ہند۔نیپال سرحد پر مساجد ومدارس کی بڑھتی تعداد پر سیکیوریٹی ایجنسیوں کو تشویش

انٹلیجنس جانکاری کے حوالہ سے عہدیداروں نے کہا کہ گذشتہ تین سال میں مساجد کی تعداد جو 2018ء میں 760 تھی،2021ء میں بڑھ کر ایک ہزار ہوگئی جبکہ مدارس کی تعداد نیپالی علاقہ کے اندر 2018ء میں 508 تھی اور2021ء میں بڑھ کر645ہوگئی۔

نئی دہلی: انلٹیجنس ایجنسیوں نے تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اترپردیش‘ بہار اور مغربی بنگال سے متصل ہند۔نیپال سرحد پر گذشتہ 3برس میں مساجد اور دینی مدارس کی بڑھتی تعداد سنگین سیکیوریٹی تشویش کا معاملہ ہے۔

نیپال سرحد سے اندرون 10کیلومیٹر اور نیپالی سرحد کے اندر مساجد اور مدارس کے قیام سے بہار، اترپردیش اور مغربی بنگال کے بعض سرحدی علاقوں میں آبادی کی ہئیت بدل گئی ہے۔

انٹلیجنس جانکاری کے حوالہ سے عہدیداروں نے کہا کہ گذشتہ تین سال میں مساجد کی تعداد جو 2018ء میں 760 تھی‘2021ء میں بڑھ کر ایک ہزار ہوگئی جبکہ مدارس کی تعداد نیپالی علاقہ کے اندر 2018ء میں 508 تھی اور2021ء میں بڑھ کر645ہوگئی۔

سیکیوریٹی گرڈ ذرائع کا کہناہیکہ ان مذہبی اداروں کو فنڈنگ پاکستان کی انٹرسرویسیس انٹلیجنس(آئی ایس آئی) اور بیرون ملک سرگرم دوسری مخالف ہند تنظیموں سے ہورہی ہے۔

سیکیوریٹی فورسیس ذرائع نے بتایاکہ مساجد اور مدارس کی شاندارتعمیر خود بتاتی ہے کہ بیرونی فنڈنگ ملی ہے۔ آئی ایس آئی کے علاوہ عرب ممالک سے بھی انہیں پیسہ مل رہا ہے ہند۔نیپال سرحد پر تعینات سیکیوریٹی عہدیداروں کا کہنا ہیکہ یہ مذہبی ادارے مخالف ہند جذبات کو ہوادے رہے ہیں۔

یہاں بہار، اترپردیش اور مغربی بنگال کے سرحدی علاقوں میں سرگرم مجرموں کو پناہ مل جاتی ہے۔ ایک سرکاری عہدیدار نے کہا کہ ان علاقوں میں ہندوستان کی جعلی کرنسی اور منشیات کی اسمگلنگ میں اضافہ بھی دیکھاگیا ہے۔ نیپال کے ساتھ حوالگی مجرمین کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔

اترپردیش اور بہار کی حکومتوں کے عہدیداروں نے بھی مانا ہے کہ ان اداروں میں مجرم اکثرپناہ لیتے ہیں کیونکہ ہند۔نیپال سرحد پر خاردارتار والی باڑھ نہیں لگی ہے اور سرحد کٹی پھٹی ہے۔ بڑی سڑکوں پر مربوط ناکے(انٹیگریٹیڈ چیک پوسٹ) لگے ہیں لیکن نیپال کی طرف جانے والی دیہی سڑکوں پر کوئی پہرہ نہیں ہوتا۔

اتراکھنڈ، اترپردیش، بہار، مغربی بنگال اور سکم میں ہندوستان کی نیپال سے متصل سرحد 1751 کیلومیٹرطویل ہے۔ اترپردیش میں یہ سرحد 570 کیلومیٹر طویل ہے اور یہاں 35 بارڈرپولیس اسٹیشنس قائم ہیں۔ اسی طرح بہار میں نیپال سے متصل سرحد 726کیلومیٹر طویل اور مغربی بنگال میں 100کیلومیٹر طویل ہے۔

