ہندوستان کے ساتھ با معنی مذاکرات ہنوز ناممکن : عمران خان

عمران خان نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کا تنازعہ سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کے نتیجہ میں خطہ کی ترقی اور خوشحالی پسماندگی کا شکار ہوتی جارہی ہے۔

اسلام آباد: وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے آج کہاکہ جب تک ہندوستان میں نریندرمودی کی حکومت رہے گی تب تک پڑوسی ملک کے ساتھ معنی خیز مذاکرات ممکن نہیں ہے، کیونکہ مودی کی حکومت حد سے زیادہ مذہبی قوم پرستی میں مبتلاء ہے۔

اُنہوں نے کہاکہ جنوبی ایشیائی خطہ سیاسی اختلافات اور تصادموں کے باعث پسماندگی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ یہاں پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کا تنازعہ سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کے نتیجہ میں خطہ کی ترقی اور خوشحالی پسماندگی کا شکار ہوتی جارہی ہے۔

اُنہوں نے کہاکہ جب تک نریندرمودی کی حکومت اِن نظریات پر قائم رہے گی تب تک ہندوستان کے ساتھ با معنی مذاکرات ممکن نہیں ہے۔ اُنہوں نے اُزید ظاہر کی کہ کسی دن ہندوستان میں ایک معقول حکومت قائم ہوگی جو سنجیدہ مذاکرات اور منطقی بات چیت کے ذریعہ تنازعات کی یکسوئی کیلئے آگے بڑھے گی۔

عمران خان نے کہاکہ گذشتہ کئی دہوں سے ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کے کٹر حریف بنے ہوئے ہیں اور آپس میں لڑرہے ہیں۔ تاہم کشمیر کا مسئلہ جیسے ہی حل ہوجائے گا تو دونوں ممالک کو دہشت گردی اور ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات سے مشترکہ طورپر نمٹنے کا موقع ملے گا۔ اُنہوں نے کہاکہ امن لانے کیلئے اُن کی تمام کوششوں کو اُن کی کمزوری کے طورپر دیکھا گیا جس پر وہ بہت مایوں ہیں۔

علاقائی تنازعات کے بارے میں عمران خان نے کہاکہ جو لوگ جنگ کے ذریعہ تنازعات کی یکسوئی کا خیال رکھتے ہیں وہ غلطی پر یاتو وہ تاریخ نا بلد ہیں یا پھر اپنے ہتھیاروں پر اُنہیں بہت بھروسہ ہے۔ اِن لوگوں کو انسانیت کی کوئی فکر نہیں ہے۔ نتیجہ میں اقتدار میں موجود لوگوں سے سنگین غلطیاں سرزد ہوتی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے مخالف ہند نظریہ میں اُس وقت سے مزید شدت آگئی ہے جب سے نریندر مودی نے دہلی کا تخت سنبھالا تھا۔ پاکستان میں عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ نظریہ اور پختہ ہوگیا۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ ہندوستان اپنے سیکولر نظریات سے ہٹ گیا ہے اور بی جے پی کی نریندرمودی حکومت آر ایس ایس کے انتہا پسند نظریات کی پیروکار ہے جس کے نتیجہ میں ملک میں اقلیتوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button