کرناٹک میں مندر میلوں میں مسلم تاجرین پر امتناع

جنوبی کنڑ ضلع میں بپن ڈوئی شری درگا پمیشوری مندر کے سالانہ اتسو کی ایک ہورڈنگ لگی ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ جو لوگ ملک کے قانون کا احترام نہیں کرتے ہیں اور جو ہماری مقدس گایوں کو نہیں مانتے اور جو یکجہتی کے خلاف ہے، انہیں ہم تجارت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

اُڈپی: حجاب تنازعہ نے اب فرقہ وارانہ شکل اختیار کرلی ہے۔ کرناٹک کے منادر میں مسلم دکانداروں پر مقامی سالانہ میلوں میں امتناع عائد کردیا گیا ہے۔ انتظامی کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے دائیں بازو کے ہندو گروپس کے دباؤ میں آکر یہ فیصلہ کیا ہے۔ دراصل کرناٹک ہائی کورٹ نے اسکول و کالجوں میں حجاب پر امتناع عائد کرنے کا فیصلہ صادر کیا تھا۔

 اس حکم کے خلاف کرناٹک میں بند کی اپیل کی گئی تھی اور ان مسلم دکانداروں نے بھی بند کی حمایت میں دکانات کے شٹر گرادیے تھے۔ کرناٹک کے ساحلی علاقہ میں واقع منادر کے سالانہ میلے عام طور اپریل۔ مئی کے مہینے میں منعقد کیے جاتے ہیں۔ سالانہ اُتسو کے دوران میلے لگتے ہیں اور تمام فرقہ وارانہ کشیدگی کے باوجود آج تک کبھی مسلم دکانداروں کو دکانات  لگانے سے روکا نہیں گیا، لیکن اب کرناٹک ہائی کورٹ کے حجاب پر فیصلے کے بعد کئی منادر نے اپنے تہواروں میں مسلمانوں کے داخلے پر امتناع عائد کردیاہے۔

 20ا/ اپریل کو ہونے والے مہالنگیشور مندر کے سالانہ اُتسو کے منتظمین نے مسلمانوں کو نیلامی میں حصہ لینے سے روک دیا ہے۔ منتظمین نے واضح کیا کہ 31/ مارچ کو بولی میں حصہ لینے کے  لیے صرف ہندو اہل ہیں۔ اسی طرح اڈپی ضلع کے کوپ میں حہوسا ماری گوڑی مندر کے اس ہفتہ منعقد شدنی سالانہ میلے کے لیے 18/ مارچ کو نیلامی ہوئی۔ اس میں بھی مسلمانوں کو اسٹال الاٹ کرنے سے انکار کردیا گیا۔

مندر انتظامیہ سمیتی کے صدر رمیش ہیگڈے نے کہا کہ انہوں نے ایک قرارداد منظور کی جس میں صرف ہندوؤں کو دکانات کی نیلامی میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی۔ ہندو جاگرن ویدیکے کے منگلورو ڈیویژن کے جنرل سکریٹری پرکاش کوکے ہلی نے کہا کہ حجاب پر ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف مسلمانوں کی جانب سے اپنی دکانات بند کرنے کے بعد مقامی مندر کے عقیدت مند ناراض تھے۔

 جنوبی کنڑ ضلع میں بپن ڈوئی شری درگا پمیشوری مندر کے سالانہ اتسو کی ایک ہورڈنگ لگی ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ جو لوگ ملک کے قانون کا احترام نہیں کرتے ہیں اور جو ہماری مقدس گایوں کو نہیں مانتے اور جو یکجہتی کے خلاف ہے، انہیں ہم تجارت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہندو بیدار ہیں۔“ کاپو کے مندر کے ایگزیکٹیو آفیسر نے کہا کہ ”ہند و نواز تنظیموں نے یادداشت پیش کرتے ہوئے ماری گوڑی مندر کے اتسو کے دوران صرف ہندو تاجرین کو اجازت دینے اور دیگر فرقوں کے افراد کو اجازت نہ دینے کا مطالبہ کیا۔

 اس کے حساب سے مندر انتظامیہ نے کسی بھی غیرہندو کو مندر انتظامیہ کی اراضی کرایہ پر نہ دینے کا فیصلہ کیا۔  صر ف ہندوؤں کو کاروبار کے لیے زمین دی جائے گی۔“ مندر انتظامیہ کو اپنی یادداشت میں کاپو کی ٹولوناڈو ہندو سینا نے اپیل کی کہ سوگی ماری پوجا تہوار کے دوران کسی بھی مسلم کو تجارت کی اجازت نہ دی جائے۔ ہندو سینا نے کہا کہ ماری پوجا تہوار کے دوران کسی بھی مسلم کو اسٹال لگانے جگہ نہیں جانی چاہیے۔ اگر وہاں مسلمانوں کو اسٹالس لگانے کی اجازت دی گئی تو پھر مسئلہ اور خطرہ کے لیے صرف آپ (مندر حکام) ذمہ دار ہوں گے۔ لہٰذا آپ کو مسلمانوں کو اسٹالس لگانے جگہ نہیں دینی چاہیے۔“

