گوشت کی دکانات پر پابندی کو سختی سے نافذ کیا جائے گا: دہلی میئر مکیش سوریان

مکیش سوریان نے کہاکہ جب گوشت فروخت ہی نہیں کیا جائے گا تو لوگ اسے کھائیں گے ہی نہیں۔ انہوں نے بعض اسلامی ممالک کا بھی حوالہ دیا جہاں ماہِ رمضان کے دوران عام مقامات پر پانی پینے پر بھی ایسی ہی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔

نئی دہلی: ہندو تہوار نوراتری کے لیے جنوبی دہلی میں گوشت کی دکانوں پر پابندی کو پیر تک سختی کے ساتھ نافذ کیا جائے گا۔ میئر مکیش سوریان نے این ڈی ٹی وی کو یہ بات بتائی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شکایات کی بنا پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے اور اس کی وجہ سے کسی کی شخصی آزادی کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن کے میئر نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ہم سختی کے ساتھ تمام گوشت کی دکانوں کو بند کریں گے۔

جب گوشت فروخت ہی نہیں کیا جائے گا تو لوگ اسے کھائیں گے ہی نہیں۔ انہوں نے بعض اسلامی ممالک کا بھی حوالہ دیا جہاں ماہِ رمضان کے دوران عام مقامات پر پانی پینے پر بھی ایسی ہی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ سوریان نے کہا کہ ہم نے دہلی کے عوام کے جذبات کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا ہے۔ برت رکھنے والوں کو کھلے میں گوشت کاٹنے کی وجہ سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ یہ کسی کی شخصی آزادی کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

ہم 8، 9 اور 10 اپریل کو گوشت پر پابندی کے فیصلہ پر سختی کے ساتھ عمل کریں گے۔ ہم تمام مسالخ کو بند کردیں گے۔ جنوبی دہلی کے میئر نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ ان کی بلدیہ کے تحت تمام گوشت کی دکانات کو دیوی دُرگا کے مقدس عرصہ نوراتری کے دوران بند رکھا جانا چاہیے، کیوں کہ عقیدتمند ان 9 دنوں کے دوران گوشت اور بعض مصالحوں کے استعمال سے گریز کرتے ہیں۔

مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن کی میئر شیام سندر اگروال نے بھی ایسا ہی مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس تہوار کے دوران گوشت کی دکانات بند رکھنے سے ہمیں خوشی ہوگی۔ اس سوال پر کہ یہ فیصلہ کن بنیاد پر کیا جارہا ہے؟ سوریان نے کہا کہ عوام ایسا نہیں چاہتے۔ انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ یہ کون لوگ ہیں اور آیا اس کا پتہ چلانے کے لیے کوئی سروے کیا گیا ہے۔ انہوں نے این ڈی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ آخر اس میں کیا مسئلہ ہے۔ اس میں کونسی بات غلط ہے، ہم ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ صرف نوراتری کے لیے یہ مطالبہ کررہے ہیں۔

جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن کے کمشنر گیانیش بھارتی کے نام اپنے ایک مکتوب میں جسے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی نے دیکھا ہے، سوریان نے یہ بھی کہا کہ جب عقیدتمند گوشت کی دکانات کے پاس سے گزرتے ہیں یا پھر انہیں نوراتری کے دوران دیوی درگا کی پوجا کے لیے جاتے ہوئے گوشت کی بدبو سونگھنی پڑتی ہے تو ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔

 عوام کے جذبات و احساسات کو مد نظر رکھتے ہوئے نوراتری تہوار کے نوروزہ عرصہ کے دوران 2 اپریل تا 11 اپریل گوشت کی دکانات کو بند کرانے متعلقہ عہدیداروں کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں۔ واضح رہے کہ جنوبی دہلی میں میونسپل کارپوریشن کے حدود میں تقریباً 1500 رجسٹرڈ گوشت کی دکانات ہیں۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button