ہند۔پاک اچھے پڑوسیوں کی طرح مسئلہ کشمیر کوحل کریں ۔ عمران خان کاانٹرویو

وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر جس کاکوئی حل برآمد نہیں ہواہے، ہند۔ پاک کیلئے باعث تشویش ہے اورہندوستان کو چاہئے کہ اچھے پڑوسیوں کی طرح بات چیت کی میزپراسے حل کرے۔

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر جس کاکوئی حل برآمد نہیں ہواہے، ہند۔ پاک کیلئے باعث تشویش ہے اورہندوستان کو چاہئے کہ اچھے پڑوسیوں کی طرح بات چیت کی میزپراسے حل کرے۔

وزیراعظم عمران خان نے اتوارکے روز ’سی این این‘ کوانٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ اگریہ مسئلہ برقرارر ہتاہے تو دونوں نیوکلیرممالک کے متصادم ہونے کا خطرہ ہمیشہ برقرار رہے گا۔

لہذا آپ کے سوال کاجواب یہی ہے کہ ہاں مجھے اس پر تشویش ہے۔ہمارا واحد مسئلہ کشمیرہے اورہم کوچاہئے کہ اسے اچھے پڑوسیوں کی طرح بات چیت کی میزپرحل کریں۔ ہندوستان نے پاکستان سے کہاہے کہ وہ دہشت گردی،مخاصمت اورتشدد سے پاک ماحول میں اسلام آبادکے ساتھ معمول کے ہمسایہ تعلقات کامتمنی ہے۔

ہندوستان نے کہاہے کہ دہشت گردی اوردشمنی سے پاک ماحول تخلیق کرنے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔

سی این این کو انٹرویوکے دوران اس سوال کاجواب دیتے ہوئے کہ سرحد پراندازہ کی غلطی کی وجہ سے صورتحال بے قابوہوسکتی ہے، عمران خان نے اس بات سے اتفاق کیاکہ کشمیرمیں 2019میں کیاگیا پلوامہ حملہ اوراس کے بعد فوجی تعطل جنگ میں تبدیل ہوسکتاتھا۔

عمران خان نے کہاکہ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اس وقت کے امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ سے کہاتھاکہ سب سے زیادہ طاقتورملک کی حیثیت سے مسئلہ کشمیرکو حل کرناہمارے لئے بے حد اہم ہے۔

ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں گفتگوکرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ شائد وہ ان چند پاکستانیوں میں شامل ہیں جو اپنے ملک کے دیگرافراد اورشائد دنیا بھر افرادکے مقابل ہندوستان کوزیادہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جیسے ہی میری حکومت برسراقتدار آئی، میں نے سب سے پہلاکام ہندوستان کی طرف ہاتھ بڑھانے کاکیا۔

میں نے ان سے کہاکہ دیکھئے آپ نے ہماری طرف ایک قدم آگے بڑھایاہے اورہم دو قدم آپ کی طرف آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ آئیڈیالوجی کی وجہ سے باہمی تعلقات معمول پر نہیں آسکے‘حالانکہ میں نے ہرممکن کوشش کی اوراشارے بھی دیئے۔

تبصرہ کریں

Back to top button