گروگرام میں خلل کے باوجود نماز جمعہ کی ادائیگی

مسلمان‘ نماز پڑھنے کے بعد پرامن طورپر وہاں سے چلے گئے۔ اسسٹنٹ کمشنر پولیس (اے سی پی) سٹی راجندر سنگھ نے جو گراؤنڈ میں موجود تھے‘ بتایا کہ پولیس نے ہندو گروپ کے چند ارکان کو حراست میں لیا ہے۔

گروگرام: کھلے میدانوں میں نمازجمعہ کی ادائیگی پر پھر تنازعہ پیدا ہوا۔ گروگرام (گڑگاؤں) کے سیکٹر 37 گراؤنڈ میں بعض ہندو گروپس کے شورشرابہ کے باوجود 200 تا 300 مسلمانوں نے آج نمازجمعہ ادا کی۔ ہندو گروپس نے نماز جمعہ کے خلاف احتجاج کیا۔ گروگرام پولیس نے ہندو تنظیموں کے لگ بھگ 10  افراد بشمول دنیش ٹھاکر کو حراست میں لیا جو انڈسٹریل ایریا  سیکٹر 37 میں نماز جمعہ کی ادائیگی میں خلل ڈالنے کی کوشش کررہے تھے۔

دنیش ٹھاکر ایک دایاں بازو گروپ کا سربراہ ہے۔ بھارت ماتا واہنی گروپ نے مطالبہ کیا کہ پبلک پارکس اور کھلے مقامات پر نماز کی ادائیگی کا سلسلہ ختم ہوجانا چاہئے۔ کشیدہ صورتِ حال کے مدنظر کئی پولیس والے تعینات کئے گئے تھے جنہوں نے ہندو دایاں بازو ارکان کو شرپسندی سے روکنے کے لئے گراؤنڈ کو گھیر لیا تھا۔دایاں بازو گروپ کے کئی افراد میدان میں جمع ہوئے اور جئے سری رام‘ بھارت ماتا کی جئے اور وندے ماترم کے نعرے لگانے لگے تاہم دوران نماز کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

مسلمان‘ نماز پڑھنے کے بعد پرامن طورپر وہاں سے چلے گئے۔ اسسٹنٹ کمشنر پولیس (اے سی پی) سٹی راجندر سنگھ نے جو گراؤنڈ میں موجود تھے‘ بتایا کہ پولیس نے ہندو گروپ کے چند ارکان کو حراست میں لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نماز جمعہ کو درہم برہم کرنے کی کوشش پر ہم نے بطور احتیاط انہیں حراست میں لیا ہے۔ ضلع انتظامیہ نے سیکٹر 37 گراؤنڈ میں نماز جمعہ کی اجازت دے رکھی ہے۔ کئی سال سے یہاں لگ بھگ 2500  افراد نماز جمعہ ادا کرتے رہے ہیں۔ اب یہ تعداد گھٹ کر 200-300 ہوگئی ہے۔ صدرنشین مسلم ایکتا منچ حاجی شہزاد خان نے کہا کہ اگر کسی ہندو تنظیم کو کوئی مسئلہ ہے تو اسے ضلع نظم ونسق سے رجوع ہونا چاہئے۔

ہم بھارت کے ناگرک (ہندوستانی شہری) ہیں اور شہر میں امن و ہم آہنگی چاہتے ہیں۔ ہم متعلقہ حکام سے مسلسل ربط میں ہیں تاکہ شہر میں کوئی گڑبڑ نہ ہو۔ انتظامیہ‘ نماز جمعہ کی ادائیگی کے مقامات 37 سے گھٹاکر 20کرچکا ہے لیکن ہندو تنظیمیں ہمیں بے عزت کرنے کا سلسلہ جاری رکھی ہوئی ہیں۔ نظم ونسق کو ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ گزشتہ جمعہ کو سیکٹر 37 گراؤنڈ میں کشیدگی تھی۔ چند ہندو گروپس نے نماز جمعہ کی ادائیگی کی مخالفت کی تھی۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button