کرنول میں ہنومان جینتی جلوس پر سنگباری ،حالات معمول پر آگئے

پولیس دونوں طرف کے لوگوں کو مقامی پولیس اسٹیشن لے آئی۔ جہاں دونوں گروپوں کے لوگوں میں لفظی جھڑپ ہوئی اور حالات کسی قدر کشیدہ ہوگئے تاہم پولیس نے انہیں خاموش رہنے کی ہدایت دی اورکہا کہ پرامن فضا مکدر کرنے پر سخت کاروائی کا انتباہ دیا۔

امراوتی: آندھرا پردیش کے ضلع کرنول کے ہولا گنڈا گاؤں میں دو فرقوں کے درمیان معمولی جھڑپ کے نتیجہ میں سنگباری ہوئی تاہم پولیس کی بروقت مداخلت سے حالات دوبارہ معمول پر آگئے اور پولیس نے دونوں طرف کے افراد کو پرامن رہنے کی کامیاب ترغیب دی۔ پولیس ذرائع نے اتوار کے روز یہ بات بتائی۔

 ہفتہ کی شب جھڑپ اس وقت ہوئی جبکہ ہنومان جینتی کے موقع پر گاؤں میں جلوس نکالا گیا جب جلوس ایک مسجد کے قریب پہنچا تب جینتی کے منتظمین نے رمضان کے پیش نظر بطور احترام مائک کو بند کردیا تاہم چند بھکت نے اچانک جئے شری رام کے نعرے لگائے جس پر وہاں موجود مسلم نوجوان برہم ہوگئے اور انہوں نے جلوس پر مبینہ طور پر پتھربرسائے اس کے جواب میں شرکائے جلوس نے بھی سنگباری کی۔

 پولیس دونوں طرف کے لوگوں کو مقامی پولیس اسٹیشن لے آئی۔ جہاں دونوں گروپوں کے لوگوں میں لفظی جھڑپ ہوئی اور حالات کسی قدر کشیدہ ہوگئے تاہم پولیس نے انہیں خاموش رہنے کی ہدایت دی اورکہا کہ پرامن فضا مکدر کرنے پر سخت کاروائی کا انتباہ دیا۔ایس پی کرنول سدھیر کمار ریڈی صورتحال کا جائزہ لینے فوری ہولاگنڈا موضع پہنچ گئے۔

کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے زائد پولیس فورس کو گاؤں میں متعین کردیا گیا ہے۔ صدر ریاستی بی جے پی سومو ویر راجو نے اس واقعہ کی مذمت کی اور کہا کہ مسجد سے جلوس پر پتھر برسائے گئے۔ انہوں نے خاطیوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button