سنٹرل سیکیوریٹی گرڈ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ زیادہ ترمساجد‘ مدارس اور مسجد معہ مدرسہ کی تعمیر اترپردیش کے سرحدی اضلاع مہاراج گنج، سدھارتھ نگر، بلرام پور، بہرائچ‘ شروستی، پیلی بھیت اور کھیری میں ہوئی ہے۔ بہار کے اضلاع کشن گنج اور ارڑیا اور مغربی بنگال کے ضلع دارجلنگ کے پانی ٹانکی ٹاؤن میں گذشتہ تین برس میں ایسی تعمیرات میں اضافہ ہوا ہے۔

حالیہ عرصہ میں ہمالیہ کے دامن میں آباد ملک نیپال کو پاکستانی دہشت گرد گروپس محفوظ ٹھکانے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ ہندوستانی ایجنسیوں کے پاس کافی ثبوت موجود ہے کہ نیپال بینکس کس طرح ہندوستان کے خلاف دہشت گرد فنڈنگ میں اہم رول ادا کررہے ہیں۔

2019ء میں اترپردیش پولیس نے ایک بین الاقوامی دہشت گرد فنڈنگ ریاکٹ بے نقاب کیاتھا جو نیپال کے سنٹرل بینک سے جڑا تھا۔ انڈین مجاہدین کے یٰسین بھٹکل اور اس کے ساتھی اسداللہ اختر بھی نیپال میں چھپے ہوئے تھے۔ 2013ء میں ہندوستان نے سلسلہ وار دھماکوں کے بعد وہ نیپال چلے گئے تھے۔

یٰسین بھٹکل کو 2013ء میں نیپال سرحد پر بہار کے ضلع مشرقی چمپارن کے موتی ہاری کے قریب گرفتارکیاگیاتھا۔ ریٹائرڈ آئی پی ایس عہدیدار وجئے شنکر سنگھ نے کہا کہ نیپال کی سرحد پر مساجد ومدارس سے سیکیوریٹی خطرہ لاحق ہے۔ آئی ایس آئی انہیں قائم کررہی ہے۔ حکومت ہند کو حکومت نیپال سے فوری بات چیت کرنی چاہئیے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو نیپال کے ساتھ اپنے تعلقات پھر سے مستحکم کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ نیپال تاریخی لحاظ سے ہندوستان کا فطری حلیف رہا ہے۔ ہمارا نیپال کے ساتھ سینکڑوں برس سے بیٹی۔روٹی کا رشتہ ہے۔ بہار اور یوپی کے سرحدی علاقوں میں آباد کئی کنبوں نے اپنی بیٹیاں سرحدپار بیاہی ہیں۔

روزی روٹی کیلئے بھی سرحد پار آنا جانا لگارہتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین سے مجوزہ ریل اور سڑک رابطہ نے بھی نیپال کا جھکاؤ چین کی طرف بڑھادیا ہے۔ نیپال میں کمیونسٹ حکومتوں نے ہندوستان کو لگ بھگ پرے رکھ دیا ہے۔

حالیہ عرصہ میں پاکستان اور چین نے کئی انفراسٹرکچر پراجکٹس میں نیپال کی مالی مدد کی ہے جس کے نتیجہ میں نیپال کا جھکاؤ ان ملکوں کی طرف ہوگیا ہے۔ نیپال خشکی بند ملک ہے یعنی وہ سمندر سے محروم ہے۔

درآمدات کے لئے وہ ہندوستان پرپوری طرح منحصر ہے لیکن چین نے حال میں وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے ایک شہر سے کٹھمنڈو تک 417 کیلومیٹرطویل ریلوے لائن بچھادے گا۔ یہ ریلوے لائن چین کے بیلٹ اینڈ روڈ پراجکٹ کا حصہ ہوگی۔

اترپردیش کے مشرقی اضلاع میں سینئر سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت سے اپنے تجربہ کے حوالہ سے سنگھ نے کہا کہ ہندوستانی سیکیوریٹی ایجنسیوں کو ان مساجد اور مدارس میں زیادہ آنے جانے والوں پر نظررکھنی چاہئیے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button