یوکرین تنازع: عالمی امن، معیشت کے لیے خطرہ

منور مرزا

یوکرین کے تنازعے پر امریکہ اور روس ایک دوسرے کے سامنے ڈٹ گئے ہیں اور فی الوقت کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔بہت عرصے بعد دیکھنے میں آیا کہ امریکہ کے اتحادی، خاص طور پر یوروپی ممالک بھی اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہے ہیں۔ روسی صدر، پوتن نے الزام لگایا کہ امریکہ، روس کو یوکرین کے مسئلے پر جنگ میں گھسیٹنا چاہتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ”مغرب کو یوکرین کی سیکورٹی سے دِل چسپی نہیں، بلکہ وہ اِس بحران کو روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے تاکہ روس کی ترقّی روکی جاسکے۔“
یوکرین تنازعے پر غیر معمولی سفارتی سرگرمیاں بھی دیکھی جا رہی ہیں۔ہنگری کے صدر روس پہنچے، جب کہ برطانوی وزیرِ اعظم، بورس جانسن نے یوکرین جاکر صدر سے ملاقات کی۔ بعدازاں ایک مشترکہ کانفرنس میں کہا گیا کہ ”یوکرین کی جنگ علاقے تک محدود نہیں رہ سکے گی، یہ پورے یورپ کو لپیٹ میں لے لے گی۔“جنوری کے آخری ہفتے سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکہ نے ک±ھلے عام روس پر الزام لگایا کہ وہ یوکرین پر حملے کی تیاری کر چکا ہے اور ا±س پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
سلامتی کونسل میں امریکہ کی مستقل مندوب، تھامس گرین نے کہا کہ ” روس کا یوکرین کی سرحد پر فوجی اجتماع دوسری عالمی جنگ کے بعد یوروپ میں سب سے بڑی فوجی کارروائی ہے۔“اس کے جواب میں روسی مندوب نے کہا،” روس قطعاً کوئی حملہ نہیں کر رہا، بلکہ یہ سارا شور شرابا امریکہ اور اس کے اتحادی جنگی ہسٹریا پیدا کرنے کے لیے کر رہے ہیں، جو روس کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔“یاد رہے، روس نے ایک ماہ قبل یوکرین اور روس کی سرحد پر ایک لاکھ فوجی تعینات کیے تھے، جب کہ بھاری توپ خانہ، میزائل اور ٹینکس بھی سرحد پر بھیجے گئے۔ نیز، روس نے علاقے میں جنگی مشقیں بھی کیں۔
یوکرین تنازعے پر سفارتی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ روس اور امریکہ کے وزرائے خارجہ کے درمیان اِس سلگتے مسئلے پر مذاکرات کا آغاز ہوا۔ اِس ضمن میں امریکہ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ نے بتایا،” واشنگٹن کو ماسکو کی طرف سے یوکرین کی ص±ورتِ حال معمول پر لانے کے لیے تجاویز موصول ہوئی ہیں، جن پر بات چیت شروع ہوگئی ہے۔“ اہم سوال یہ ہے کہ آخر روس کے صدر اِس فوجی دباﺅ یا سفارتی عمل سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
اِس سوال کے کئی جواب ہوسکتے ہیں، تاہم بیش تر ماہرین اِس اَمر پر متفّق ہیں کہ روس دراصل مغرب سے یہ ضمانت چاہتا ہے کہ یوکرین کو ناٹو میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ وجہ ظاہر ہے کہ وہ ناٹو فورس کو اپنی سرحد پر نہیں دیکھنا چاہتا۔ مگر امریکہ نے ایک مرتبہ پھر روس کا یہ مطالبہ مسترد کردیا ہے۔ اگر صدر پوتن کی بات نہ مانی گئی، تو کیا روس، یوکرین پر حملہ کردے گا؟ یہ سوال اِس لیے اہم ہوتا جارہا ہے کہ اس سے عالمی امن کے ساتھ، عالمی معیشت پر بھی شدید دباﺅ کا امکان ہے۔
