چندرشیکھر راؤ کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دونوں میعادوں کے دوران مسلم اقلیتوں کی ٹی آر ایس کو بھر پور حمایت نے اسمبلی و پارلیمانی انتخابات میں پارٹی کے نمائندوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا تھا‘اگر یہی عوام چاہے تو انہیں خاک چٹاسکتی ہے۔ اس بنیادی حقیقت اور زاویہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے کے سی آر کو مستقبل میں اقدمات کو روبعمل لانا ہوگا۔

تبصرہ کریں

Back to top button