ہندو عورت کو بھگالے جانے پر مسلم جم مالک کا مکان نذرآتش

برہم ہجوم نے جمعہ کے دن یہاں ایک شخص کے خاندان کے 2 مکانوں کو آگ لگادی جو ایک اسکولی طالبہ کے ساتھ لاپتہ ہوگیا۔ پولیس نے بتایا کہ دھرم جاگرن سمنوئے سنگھ کے ارکان نے جم مالک ساجد کے مکان کو آگ لگادی۔

آگرہ (یوپی): برہم ہجوم نے جمعہ کے دن یہاں ایک شخص کے خاندان کے 2 مکانوں کو آگ لگادی جو ایک اسکولی طالبہ کے ساتھ لاپتہ ہوگیا۔ پولیس نے بتایا کہ دھرم جاگرن سمنوئے سنگھ کے ارکان نے جم مالک ساجد کے مکان کو آگ لگادی۔

انہوں نے متصل مکان کو بھی نذرآتش کردیا جو ساجد کی فیملی کا ہی ہے۔ ہجوم‘ ساجد کی گرفتاری کا مطالبہ کررہا تھا۔ اس نے ساجد پر عورت کے اغوا کا الزام عائد کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عورت کی عمر 22 برس ہے۔

علاقہ میں دکانیں بند رہیں۔ جم مالک کے مکان پر حملہ میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں۔ پولیس ناکہ انچارج کو معطل کردیا گیا اور اسٹیشن ہاؤز آفیسر سکندرا کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

11 ویں جماعت کی طالبہ پیر کے دن لاپتہ ہوگئی تھی۔ 2 دن بعد پولیس نے اسے برآمد کرلیا لیکن ساجد کا اتہ پتہ معلوم نہیں۔

سوشیل میڈیا پر ویڈیو میں عورت نے کہا کہ وہ بالغ ہے اور اپنی مرضی سے ساجد کے ساتھ گئی تھی۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) نے بتایا کہ دونوں بالغ ہیں۔

پولیس تعطیلات کی وجہ سے عورت کو عدالت میں پیش نہیں کرسکی۔ مکانوں کو آگ لگانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے اور انہیں جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔ عورت کے گھر والوں نے ساجد کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button