ہندو جاگرن ویدیکے کے پرکاش کے نے کہا کہ کاپو ٹاؤن میں ماری پوجے اڈپی ضلع کا بہت بڑا تہوار ہے جس میں بڑی تعداد میں مسلم تاجرین کاروبار کرتے ہیں۔“ انہوں نے صحافیوں کوبتایا کہ جو ہمارے بھگوانوں، ہمارے مذہبی مقامات کا احترام نہیں کرتے اور دوسرے عقیدہ پر عمل کرتے ہیں ان کو ہمارے مذہبی تہواروں میں کاروبار نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ہندوفرقہ کی ماری گوڑی مندر انتظامیہ سے اپیل ہے۔“ اس اپیل کے پس پردہ وجہ سمجھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حال ہی میں مسلم تاجرین نے کرناٹک ہائی کورٹ کے حجاب فیصلے کے خلاف ریاست بھر میں بند منایا۔ وہ (مسلمان) ملک کے قانون اور  ہائی کورٹ کے فیصلے کا احترام نہیں کرتے۔ ہندو سماج کو ایسے غداروں کو کاروبار کرنے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔“

ان کے مطابق مندر انتظامیہ نے ہندو فرقہ کی درخواست پر مثبت ردعمل ظاہر کیا اور اس مرتبہ مندر کے احاطہ میں دوسرے عقیدہ کے افراد کو کاروبار کرنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا۔  پرکاش نے کہا کہ دوسرے مذہب کے افراد کو مندر کے احاطہ میں تجارت کی اجازت دینے سے مستقبل میں تنازعہ پیدا ہوسکتا ہے کیوں کہ آج ہندو سماج برہم ہے۔ وہ آپے سے باہر ہوسکتا ہے۔ نظم و ضبط اور مذہبی عقیدہ کے پیش نظر کسی بھی مسلمان کو ہمارے مذہبی تہوارو ں میں کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ہندو تنظیم کے لیڈر نے کہا کہ یہ رجحان صرف کاپو تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ہر جگہ اس پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اجیرے مذہبی تہوار میں کاروبار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ہمارے تہواروں کے دوران کاروبار کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے کیوں کہ جب ہم نے گنگولی میں گاؤکشی کی مخالفت کی تھی تو مسلمانوں نے ہندو ماہی گیر خواتین سے مچھلی خریدنا بند کردیا تھا۔

 اقلیت میں ہونے کے باوجود جب وہ اپنی طاقت دکھاسکتے ہیں تو ہم اکثریت ہندو اپنی طاقت کیوں نہیں دکھاسکتے؟“ دریں اثناء کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے اڈپٹی ضلع کے سکریٹری  بال کرشنا شیٹی نے اڈپی کے ڈپٹی کمشنر کو مکتوب تحریر کرکے مداخلت کرنے اور اس طرح کے اقدامات کی اجازت نہ دینے کی درخواست کی کیو ں کہ یہ ریاست بھر میں الگ ہی رخ لے سکتے ہیں اور فرقہ وارانہ خطوط پر عوام کی تقسیم کا سبب بن سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے بجرنگ دل کے آل انڈیا کنوینر سوریہ نارائن راؤ نے وضاحت کی کہ تنظیم مسلمانوں کے خلاف نہیں بلکہ صرف ان ہی کی مخالفت کرتی ہے جو ملک کے قانون اور حجاب پر ہائی کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دستور، عدلیہ اور سیاسی نظام کی مخالفت کرنے والے ’‘ ملک دشمن عناصر“ کے خلاف ریاست کے دیگر حصوں میں ”ہندوبیداری مہم“ جاری رہے گی۔ دریں اثناء اڈپی ضلع کے پھیری والوں اور تاجرین کی انجمن نے ضلع انتظامیہ سے ہندو تہواروں اور مندروں کے سالانہ میلوں میں مسلم تاجرین کو کاروبار کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی۔ انجمن کے سکریٹری محمد عارف نے کہا کہ ایسی صورت حال پہلے کبھی نہیں تھی۔ تقریباً700 رجسٹرڈ ارکان ہیں جن میں سے 450مسلمان ہیں۔ کووڈ19کی وجہ سے گزشتہ دو سالوں سے ہمارے پاس کوئی کاروبار نہیں تھا۔ اب جب کہ ہم پھر سے کمائی کرنا شروع کررہے ہیں تو ہم پر مندر کمیٹیوں نے امتناع عائد کردیا ہے۔ منگل سے شروع ہوئے شیوموگہ کے کوٹے مری کامبا اتسو سے مسلمانوں کو باہر رکھا گیا ہے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button