گیان واپی مسجد کمیٹی کی قانونی مدد کی جائے گی: مسلم پرسنل لاء بورڈ

بورڈ نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ امن برقرار رکھیں۔ جرأت مندی سے حالات کا مقابلہ کریں اور حتی المقدور قانونی لڑائی لڑیں۔ بورڈ کے پریس نوٹ کے بموجب اجلاس کا احساس رہا کہ عدالتیں بھی اقلیتوں اور مظلوموں کو مایوس کررہی ہیں۔

لکھنو: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ(اے آئی ایم پی ایل بی) نے مرکز اور ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنائے جانے پر اپنا موقف واضح کریں۔ بورڈ نے گیان واپی مسجد کیس میں انجمن انتظامیہ مسجد اور اس کے وکلاء کو قانونی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ عبادت گاہوں پر تنازعات پیدا کرنے کا اصل مقصد کیا ہے اس تعلق سے عوام کو آگاہ کرنے ملک گیر احتجاج بھی (ضرورت پڑنے پر) کیا جائے گا۔

 بورڈ کی مجلس عاملہ کی ہنگامی ورچول میٹنگ منگل کی رات منعقد ہوئی جس میں کئی اہم فیصلے لئے گئے۔ بورڈ کے رکن عاملہ ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے چہارشنبہ کے دن پی ٹی آئی کو یہ بات بتائی۔ وارانسی کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ کے مسائل کے حوالہ سے ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ میٹنگ نے افسوس ظاہر کیا کہ ملک میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور پارلیمنٹ میں سبھی کی رضا سے بنے 1991کے قانون کی کھلے عام خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

بڑے افسوس کی بات ہے کہ مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتیں اس پر خاموش ہیں۔ خود کو سیکولر کہنے والی جماعتوں نے بھی خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ بورڈ نے ان سبھی سے اپنا موقف واضح کرنے کو کہا۔ تحت کی عدالتوں میں عبادت گاہوں کے تعلق سے جس طرح کے فیصلے ہورہے ہیں اس پر بھی میٹنگ میں غوروفکر کیا گیا۔

بورڈ نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ امن برقرار رکھیں۔ جرأت مندی سے حالات کا مقابلہ کریں اور حتی المقدور قانونی لڑائی لڑیں۔ بورڈ کے پریس نوٹ کے بموجب اجلاس کا احساس رہا کہ عدالتیں بھی اقلیتوں اور مظلوموں کو مایوس کررہی ہیں۔ ان کے اس طرز عمل کی وجہ سے لاقانونیت کا راستہ اختیار کرنے والی فرقہ فرست طاقتوں کو حوصلہ مل رہا ہے۔

گیان واپی کا مسئلہ آج سے تیس سال قبل عدالت میں شروع ہواتھا ہائی کورٹ کے اسٹے آرڈر کے باوجود اسے آرڈر کو نظر اندا زکیا گیا۔ گیان واپی پر باربار سوٹ فائل کرنا اور پھر عدالتوں کے ذریعہ اس نوعیت کے احکامات جاری کرنا انتہائی مایوس کن اور تشویشناک ہے۔

بورڈ نے عبادت گاہوں کے متعلق 1991کے قانون اور بابری مسجد سے متعلق فیصلہ میں اس قانون کی مزید تائید کوسامنے رکھ کر غور کرنے اور مؤثر طور پر مقدمہ کو پیش کرنے کے لئے ایک قانونی کمیٹی بنائی ہے جو جسٹس شاہ محمد قادری‘ یوسف حاتم مچھالہ‘ ایم آر شمشاد‘ فضیل احمدایوبی‘ طاہر ایم حکیم‘ نیاز فاروقی‘ڈاکٹر قاسم رسول الیاس اور کمال فاروقی پر مشتمل ہے۔

یہ کمیٹی تفصیل سے مسجد سے متعلق تمام مقدمات کا جائزہ لے گی اور مناسب قانونی کارروائی کرے گی۔اجلاس نے مساجد کے خطباء اور علماء سے اپیل کی ہے کہ وہ آئندہ تین ہفتے جمعہ کے بیان میں مسجد کی اہمیت‘ شریعت میں اس کا مقام وتقدس اور مسجد کے تحفظ جیسے موضوعات پر خطاب کریں نیز شرپسند عناصر کی طرف سے جو غلط دعوے کئے جارہے ہیں ان کی علمی اور قانونی تردید پر خطاب کریں۔ مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے اجلاس کی صدارت کی۔

تبصرہ کریں

Back to top button