ڈاکٹر کو تنخواہ نہیں‘ منریگا میں مزدوری نہیں‘ کیا یہی ہے کہ آزادی کا امرت اُتسو

رویش کمار

کیا یہ ممکن ہے کہ دہلی جیسے مہنگے شہر میں ڈاکٹر، نرسنگ اسٹاف مہینوں کام کرتے رہیں اور 3-3 مہینے سے تنخواہ نہ ملے؟ یہ ممکن ہے۔ اگر ہر چوراہے پر ’’امرت لوٹا‘‘ نامی ایک اسکیم لانچ کردی جائے تو امرت کال میں لوگ قریبی چوراہے پر رکھے امرت لوٹے سے ایک بوند امرت پی لیں گے اور امر ہوجائیں گے۔ پھر شمالی ایم سی ڈی کے ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کو تنخواہ اور کھانے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔ دو سال سے الگ الگ اسپتالوں کے ڈاکٹروں کی تنخواہ کے لیے ہڑتال کی خبریں آچکی ہیں ،لیکن یہ کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ کیا اس لیے کہ سرکاری اسپتالوں میں آنے والا مریض غریب اور عام خاندانوں کا ہوتا ہے؟
ہمیں ڈاکٹروں سے جو سرکولر ملا ہے، اس پر آزادی کا امرت مہوتسو لکھا ہے۔ امرت مہوتسو میں ڈاکٹر5-5مہینے بغیر تنخواہ کے کام کریں گے اور ہڑتال پر جائیں گے تو انہیں برخاست کرنے کا نوٹس تھما دیا جائے گا۔ کم سے کم اس کام کے لیے امرت مہوتسو والے لیٹر پیڈ کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ نیچے زہریلی خبر ہے اور اوپر امرت لکھا ہے۔ اگر یہ چار فروری تک کام پر نہیں لوٹیں گے تو سرکولر کے مطاق انتظامیہ ان کی جگہ نئے ڈاکٹروں کو مقرر کرنے کا عمل شروع کردے گا۔ یعنی 270 ڈاکٹروں کو برخاست کرکے 270 ڈاکٹر رکھے جائیں گے وہ بھی کنٹراکٹ پر۔ سینئر ڈاکٹر یو پی ایس سی سے مقرر ہوتے ہیں۔ ریزیڈنٹ ڈاکٹر NEET PGسے منتخب کیے جاتے ہیں۔ جونیئر ایک سال اور سینئر ریزیڈنٹ تین سال کے لیے کنٹراکٹ پر مقرر ہوتے ہیں۔ 89اور 44 دن کے کنٹراکٹ پر رکھے جاتے ہیں جن کی خدمات میں وقتاً فوقتاً توسیع کی جاتی ہے۔ اگر یہ حال ہوگا تو سرکاری اسپتالوں میں کون خدمات انجام دینے آئے گا اور عام غریب لوگوں کے علاج کا کیا ہوگا۔
کیا کوئی وجہ اتنی واجب ہوسکتی ہے کہ ڈاکٹرو ںکو تین مہینے سے تنخواہ نہ دی جائے؟ نرسنگ اسٹاف کی تنخواہ تو ڈاکٹر سے بھی کم ہوتی ہے۔ ان کا گھر کیسے چلتا ہوگا۔ یہ ایک اسپتال کا معاملہ نہیں ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے بھی اس بات پر حیرانی ظاہر کی ہے کہ ڈاکٹر اور نرسنگ اسٹاف کو اتنے دنوں سے تنخواہ نہیں دی گئی ہے۔ عدالت نے شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن سے یہ تک کہہ دیا کہ اگر آپ اپنے وسائل کو سنبھال نہیں سکتے تو اپنی دکان بند کردیجئے۔ خانگی شعبہ ہوتا تو ایسی حالت میں بند کرنا پڑجاتا۔ ڈاکٹر کو ہی نہیں منریگا کے مزدوروں کو بھی مزدوری (اجرت) نہیں مل رہی ہے۔
راجیہ سبھا میں حکومت نے بتایا کہ منریگا کے مزدوروں کا 3358کروڑ روپئے باقی ہے۔ یہ چھوٹی رقم تو نہیں ہے۔ سی پی ایم کے رکن پارلیمنٹ جان برتاس نے اس بارے میں سوال پوچھا تھا کہ کس کس ریاست میںکتنی مزدوری باقی ہے۔ تب مملکتی وزیر دیہی ترقیات سادھوی نرنجن جیوتی نے بتایا کہ 27؍ فروری 2022 تک 3,358 کروڑ روپئے باقی ہیں۔ یہ تو رقم کا حساب ہے، ہم نہیں جانتے کہ کتنے لاکھ مزدور کتنے دنوں سے اپنی مزدوری کا انتظار کررہے ہیں۔ الیکشن کے وقت کھاتے میں پیسہ فوری چلا جاتا ہے لیکن جن لوگوں نے کام کیا ہے، ان کے کھاتے میں پیسے جانے میں اتنی تاخیر کیوں ہورہی ہے۔ کیا آپ نے سنا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کو تنخواہ نہیں ملی ہے تو پھر مزدوری کرکے اپنا پیٹ بھرنے والے مزدوروں کی مزدری وقت پر کیو ںنہیں دی گئی ہے؟
