ہندوتوا کی سیاست کو اپوزیشن مضبوط کررہی ہے: اسدالدین اویسی

اویسی نے یہ بات اورنگ آباد میں مقامی رکن اسمبلی امتیاز جلیل کی طرف سے منعقدہ افطار پارٹی میں شرکت کے بعد کہی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور تمام حکومتیں خاموش ہیں۔

اورنگ آباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے ہفتہ کے روز کہا کہ عام آدمی پارٹی، سماج وادی پارٹی، کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں ہندوتوا کی حمایتی بننے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اویسی نے کہا کہ عآپ، ایس پی، کانگریس، ایم این ایس اور این سی پی ملک میں ہندوتوا نظریہ کے وفادار بننے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اویسی نے یہ بات اورنگ آباد میں مقامی رکن اسمبلی امتیاز جلیل کی طرف سے منعقدہ افطار پارٹی میں شرکت کے بعد کہی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور تمام حکومتیں خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں بے روزگاری سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کو اٹھانے کے بجائے، کچھ سیاسی جماعتیں ملک بھر میں اقلیتوں کو نشانہ بنا کر ہندوتوا کی سیاست کو مضبوط کر رہی ہیں۔

ریاستی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے، اویسی نے مہاراشٹر کی وزارت داخلہ پر تنقید کی کہ اس نے مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے صدر راج ٹھاکرے کو رمضان، عید اور اکشے ترتیا جیسے تہواروں کے درمیان اورنگ آباد میں جلسے کرنے کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیس کی طرف سے اجازت دی جاتی ہے تو یہ پولیس اور ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ علاقے میں امن و امان کی پیروی کریں۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button