یوکرینی فوج کا ہتھیار ڈالنے سے انکار

یوکرینی عہدیداروں نے روس کا یہ مطالبہ مسترد کردیا ہے کہ یوکرینی فوج‘ محصور بندرگاہی شہر ماریوپول میں ہتھیار ڈال دے اور سفید پرچم بلند کرے تاکہ اسے بحفاظت وہاں سے نکلنے کا راستہ فراہم کیا جائے۔

لیویف: یوکرینی عہدیداروں نے روس کا یہ مطالبہ مسترد کردیا ہے کہ یوکرینی فوج‘ محصور بندرگاہی شہر ماریوپول میں ہتھیار ڈال دے اور سفید پرچم بلند کرے تاکہ اسے بحفاظت وہاں سے نکلنے کا راستہ فراہم کیا جائے۔

روس نے یوکرین کے اس جنوبی شہر کو جس کی دفاعی نقطہ نظر سے بڑی اہمیت ہے‘ مسلسل حملوں کا نشانہ بنارکھا ہے۔ اس نے کل ایک آرٹ اسکول پر بمباری کی تھی جہاں 400 افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔

ماریوپول پر قبضہ کی جنگ شدید ہوتی جارہی ہے۔ یوکرینی عہدیداروں نے ماریوپول سے بحفاظت نکلنے کی روسی تجویز مسترد کردی۔ نائب وزیراعظم یوکرین نے کہا کہ ہم نے روسیوں کو یہ بات بتادی ہے۔

ماریوپول کے میئر نے بھی پیشکش مسترد کردی۔ روسی کرنل نے 2 محفوظ راہداریوں کی پیشکش کی تھی۔ ایک راہداری مشرقی سمت روس کی طرف جاتی ہے اور دوسری مغربی سمت یوکرین کے دیگر علاقوں کی طرف جاتی ہے۔

روسی عہدیدار نے یہ نہیں بتایا کہ پیشکش مسترد ہونے پر روس کیا کرنا چاہتا ہے۔ ماریوپول اگر ہاتھ آجاتا ہے تو روسی فورسس جنوبی اور مشرقی یوکرین کو مربوط کرپائیں گی۔

اسی دوران یوکرینی صدر زیلنسکی نے سی این این سے کہا کہ یوکرینیوں نے روسی فوجیوں کا استقبال گلدستہ کے ساتھ نہیں کیا ہے بلکہ اپنے ہاتھوں میں ہتھیاروں کے ساتھ کیا ہے۔ روسی حملہ کو 3 ہفتے گزرچکے ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button