مابعد کورونا دَور میں اِس طرح کی کارروائی کیسے برداشت کی جائے گی، جب کہ ابھی تو عالمی معیشت بمشکل بحال ہونا شروع ہوئی ہے؟ سلامتی کونسل میں روس کے مستقل نمائندے نے کہا کہ ”ابھی تک تو اقوامِ متحدہ نے بھی کنفرم نہیں کیا کہ روس کوئی فوجی کارروائی کرنے جا رہا ہے۔ اپنی سرحدوں پر فوجیوں کی تعداد بڑھانا روس کا اندرونی معاملہ ہے، جس پر امریکہ اور مغرب عالمی رائے عامّہ کو گم راہ کررہے ہیں۔
اِس معاملے سے واشنگٹن کا کوئی لینا دینا نہیں، وہ خواہ مخواہ تناﺅ بڑھانے اور عالمی امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔“جب کہ امریکی مندوب کا کہنا تھا کہ ” تنازعے کا سفارتی حل موجود ہے، تاہم اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا اور قبضے کی کوشش کی، تو امریکہ اس کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا، جس کے نتائج خوف ناک ہوں گے۔“
یوکرین، یوروپ کی شمالی سرحد پر واقع ہے، جس کی سرحدیں روس سے ملحق ہیں۔اس کے جنوبی حصّے کی بڑی آبادی روسی زبان بولنے والوں پر مشتمل ہے۔2014 ء میں صدر پوتن نے یوکرین کے روسی آبادی کے جزیرے، کریمیا پر فوجی قبضہ کرکے اسے اپنے ملک میں شامل کرلیا تھا۔یہ مغرب اور ناٹو کے لیے ایک ایسا زخم تھا، جس کا درد وہ آج تک محسوس کر رہے ہیں۔اس قبضے نے یوروپ اور امریکہ کو غیر معمولی ہزیمت سے دوچار کیا۔
خاص طور پر یہ صدر اوباما کے آٹھ سالہ دور کی سب سے شرم ناک شکست سمجھی گئی، جس نے ا±ن کے طاقت ور حکم ران کے امیج کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔اب امریکہ یا یوروپ قطعاً نہیں چاہیں گے کہ خطّے میں ماضی کی روایت دہرائی جائے۔صدر بائیڈن نے گزشتہ سال خارجہ پالیسی میں جن جارحانہ اقدامات کا اعلان کیا، ان کے تناظر میں روس کی کسی پیش قدمی کو برداشت کرنا، امریکہ کے لیے یوٹرن کے برابر ہوگا۔
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سَر پر ہیں، تو جوبائیڈن کبھی خود کو کم زور حکم ران کے طور پر پیش نہیں کریں گے۔ یوکرین سے پسپائی اور کریمیا پر قبضے کے بعد اوباما ہر میدان اور علاقے میں پسپا ہوتے رہے۔ امریکہ اور مغرب بلند بانگ دعووں کے باوجود شام میں پوتن سے شکست کھا گئے، جنھوں نے بشار الاسد کو فتح دلوائی۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ بعد میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے روس پر ایسی اقتصادی پابندیاں عائد کیں، جن سے اس کی معیشت بھونچال کا شکار ہوگئی اور وہ آج تک سنبھلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
روس اِس بار ہر صورت پابندیوں سے بچنا چاہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یوکرین کے حالیہ تنازعے میں پہل روس ہی نے کی اور وہی سرحد پر فوج لے کر آیا۔روس کیا کرسکتا ہے یا کیا کرنا چاہتا ہے، اِس حوالے سے مختلف اندازے لگائے جارہے ہیں۔ایک امکان یہ ہے کہ صدر پوتن، یوکرین پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیں، یعنی یہ ایک مکمل جنگ ہوگی۔ دوسرا آپشن یہ ہوسکتا ہے کہ وہ روسی بولنے والے علاقے کو اپنے ساتھ ملا کر کریمیا کی طرح اس پر قبضہ کرلیں۔ ممکن ہے کہ یوکرینی علیٰحدگی پسندوں کی مدد سے کوئی علاقہ آزاد کروا لیں اور وہاں سے یوکرین پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھیں۔