منریگا ایکٹ میں ہے کہ کام کرنے کے 15دن کے اندر مزدوری دینی ہے، تاخیر ہونے پر معاوضہ دینا پڑتا ہے۔ حکومت وہ بھی کبھی ٹھیک سے نہیں دیتی ہے۔ کیا مزدور کے پاس اتنا پیسہ ہوتا ہے کہ کام کرنے کے بعد پیسے کے لیے دیڑھ مہینے تک انتظار کرے؟ اس بار کے بجٹ میں منیرگا کا بجٹ 98000 کروڑ سے 73,000کروڑ کردیا گیا ہے۔ دلیل دی جارہی ہے کہ طلب کم ہوگئی ہے، لیکن ریکارڈ بتاتے ہیں کہ ہر سال کام کی طلب بڑھتی ہے جس کی وجہ سے حکومت کو بھی ترمیمی بجٹ میں رقم بڑھانی پڑتی ہے۔ اقتصادی سروے میں بھی کہا گیا کہ عالمی وباء سے قبل کے دور سے کام کی طلب زیادہ ہے۔ تب تو زیادہ بجٹ دینا ہی چاہیے تھا۔
حکومت نے ایک اسکیم بنائی تھی اُنّتی۔ اس کے تحت منریگا کے دو لاکھ مزدوروں کو ٹریننگ دینا تھا۔19؍ دسمبر2019 کو وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے اُنّتی پراجکٹ لانچ کیا تھا تا کہ تربیت کے بعد منریگا کے مزدوروں کو پکا کام مل سکے۔ ستمبر2019 اور دسمبر2019 میں منریگا کے مزدوروں کو ٹریننگ دینے سے متعلق سرخیاں شائع ہوئی ہیں۔ سرکاری اطلاعات ایجنسی پی آئی بی نے 31؍ دسمبر2021 کی اپنی ریلیز میں بتایا ہے کہ اُنّتی کے تحت تین سال میں ملک بھر کے دو لاکھ مزدوروں کو 100دن کی تربیت دی جانی تھی تا کہ انہیں منریگا کے بعد اور بہتر کام مل سکے۔ لیکن 2019-20، 2020-21، 2021-22 میں صرف 12,561 مزدوروں کو ٹریننگ دی گئی۔ کیا حکومت کو ملک بھر میں تین سال کے اندر دو لاکھ منریگا کے مزدور نہیں ملے جنہیں تربیت دی جاسکتی تھی۔
کیا آپ کو یاد تھا کہ اُنّتی نام کی اسکیم لانچ ہوئی؟ اسکیمات عمل آوری کے لیے لانچ ہوتی ہیں یا سرخیاں اور اشتہار کے لیے؟ یہی حال ہیلتھ اینڈ ویلینس سنٹر کا ہے۔ ہم نے 7؍ دسمبر کے پرائم ٹائم کے ایک ایپی سوڈ میں دکھایا تھا کہ یو پی کے کئی اضلاع میں سرکاری استپالوں میں ڈاکٹر نہیں ہے۔ مریض ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں دوڑتے رہتے ہیں اور وہاں بھی ڈاکٹر نہیں ملتے ہیں۔ یوٹیوب پر یہ ایپی سوڈ موجود ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ 31؍ دسمبر2022تک ہندوستان میں دیڑھ لاکھ ہیلتھ اینڈ ویلنیس سنٹر بنانے تھے لیکن ابھی تک 76,663بنے۔
ان مراکز پر کس طرح کا کام ہورہا ہے یہ دیکھنے کے لیے ہم پہنچے بلند شہر کے ککوڑ پرائمری ہیلتھ سنٹر۔ تنگ گلیوں سے ہوتے ہوئے کیچڑ اور گوبر کی بے انتہا خوشبو میں شرابور آپ جب اس ہیلتھ سنٹر پر پہنچتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ یہ وہی ہیلتھ اینڈ ویلنس سنٹر ہے جس کی بات وزیراعظم نے لال قلعے سے کی تھی۔ سنٹر کے نام کا اسٹکر تو تھا مگر ویسا کچھ نہیں تھا جیسا وزیراعظم دعویٰ کرتے تھے۔ یہاں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ملا۔ کونسلر منوج سے ملاقات ہوئی جنہوں نے کہا کہ یہاں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر اور ایک خاتون ڈاکٹر کا ہونا لازمی ہے، لیکن مریضوں کو وہی دیکھ لیتے ہیں۔ یہ سنٹر ابھی پوری طرح تیار نہیں ہوا ہے۔ ککوڑ کے بعد ہماری ٹیم بلند شہر کے ویر پرائمری ہیلتھ سنٹر پہنچی۔ یہاں کی حالت ککوڑ جیسی تھی۔ کوئی ڈاکٹر اپنی سیٹ پر نہیں ملا۔ اپنے بچے کو دکھانے آئے ایک شخص سے جب بات کی تو انہوں نے بتایا کہ بچے کو کسی ڈاکٹر نے نہیں بلکہ پرائمری ہیلتھ سنٹر کے فارماسسٹ نے دوا دی ہے۔
