یوپی میں بیرسٹر اسدالدین اویسی کی کار پر فائرنگ

اسد الدین اویسی نے بتایاکہ وہ اِس حملہ کے بعد دوسری کار میں وہاں سے روانہ ہوگئے۔ اُنہوں نے کسی کو کوئی نقصان نہ ہونے کی بھی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ ہم سب محفوظ ہیں اور میں دوسری گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گیا۔ الحمد اللہ۔

حیدرآباد: صدرمجلس اور رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی کی کار پر حملہ کیا گیا۔ اِس موقع پر اُن کی گاڑی پر چار راؤنڈ فائرنگ کی اطلاع ہے۔ اسد الدین اویسی نے خود ہندی میں ایک ٹویٹ کرکے اطلاع دی کہ وہ میرٹھ سے دہلی جارہے تھے کہ چھاجرسی ٹول گیٹ پر اُن کی گاڑی پر چار راؤنڈ فائر کئے گئے۔

 اُنہوں نے بتایاکہ حملہ آور تین تا چار افراد تھے جنہوں نے اُن کی کار پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے فوری بعد تمام حملہ آور فرار ہوگئے تاہم اپنے ہتھیار وہیں چھوڑ گئے۔ فائرنگ کے باعث اسدالدین اویسی کی کار پنکچر ہوگئی۔ اِس حملہ میں اسد الدین اویسی اور اُن کے ہمراہ موجود لوگ مکمل محفوظ رہے اور اُنہیں کوئی گزند نہیں پہنچی۔

اسد الدین اویسی نے بتایاکہ وہ اِس حملہ کے بعد دوسری کار میں وہاں سے روانہ ہوگئے۔ اُنہوں نے کسی کو کوئی نقصان نہ ہونے کی بھی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ ہم سب محفوظ ہیں اور میں دوسری گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گیا۔ الحمد اللہ۔

یہ بھی پڑھیں

اِس واقعہ کے ساتھ ہی علاقہ میں سنسنی پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں گشت کرنے لگی۔ بعد ازاں ایک میڈیا ایجنسی سے بات کرتے ہوئے اسد اویسی نے بتایاکہ اُن کی گاڑی پر تین تا چار گولیاں داغی گئیں۔

اِس حملہ میں وہ محفوظ رہے تاہم گاڑی کو نقصان پہنچا۔ قبل ازیں اُنہوں نے میرٹھ کے کٹہور میں ایک انتخابی پروگرام میں شرکت کی تھی۔ وہ اِس پروگرام کے بعد دہلی جارہے تھے کہ چھاجرسی ٹول پلازا کے قریب اُن کی گاڑی پر حملہ ہوا۔ مزید تفصیلات کاانتظار ہے۔  

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button