یوکرین پر روسی حملے کا ایک ماہ مکمل

امریکہ کے وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا کہ روسی افواج نے یوکرین میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ روس کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے کام کرے گا۔

واشنگٹن: امریکہ کے وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا کہ روسی افواج نے یوکرین میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ روس کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے کام کرے گا۔

نیٹو کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ گذشتہ چار ہفتوں میں یوکرین میں 7000 سے 15000 کے درمیان روسی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ روس کے یوکرین پر حملے کو جمعرات کو ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے اور اس دوران روس پر امریکہ سمیت متعدد ممالک نے پابندیاں عائد کی ہیں۔

روس نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کیا تھا اور اس دوران روسی افواج نے رہائشی عمارتوں، اسکول، اسپتال، اہم انفراسٹرکچر، سول گاڑیاں، شاپنگ سینٹر اور ایمبولینسوں کو نشانہ بنایا جس کی وجہ سے ہزاروں شہری ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ امریکہ کے وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے بدھ کو کہا کہ روسی افواج نے یوکرین میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ روس کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے کام کرے گا۔ بلنکن نے کہا کہ ہم نے اندھا دھند حملوں اور حملوں کی متعدد مصدقہ رپورٹس دیکھی ہیں اور ان حملوں میں جان بوجھ کر عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جب کہ دوسرے مظالم بھی ڈھائے گئے ہیں۔ بلنکن نے کہا کہ رہائشی عمارتوں، اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان کے مطابق امریکہ کا تجزیہ روس کے یوکرین پر پچھلے ماہ حملے کے بعد عوامی اور انٹیلی جنس معلومات کے بغور جائزہ پر مبنی ہے۔ دریں اثنا نیٹو کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ گذشتہ چار ہفتوں میں یوکرین میں 7000 سے 15000 کے درمیان روسی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

فرانسیسی کار ساز کمپنی رینالٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ماسکو میں قائم اپنی فیکٹری میں کام کو فوری طور پر معطل کر رہی ہے۔ خیال رہے کہ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے فرانس کی کمپنی کو عوامی بیان میں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق رینالٹ نے کہا کہ وہ روس میں اپنی ذیلی کمپنی ‘ایوٹوواذ’ میں کام کے ممکنہ آپشنز کا جائزہ لے گی۔

روس رینالٹ گروپ کی یورپ کے بعد دنیا کی گاڑیوں کی دوسری سب سے بڑی مارکیٹ ہے، جہاں 2021 میں تقریباً 500,000 گاڑیاں فروخت کی گئی تھیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کو ایک روسی قرارداد کو بھاری اکثریت سے شکست دی جس میں یوکرین کی بڑھتی ہوئی انسانی ضروریات کو تسلیم کیا گیا تھا لیکن اس میں روسی حملے کا ذکر نہیں تھا جس کی وجہ سے یہ بحران پھیل رہا ہے۔ سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے صرف روس اور چین نے متن کی حمایت کی تھی۔

کونسل کے دیگر 13 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس طرح مثبت ووٹوں اور ویٹو کے بغیر، یہ اقدام ناکام ہو گیا۔ اقوام متحدہ کے فورم پر روس کی شکست اس ہی دن واقع ہوئی جب جنرل اسمبلی نے ایک اور قرارداد کے مسودے پر غور کرنا شروع کیا۔ قرارداد کے مسودے میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ روس کی جارحیت یوکرین میں انسانی ہنگامی صورتِ حال کے لیے ذمے دار ہے۔

جنرل اسمبلی کے جمعرات کو ہونے والے ووٹ سے قبل تقریباً 70 ممالک کے نمائندے جنگ کے انسانی اثرات پر مقابل قراردادوں پر بات کریں گے۔ امریکہ کے صدر جوبائیڈن بدھ کے روز یورپ کے چار روزہ دورے پر برسلز پہنچ گئے ہیں جہاں وہ جمعرات کو نیٹو اور یورپی اتحادیوں سے ملاقات کے علاوہ، نیٹو کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کریں گے اور یوکرین کے خلاف جارحیت کرنے پر روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے منگل کے روز بتایا تھا کہ صدر اتحادیوں سے مل کر روس کے خلاف مزید پابندیاں لگائیں گے اور موجودہ تعزیرات کے نفاذ کو ٹھوس بنانے کے لیے درکار عملی اقدامات کریں گے۔ بدھ کو برسلز میں ایک اخباری کانفرنس میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے کہا کہ یوکرین کے خلاف روس کی مسلط کردہ لڑائی سیکیورٹی کے نئے خطرات کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعرات کو نیٹو کا سربراہ اجلاس متوقع طور پر یوکرین کے لیے مزید حمایت کے اعلان کا اعادہ کرے گا۔ اسٹولٹن برگ نے کہا کہ مجھے توقع ہے کہ شریک سربراہان اتحاد کے مشرقی خطے کی زمینی، فضائی اور بحری حدود میں تعیناتی کے لیے افواج کی تعداد میں اہم اضافہ کرنے کی تجویز پر غور کریں گے۔

تبصرہ کریں

Back to top button