کوہلی کی ناقص حکمت عملی، ٹیم انڈیا کی شکست کی ذمہ دار

کوہلی نے بلے بازی آرڈر میں 3 بڑی تبدیلیاں کیں لیکن ان کا ایک بھی داوں نہیں چلا اور ہندوستانی ٹاپ آرڈر بکھر گیا اور محض 50 رن کے اندر 4 بلے باز پویلین لوٹ گئے۔ اسی وجہ سے ہندوستانی ٹیم نیوزی لینڈ کے خلاف بڑا اسکور نہیں کھڑا کرپائی۔

نئی دہلی: ٹی۔20 عالمی کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہوئے کرو یا مرو کے مقابلے میں ہندوستانی کپتان ویراٹ کوہلی کی ضد ٹیم انڈیا پر بھاری پڑگئی۔ ان کا کوئی بھی فیصلہ ٹیم کے کام نہ آیا۔ الٹا ہندوستان نیوزی لینڈ سے ہارگیا اور سیمی فائنل میں پہنچنے کی امیدیں مزید کمزور ہوگئیں۔

اس میچ میں کوہلی نے بلے بازی آرڈر میں 3 بڑی تبدیلیاں کیں لیکن ان کا ایک بھی داوں نہیں چلا اور ہندوستانی ٹاپ آرڈر بکھر گیا اور محض 50 رن کے اندر 4 بلے باز پویلین لوٹ گئے۔ اسی وجہ سے ہندوستانی ٹیم نیوزی لینڈ کے خلاف بڑا اسکور نہیں کھڑا کرپائی۔

نیوزی لینڈ کے خلاف مقابلہ کیلئے سوریہ کمار یادو کی جگہ ایشان کشن کو پلیئنگ الیون میں موقع دیاگیا تھا اور ٹاس کے وقت ہی کپتان کوہلی نے یہ کہہ دیا تھاکہ ایشان کشن ٹاپ آرڈر میں کھیلیں گے۔ اب سوال اٹھ رہاہے کہ آخر کیوں ویراٹ نے 3 بین الاقوامی ٹی-20 کھیلنے والے ناتجربہ کار ایشان کشن سے اننگ کی شروعات کرانے کا خطرہ اٹھایا۔

وہ بھی تب جب ایشان کشن کو نئی گیند سے ٹرینٹ بولٹ اور ٹم ساوتھی جیسے سوئنگ گیندبازوں کا سامنا کرنا تھا۔ جیساکہ خدشہ تھا، وہی ہوا، ایشان کشن ایک چوکا لگاکر بولٹ کا شکار ہوگئے۔ ویراٹ کوہلی کا دوسرا حیران کرنے والا فیصلہ روہت شرما کو بطور سلامی بلے باز نظر انداز کرنا تھا۔

کرو یا مرو کے مقابلہ میں ایشان کشن کو ٹاپ آرڈر میں کھلانے کیلئے روہت شرما کے بلے بازی آرڈر میں تبدیلی کی گئی۔ وہ 3 نمبر پر کھیلنے آئے اور اش سودھی کی گیند پر بڑا شاٹ کھیلنے کے چکر میں سستے میں آوٹ ہوگئے۔ روہت شرما نے 14 گیندوں میں 14 رن بنائے۔ اس سے ٹیم انڈیا کے مڈل آرڈر پر اور دباو آگیا۔ روہت شرما کا ریکارڈ بطور سلامی بلے باز شاندار ہے۔

انہوں نے 113 بین الاقوامی ٹی۔20 میں سے 80 میں اوپننگ کی ہے اور اس میں انہوں نے 2404 رن بنائے ہیں۔ روہت شرما نے اننگ کا آغاز کرتے ہوئے ٹی۔20 میں 4 سنچری بھی لگائی ہے۔ ایسے میں کوہلی کا یہ فیصلہ بھی سمجھ سے باہر تھا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف مقابلے میں کے ایل راہول نے ٹاپ آرڈر میں اپنا مقام برقرار رکھا جبکہ روہت کو 3 نمبر پر بلے بازی کرنی پڑی۔

کے ایل راہول کے پاس مڈل آرڈر میں بلے بازی کرنے کا ایک اچھا تجربہ ہے۔ وہ بین الاقوامی کرکٹ اور آئی پی ایل دونوں میں مڈل آرڈر میں بلے بازی کرچکے ہیں اور مڈل آرڈر میں کھیلتے ہوئے ان کا ریکارڈ شاندار رہاہے۔ ایسے میں اگر روہت کی جگہ راہول کو مڈل آرڈر میں کھلایا جاتا تو ٹیم انڈیا کیلئے مزید بہتر ہوتا۔

اس کے علاوہ تجربہ کار آف اسپنر روی چندرن اشون کو بھی مسلسل نظرانداز کیاجا رہا ہے۔ اگر نیوزی لینڈ کے خلاف اشون کو ٹیم انڈیا کے 11 کھلاڑیوں میں جگی دی جاتی تو وہ ورون چکرورتی سے بہتر ثابت ہوتے۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button