اِن تمام آپشنز کی اپنی اپنی قیمت ہے، جو بہر طور روس کو ادا کرنی پڑے گی۔اگر صدر پوتن بڑی یا چھوٹی جنگ کا فیصلہ کرتے ہیں، تو اندیشہ ہے کہ کہیں یوکرین ان کے لیے ایک اور افغانستان نہ بن جائے۔انہیں روسی فوجوں کو جنگ میں جھونکنا پڑے گا، جو1940 ءکے بعد کسی غیر یوروپی طاقت کا یوروپ کی کسی منتخب حکومت پر پہلا حملہ ہوگا۔ روس کے لیے یہ جنگ ایک ایسی دلدل ثابت ہوسکتی ہے، جس سے نکلنا ممکن نہیں۔یاد رہے،1928 ءمیں پہلی عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کے پس منظر میں دنیا میں ایک بہت بڑا فیصلہ ہوا تھا۔
وہ یہ کہ کسی بھی ملک پر دوسرے ملک کا فوجی قبضہ ناقابلِ قبول اور غیر قانونی ہوگا۔ اسے”معاہدہ پیرس“ کہا جاتا ہے۔ اِسی معاہدے کے سبب روس اور امریکہ کو افغانستان چھوڑنا پڑا۔ عراق سے امریکی واپسی کا بھی یہی پس منظر تھا اور یہی معاہدہ ویت نام کی آزادی کا سبب بنا۔ اس عالمی معاہدے کا سب سے بڑا اثر یہ ہوا کہ اس کی بدولت نو آبادیاتی نظام ختم ہوگیا۔اب کوئی ملک، کسی دوسرے ملک یا قوم کو فوجی قوت سے محکوم نہیں بناسکتا۔
یہی وجہ ہے کہ بہت سے ممالک فوجی حکومتیں بھی تسلیم نہیں کرتے اور ان پر پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔ میانمار اور سوڈان کی صورتِ حال سامنے ہے۔مِصر کی فوجی حکومت بھی مشکلات سے دوچار ہے۔دراصل، سمجھ دار اقوام نے جان لیا کہ فوجوں کی پیش قدمی سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، قبضہ آخر چھوڑنا ہی پڑتا ہے۔ایسی کوئی فتح مستقل نہیں ہوتی۔اب مقابلے اقتصادی میدان میں ہوتے ہیں۔
یوکرین تنازعے کے دو اور بھی اہم ر±خ ہیں۔ایک تو روس کا امریکی واپسی کے بعد افغانستان میں دل چسپی لینا اور دوسرا، ممکنہ جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات۔امریکہ گزشتہ برس افغانستان سے واپس گیا، تو عام خیال تھا کہ روس اور چین اِس معاملے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔یہ بھی کہا جارہا تھا کہ افغانستان کی پڑوسی وسط ایشیائی ریاستیں، ایران، پاکستان، روس اور چین مل کر علاقے کا طاقت وَر فورم بنائیں گی۔
افغانستان کی معیشت کو بھی وہی بیل آﺅٹ کریں گی۔ تاہم، دنیا نے دیکھا کہ ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ افغانستان اور پاکستان اب بھی مغربی ممالک اور امریکہ ہی سے امداد کی اپیلز کر رہے ہیں۔ اس پس منظر میں یوکرین تنازعے میں روسی کردار سے پتا چلتا ہے کہ اس کی پالیسی میں افغانستان کی کتنی اہمیت ہے؟ ہم تو یوروپ اور امریکہ کو الزام دے رہے تھے کہ وہ افغانستان کے انسانی المیے پر آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں، اب روس کی سنجیدگی بھی دیکھی جاسکتی ہے، جس کے لیے افغانستان سے زیادہ یوروپ کے معاملات اہم ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ روس سے افغانستان میں فعال ہونے کی جو توقّعات وابستہ تھیں، وہ اب پوری ہوتی نظر نہیں آتیں۔یوکرین کی سرحد پر سخت سردی میں ایک لاکھ فوجی تعیّنات کرنا ماسکو کی معیشت پر کوئی معمولی بوجھ نہیں۔صدر پوتن عالمی پاور پالیٹکس کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔وہ کریمیا اور شام میں یہ کھیل جیت چکے ہیں اور کوئی ایسا قدم نہیں ا±ٹھائیں گے، جس سے روس کے اقتصادی مفادات متاثر ہوں۔پھر افغانستان میں سوویت روس کی شکست بھی ان کے لیے بڑے صدمے کا باعث ہے، جس کا وہ بار بار اظہار بھی کرتے ہیں۔
