یوپی پولیس نے نابالغ مسلم لڑکی کو بچالیا

پولیس نے ایک کمسن لڑکی کو بچالیا جس نے گھر سے بھاگ کر ایک پجاری اور دایاں بازو کارکنوں کی مدد سے مندر میں ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کرلی تھی۔ پولیس نے پایا ہے کہ یہ لڑکی نابالغ ہے اور تعلیمی ریکارڈ کے مطابق اس کی عمر 16 برس ہے۔

بریلی: بریلی پولیس نے ایک کمسن لڑکی کو بچالیا جس نے گھر سے بھاگ کر ایک پجاری اور دایاں بازو کارکنوں کی مدد سے مندر میں ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کرلی تھی۔ پولیس نے پایا ہے کہ یہ لڑکی نابالغ ہے اور تعلیمی ریکارڈ کے مطابق اس کی عمر 16 برس ہے۔ اس کا ”شوہر“ دوسرے دھرم سے تعلق رکھتا ہے۔

 اسے پیر کے دن مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس نے زور دے کر کہا کہ اس کی عمر 21 برس ہے۔ اس نے طبی معائنہ کرانے سے بھی انکا رکردیا۔ اس نے عدالت سے کہا کہ وہ اپنے ”شوہر“ کے ساتھ رہنا چاہتی ہے اور ماں کے پاس واپس جانا نہیں چاہتی۔ بعدازاں عدالت نے اسے تاحکم ثانی بریلی کے ویمن شیلٹر بھیج دیا۔

 اس کا ”شوہر“ فرار ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے قائد توفیق پردھان نے کہا کہ لڑکی کی ماں ان سے رجوع ہوئی تھی اور وہ لوگ لڑکی کا تعلیمی ریکارڈ لے کر پولیس کے پاس گئے۔ پولیس نے لڑکی کو بچالیا۔ وہ نابالغ ہے اور اس ”شادی“ کا پس پردہ محرک نہیں سمجھتی۔

اسی دوران اسٹیشن ہاؤز آفیسر(ایس ایچ او) کینٹ پولیس اسٹیشن راجیو سنگھ نے کہا کہ لڑکی کی ماں نے اغوا کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرائی اور ہم نے لڑکی کو بچالیا۔ اس کمسن لڑکی کا اس کے گاؤں کے ایک آدمی کے ساتھ چکر تھا اور وہ 13 جنوری کو اس کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔

اسی دن اس نے بریلی کے مندر میں شادی کرلی تھی۔ پجاری نے جو ہندو سماج پارٹی کا قائد ہے‘ ایک دایاں بازو گروپ کے ارکان کے ساتھ مل کر شادی میں ہاتھ بٹایا۔ اس شادی کو لڑکی کے بیان کے ساتھ سوشیل میڈیا پر کافی شیئر کیا گیا۔

 ایس ایچ او نے کہا کہ پولیس‘ پجاری پر مقدمہ نہیں کرسکتی کیونکہ لڑکی نے اس کے خلاف بیان نہیں دیا ہے۔ تحقیقات میں اگر یہ بات سامنے آئے کہ ان لوگوں کا اس کے اغوا میں ہاتھ ہے تو پھر کارروائی ہوگی۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button