”ہم مشکل صورت حال میں ہیں“، یوکرین روس بحران پر ہندوستان کے موقف پر ششی تھرور کا بیان

تھرور نے کہا کہ یوکرین میں ہمیں پہلے کچھ ہفتوں میں 23ہزار ہندوستانیوں کو نکالنا پڑا جن میں زیادہ تر طلباء تھے۔ اس لیے ان سبھی مفادات کی وجہ سے ہم مشکل صورت حال میں ہیں جس میں چھوٹی سی غلطی کے بھی برے نتائج ہوسکتے ہیں۔

نئی دہلی: کانگریس کے قائد اور لوک سبھا رکن ششی تھرور نے کہا کہ یوکرین روس جنگ پر ہندوستان اپنے سفارتی موقف پر بات چیت کرنے میں بہت ”پیچیدہ اور چیلنج سے بھرپور دور“ سے گزرا ہے۔ دیگر ملکوں کے ساتھ اس کے کئی مفادات کی وجہ سے وہ ایک طرح سے مشکل صورت حال میں ہے جس میں چھوٹی سی غلطی کے بھی بہت برے نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔“

وہ یوکرین اَن کہی (جھلکیاں) پر تین روزہ تصویری نمائش کے افتتاح کے بعد یہاں بات چیت کے دوران ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان‘ یوکرین۔روس بحران پر اپنے موقف پر بات چیت میں بہت پیچیدہ اور چیلنج سے بھرپور دور سے گزرا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان اپنے پہلے بیان میں ایسا کچھ بھی کہنے کے لیے تیار نظر نہیں آیا تھا جس سے روس کو پریشانی ہوتی۔“

تھرور نے روس کے وزیر خارجہ لاوریف کے اس ہفتہ ممکنہ دورہ ہند پر کہا کہ ان کے پاس دفاع کے لیے مشکل وجہ ہوگی اور مجھے یقین ہے کہ نئی دہلی میں وہ جو بات چیت کرنے جارہے ہیں وہ کافی دلچسپ ہوگی“ جنگ پر ہندوستان کے موقف کے بارے میں کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اقوام متحدہ میں ”یوکرین بحران پر) رائے دہی سے غیرحاضر رہتے ہوئے اپنے بیانات میں ہم نے اپنے اصولوں کو کھل کر دہرایا ہے اور ہماری سفارت کاری نے ان متنوع مفادات کو ذہن میں رکھا ہے جن کا ہمیں خیال رکھنا ہے۔“

 انہوں نے کہا کہ ہم کواڈ کے رکن ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ امریکہ ہندبحراکاہل سے اپنی نظر ہٹائے اور پوری طرح یوروپ پر توجہ مرکوز کرے۔“ تھرور نے کہا کہ یوکرین میں ہمیں پہلے کچھ ہفتوں میں 23ہزار ہندوستانیوں کو نکالنا پڑا جن میں زیادہ تر طلباء تھے۔ اس لیے ان سبھی مفادات کی وجہ سے ہم مشکل صورت حال میں ہیں جس میں چھوٹی سی غلطی کے بھی برے نتائج ہوسکتے ہیں۔“

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button