ہرحال میں بھائی چارہ اور امن وامان کو قائم رکھنا مسلمانوں کا فریضہ: مسلم پرسنل لا بورڈ

ملت اسلامیہ کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اسلام پر قائم رہنے کےلئے آزمائشوں اور ابتلاؤں سے گزرنا اور بہر صورت ایمان پرثابت قدم رہنا مسلمانوں کا مذہبی فریضہ،انبیاء کی سنت متوارثہ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے۔

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے عید الفطر کی مناسبت سے مبارکباد دیتے ہوئے مسلم تنظیموں،ملت کی اہم شخصیتوں اور نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دین و شریعت پر ثابت قدم رہیں اور شریعت کو پوری طرح اپنے آپ پر نافذ کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے نکاح وطلاق،پردہ، قانون میراث، بچوں کا حق پرورش اورسماجی زندگی کے دوسرے قوانین اللہ تعالی کی طرف سے بحیثیت مسلمان ہم پر فرض کئے گئے ہیں۔

دنیا کے بہت سے علاقوں بالخصوص مغربی ملکوں میں مسلمان بطور خود قانون شریعت پر عمل کرتے ہیں،یہاں تک کہ اگر عدالت نے کسی عورت کی طلاق کا فیصلہ کر بھی دیا تو مسلم سماج اسے قبول نہیں کرتا اور کوئی مسلمان مرد اس عورت سے نکاح کے لئے تیار نہیں ہوتا، لوگ اپنی مرضی سے شریعت کے قانون پر چلتے ہیں، ہمیں ہندوستان میں بھی مضبوطی کے ساتھ شریعت پر قائم رہناہوگااور اگر کوئی فیصلہ شریعت کے خلاف ہو بھی جائے تو اس سے بچنا ہوگا، چاہے اس میں ہمارا مالی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ حکومت ضرور قانون بناتی ہے اور بناسکتی ہے لیکن وہ ہمارے گھر پہونچ کر ہمیں اس قانون پر مجبور نہیں کرسکتی، دین پر ثابت قدمی اور اپنی رضامندی سے اسلام پرعمل ہی ہمارے مسائل کا حل ہے۔

ملت اسلامیہ کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اسلام پر قائم رہنے کےلئے آزمائشوں اور ابتلاؤں سے گزرنا اور بہر صورت ایمان پرثابت قدم رہنا مسلمانوں کا مذہبی فریضہ،انبیاء کی سنت متوارثہ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے۔ اللہ تعالی ہمیں آزمائشوں سے محفوظ رکھے،لیکن اگر ایمان پر قائم رہنے کے لئے ہمیں جان ومال کی آزمائش سے گزرنا پڑے تو ہم اس کے لئے بھی تیار رہیں۔

بڑی سے بڑی مصیبت بھی ہمارے پائے استقلال میں کوئی تزلزل نہ آ نے دے، ہمیں عید کے مبارک موقع پر وطن عزیز میں امن وامان ،بھائی چارہ،رواداری، سلامتی اور ترقی کی دعا کرنی چاہئے، ماب لنچنگ اقلیتوں کے بائیکاٹ وغیرہ کی جو غیر قانونی اور غیر دستوری حرکتیں کی جارہی ہیں،یہ کچھ شر پسندوں کی کارستانی ہے،برادران وطن کی اکثریت اس کو پسند نہیں کرتی۔ اس لئے اس سے متاثر نہ ہوں،امن وامان کی فضا کو قائم رکھیں،باہمی خیر سگالی اور رواداری کو رواج دیں۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button