وہ سابقہ سوویت یونین کی بحالی کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور انھیں علم ہے کہ افغان وار کا سوویت یونین کے بکھرنے میں اہم کردار تھا۔ روس دنیا میں تیل اور گیس سپلائی کرنے والے ممالک میں سرِفہرست ہے اور یوروپ کا تو سب سے بڑا سپلائر ہے۔ لہٰذا، صدر پوتن کسی ص±ورت یہ مستحکم اور وسیع منڈی چھوڑنا پسند نہیں کریں گے، جس پر ان کی معیشت کا دارو مدار ہے۔گو کہ روس کے پاس 600 بلین ڈالرز کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں، جو اسے کم عرصے کی جنگ کا جھٹکا برداشت کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں، لیکن بڑے پیمانے پر جنگ اور گیس، تیل کی سپلائی میں تعطّل اس کی برداشت سے باہر ہوگا۔پھر یہ کہ روس گندم کا بھی سب سے بڑا ایکسپورٹر ہے، اس کے بعد یوکرین کا نمبر ہے۔
امریکہ کی حال ہی میں افغانستان سے واپسی اور پھر وہاں کے لوگوں کے حالات بتاسکتے ہیں کہ کس طرح دنیا ایک دوسرے سے منسلک ہے۔چین مسلسل امریکہ اور روس کو کسی تصادم سے دور رہنے کا مشورہ دے رہا ہے۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس تنازعے میں غیر جانب دار ہے۔وہ نہ تو روس کو زیادہ طاقت وَر دیکھنا چاہتا ہے کہ سابقہ سوویت یونین جیسی پوزیشن پر آجائے اور اسے روس کی شکست بھی پسند نہیں کہ اس سے مغربی طاقتیں یوروپ میں برتر ہوجائیں گی۔اس کے سامنے امریکہ کی انڈو پیسیفک میں واپسی اور تائیوان تنازعے پر تلخ بیانات بھی ہیں۔
بڑی طاقتوں اور ترقّی یافتہ ممالک نے عالمی جنگوں اور تنازعات سے بہت کچھ سیکھا ہے۔کم ازکم اِتنا تو ہوا ہے کہ چاہے وہ کسی بھی تنازعے میں ا±لجھیں، لیکن ان کی معیشت کو نقصان نہ پہنچے۔امریکہ، افغانستان سے اٹھارہ سال بعد واپس ہوا، تو بہت سے ماہرین نے اسے شکست کا نام دیا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ اس سے امریکی معیشت کو کوئی غیر معمولی نقصان پہنچا اور نہ ہی اس کے سپر پاور اسٹیٹس میں کوئی کمی آئی۔
وہ عالمی معاملات میں اب بھی اہم ترین ہے۔ پاکستان اسی سے افغان عوام کی امداد کے لیے اپیل کر رہا ہے، تو طالبان یہ کہہ رہے ہیں کہ ” ہم نے اِتنا کچھ تو کرلیا، امن قائم کردیا، اب امریکہ ہی بتائے کہ مزید کیا کریں۔“ اِسی لیے یوکرین تنازعے سے متعلق اطمینان سے کہا جاسکتا ہے کہ سفارتی کوششیں کام یاب ہوں گی، تلخیاں اِسی طرح چلیں گی، لیکن کسی بڑے تصادم کا کوئی خطرہ نہیں۔ حدود متعیّن ہیں، وہاں تک جا کر سب اپنی اپنی جگہ واپس لَوٹ آئیں گے۔ صدر پوتن ایک دفعہ سوویت یونین کو بکھرتا دیکھ چکے ہیں، وہ دوبارہ کوئی رسک لینے کو تیار نہیں ہوں گے۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button