انتخابی مباحث میں ایسی خبریں غائب ہونے لگی ہیں کیوں کہ یہ دیکھنے والوں میں اشتعال پیدا نہیں کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحافی راہ چلتے لوگو ں سے بات کرنے لگتے ہیں اور لوگوں کی باتیں دلچسپ بھی لگتی ہیں۔ اس میں ایک فرق نوٹ کیجئے گا۔ آپ کو لگے گا کہ آپ لوکشین سے رپورٹ دیکھ رہے ہیں مگر لوکیشن سے بھی لوکیشن غائب ہے۔ جیسے عام آدمی بہت غصے میں یا دلچسپی سے بتارہا ہے کہ اسپتال اسکول کی حالت خراب ہے لیکن ان مقامات پر صحافی نہیں جاتا ہے۔ اس طرح سے لوکیشن میں سے لوکیشن مائنس کردیا جاتا ہے اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ گرائونڈ سے رپورٹنگ دیکھ رہے ہیں۔
آگرہ میں دھنولی عزیز پور کے لوگ 114دنوں سے دھرنا دہے رہیں۔ ان کی شکایت یہ ہے کہ 2کلومیٹر لمبی سڑک نالے میں بدل گئی ہے۔ نالے کا پانی نکلتا نہیں ہے اس لیے لوگ بیمار پڑنے لگے ہیں۔ اب کیا یہ ایسا مسئلہ ہے جو مقامی عہدیدار اپنی سطح پر درست نہیں کرسکتے تھے؟ کیا جن عہدیداروں کے تحت یہ علاقہ آتا ہے، ان کی کوئی جوابدہی نہیں ہوتی ہے۔ چودھری پریم سنگھ نے نسیم سے کہا کہ اس علاقہ میں کوئی ووٹ کے لیے مہم چلانے نہیں آرہا ہے نہ کوئی وعدہ کررہا ہے۔
اجنیش گری کہہ رہے ہیں کہ سڑک نہیں بنے گی تو چوٹی کٹوالوں گا اور شادی نہیں کروں گا۔ اتنی بڑی قربانی دے رہے ہیں۔ کیا امرت کال کا ہندوستان ایک سڑک کے لیے اتنے قابل دولہے کو گنواسکتا ہے؟ فوری سڑک بن جانی چاہیے۔ سماجی کارکن ساوتری چاہر طنز کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ہمارے علاقے میں ترقی کی گنگا بہہ رہی ہے۔ مودی جی یوگی جی کہتے ہیں کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس اس لیے اس علاقے کا بھی وکاس ہورہا ہے ۔ وہ بتاتی ہیں اس مسئلہ کی وجہ سے یہاں پر لوگ مکان فروخت کرنے کو بھی مجبور ہوگئے ہیں۔ ویسے یو پی کے انتخابات میں اُجولا کی بات نہیں ہورہی ہے جبکہ 2017 کے الیکشن میں اس کی خوب دھوم تھی۔ تب ہر تقریر میں اُجولا کا اجالا تھا، لیکن اس بار کی تقاریر میں اُجولا اندھیرے میں ڈوب گئی ہے۔ غریبوںکو سلنڈر دیا گیا تا کہ وہ خود کو دھوئیں سے بچاسکیں، لیکن مہنگائی نے ان کی یہ حالت کردی ہے کہ ایک بار سلنڈر ختم ہورہا ہے تو وہ دوبارہ بھرانے کی حالت میں نہیں ہیں۔
مرزا پور کے رمئی پٹی پرما پورے علاقہ کی کلاوتی کا باورچی خانہ تک3سال پہلے اُجولا اسکیم کے تحت گیس کنکشن پہنچ گیا۔ انہیں لگا کہ اب چولہے کے دھوئیں سے نجات مل جائے گی، لیکن مہنگائی کی آنچ اتنی تیز ہوئی کہ گیس سلنڈر اور چولہا کچن میں شو پیس بن کر رہ گئے۔
سی اے جی نے تسلیم کیا کہ اجولا اسکیم کے استفادہ کنندگان کے سلنڈر بھروانے میں کمی آئی ہے۔ اعداد و شمار کو دیکھیں تو گزشتہ ایک سال یعنی اکتوبر2020 سے گھریلو سلنڈر کی قیمت جہاں 632 روپئے تھی وہ سال بھر کے اندر تقریباً937 روپئے ہوچکی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں 13بار سلنڈر کی قیمتوں میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ کورونا لاک لاک ڈائون میں بے روزگاری بڑھنے اور سلنڈر کے مسلسل مہنگے ہونے سے اجولا استفادہ کنندگان بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ آل انڈیا ایل پی جی ڈیلر اسوسی ایشن کے کنوینر سجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ ریاست بھر کے ایل پی جی ڈیلر بھی اس وقت مشکل میں ہیں کیو ںکہ گیس کی کھپت دیہات میں کم ہورہی ہے۔ لاک ڈائون کے بعد اس میں مزید کمی ہوئی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button