یوکرینی شہروں کے محاصرہ اور حملوں میں شدت

بندرگاہی شہر ماریوپول کے ایک میٹرنٹی ہاسپٹل پر فضائی حملہ میں ایک حاملہ خاتون زخمی ہوگئی جبکہ کئی بچے ملبہ میں دب گئے۔ روسی افواج نے یوکرینی شہروں کے محاصرہ میں شدت پیدا کردی ہے۔

ماریوپول (یوکرین): بندرگاہی شہر ماریوپول کے ایک میٹرنٹی ہاسپٹل پر فضائی حملہ میں ایک حاملہ خاتون زخمی ہوگئی جبکہ کئی بچے ملبہ میں دب گئے۔ روسی افواج نے یوکرینی شہروں کے محاصرہ میں شدت پیدا کردی ہے۔

ایک اور شہر کیف کے مغرب میں 2 ہاسپٹلس پر بھی بم گرے۔ عالمی تنظیم ِ صحت(ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ 2 ہفتے پہلے روسی جارحیت کے آغاز سے لے کر اب تک طبی مراکز پر 18 حملوں کی توثیق ہوئی ہے۔

اسی دوران ترکی دونوں فریقین کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر بات چیت کی میزبانی کررہا ہے۔ صدر رجب طیب اردغان کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف اوران کے یوکرینی ہم منصب دیمترو کولیبا مستقل لڑائی بندی کا باب کھولیں گے۔

یوکرینی عہدیداروں نے کہا کہ ماریوپول میں ایک میڈیکل کامپلکس پر حملہ کے نتیجہ میں کم ازکم 17 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ سلسلہ واردھماکوں سے تقریباً ایک میل دور واقع میدان دہل اٹھا۔ دھماکوں کی وجہ سے کھڑکیوں کے شیشے چکناچور ہوگئے اور ایک عمارت کا سامنے کا حصہ اُدھڑ گیا۔

پولیس اور فوجی جائے واقعہ پر پہنچ گئے اور متاثرین کا تخلیہ کرایا۔ انہیں ایک زخمی خاتون کو اسٹریچر پر لے جاتے دیکھا گیا۔ ایک اور خاتون بھی اپنے بچہ کو گود میں اٹھائے رورہی تھی۔ عمارت کے صحن میں دھماکہ کی وجہ سے تقریباً 2 منزل گہرا گڑھا پڑگیا۔

ایک اعلیٰ پولیس عہدیدار ولادیمیر نیکولین نے ملبہ پر کھڑے ہوکر کہا کہ آج روس نے ایک سنگین جرم کیا ہے۔ یہ جنگی جرم ہے جسے قطعی حق بجانب نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ کیف کے مغرب میں واقع 2 لاکھ 60 ہزار کی آبادی کے حامل شہر زائتومیر کے 2 ہاسپٹلس پر بمباری کی گئی جن میں سے ایک بچوں کا ہاسپٹل ہے۔

شہر کے میئر سرہی سکھومیلن نے بتایا کہ یہاں کوئی زخمی نہیں ہوا ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ ماریوپول پر حملہ کی وجہ سے بچے اور دیگر افراد ملبہ کے نیچے پھنس گئے۔ انہوں نے مغرب سے اپیل کی کہ وہ مزید سخت تحدیدات عائد کرے تاکہ روس اس قتل عام کو جاری رکھنے کے مزید امکانات سے محروم ہوجائے۔

زیلنسکی کی جانب سے شیئر کئے گئے ویڈیو میں عمارت کے قبل ازیں مزین راہداریوں کو بری حالت میں اور مڑے تڑے دھاتوں کے ڈھیر میں تبدیل دکھایا گیا۔ وزیراعظم برطانیہ بورس جانسن نے ٹویٹ کیا کہ کمزوروں اور نہتوں کو نشانہ بنانے سے زیادہ بری کوئی چیز نہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ وہ لڑائی کے آغاز کے بعد سے مراکز ِ صحت اور ایمبولنسوں پر حملوں میں 10 اموات کی توثیق کرسکتا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس تعداد میں میٹرنٹی ہاسپٹل کے مہلوکین بھی شامل ہیں۔ امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے کولیبا کے ساتھ فون پر بات چیت کرتے ہوئے روس کے ان بے ضمیر حملوں کی مذمت کی۔

آئی اے این ایس کے بموجب یوکرین کی اسٹیٹ ایمرجنسی سرویسس نے آج بتایا کہ خارکیف میں روس کی شدید بمباری کی وجہ سے 4 افراد کی موت ہوئی ہے جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں جبکہ ملک کے دوسرے بڑے شہر کے مرکز میں ایک شاپنگ مال کو تباہ و تاراج کردیا گیا۔ روسی فورسس نے خارکیف کے رہائشی علاقوں پر گولہ باری اور فضائی بمباری کی۔

تبصرہ کریں

Back to top button