کسانوں کا احتجاج معطل‘ 11دسمبر تک دہلی کی سرحدوں کا تخلیہ

سمیوکت کسان مورچہ(ایس کے ایم) نے آج کہا کہ انہوں نے حکومت کی جانب سے اپنے مطالبات پر مثبت تیقنات کے بعد اپنے احتجاج کو معطل کردیا ہے، تاہم 15 جنوری کو دوبارہ جائزہ لیاجائے گا۔

نئی دہلی: تین زرعی قوانین (جنہیں اب منسوخ کردیاگیا ہے) کے خلاف احتجاج کے آغاز کے تقریباً 15 ماہ بعد سمیوکت کسان مورچہ(ایس کے ایم) نے آج کہا کہ انہوں نے حکومت کی جانب سے اپنے مطالبات پر مثبت تیقنات کے بعد اپنے احتجاج کو معطل کردیا ہے، تاہم 15 جنوری کو دوبارہ جائزہ لیاجائے گا۔ سمیوکت کسان مورچہ (ایس کے ایم) کے ایک لیڈریدھ ویر سنگھ نے کہا کہ ہمیں حکومت کی طرف سے موصولہ مکتوب پر مسرت ہے۔

یو این آئی کے بموجب  سمیوکت کسان مورچہ نے جمعرات کو حکومت کی طرف سے کسانوں کے مطالبات کو پورا کرنے کے وعدے کے بعد ایک سال سے جاری کسانوں کی تحریک کو معطل کرنے کا اعلان کیا۔سنگھو بارڈر پر اس کا اعلان کرتے ہوئے کسان لیڈر بلویر راجیوال نے کہا کہ 11 دسمبر کو کسان دہلی کی سرحدوں اور ملک کے دیگر مقامات سے دھرنا ختم کریں گے  انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ احتجاج کو معطل کرنے کا فیصلہ مورچہ کی میٹنگ میں حکومت کی طرف سے ان کے مطالبات کو پورا کرنے کے وعدے کے بعد کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں تحریک کی قیادت کرنے والی دیگر تنظیموں کے کسان رہنما بھی موجود تھے۔

 راجیوال نے بتایاکہ "ہم ہر ماہ حکومت کے وعدوں کو پورا کرنے کے کام کا جائزہ لیں گے اور اسی کی بنیاد پر مزید حکمت عملی طے کی جائے گی۔,انہوں نے کہا کہ 11 دسمبر کو کسان وجے دیوس منائیں گے اور اس دن سے وہ کسان جو دہلی اور دیگر مقامات پر ایک سال سے زیادہ عرصے سے پھنسے ہوئے ہیں‘ اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہو جائیں گے۔

چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت اور کل ان کی آخری رسومات کے پیش نظر کسان ہفتہ کو وجے دیوس منائیں گے۔کسان 13 دسمبر کو گولڈن ٹیمپل بھی جائیں گے۔کسان لیڈر یوگیندر یادو نے کہا کہ حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر ایک کمیٹی تشکیل دے گی۔ ایم ایس پی کے تحت خریداری موجودہ پوزیشن پر جاری رہے گی۔ حکومت نے ایم ایس پی کی بھی یقین دہانی کرائی۔ مورچہ 15 جنوری کو دہلی میں میٹنگ کرے گا جس میں حکومت کے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے کئے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button