14 سال کی سزا کاٹنے والوں کو ضمانت دی جاسکتی ہے:سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے آج ایک اہمیت کے حامل حکم میں کہا ہے کہ الہ باد ہائی کورٹ ایسے مجرمین کو ضمانت دینے پر غور کرسکتی ہے جنہوں نے جرائم کا اعادہ نہیں کیا اور 14 سال یا اس سے زیادہ قید بھی بطور سزا کاٹ لی ہے۔

حیدرآباد: سپریم کورٹ نے آج ایک اہمیت کے حامل حکم میں کہا ہے کہ الہ باد ہائی کورٹ ایسے مجرمین کو ضمانت دینے پر غور کرسکتی ہے جنہوں نے جرائم کا اعادہ نہیں کیا اور 14 سال یا اس سے زیادہ قید بھی بطور سزا کاٹ لی ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اس طرح جیلوں پر دباؤ میں کمی آسکتی ہے۔ عدالت عظمی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے قیدی جنہوں نے 10 تا14 سال کی سزا کاٹ لی ہے، انہیں بھی ضمانت پر رہا کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔

الہ اباد ہائی کورٹ اور اس کی لکھنؤ بنچ پر ایک لاکھ 83ہزار درخواستیں زیر التواء ہیں۔ پورے اترپردیش کی مختلف جیلوں میں 7,214 ایسے قیدی موجود ہیں جو 10 سال کی سزا کاٹ چکے ہیں۔

سپریم کورٹ کے بنچ نے جو جسٹس ایس کے کول اور جسٹس ایم ایم سندریش پر مشتمل ہے الہ باد ہائی کورٹ اور اترپردیش حکومت کے پاس سزا یافتہ مجرمین کے مسئلہ پر کوئی مشترکہ فارمولہ نہ ہونے پر حیرت کا اظہار کیا۔

سپریم کورٹ نے اس کے بعد ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت دینے سے انکار پر اپنے پاس آئی 21 ایسے مقدمات میں ضمانت کی منظوری عمل میں لائی۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اگر ایک مجرم 14 سال یا اس سے زیادہ کی سزا کاٹ چکا ہے تو اس کا معاملہ رہائی پر غور کے زمرہ میں آجانا چاہئے۔

ہائی کورٹ کو چاہئے کہ وہ یا تو ریاستی حکومت کو اسے معافی دینے کی درخواست پر غور کرے یا پھر اسے ضمانت پر رہا کرے۔

عدالت عظمیٰ نے ریاستی حکومت اور ہائی کورٹ کے وکیل سے کہا کہ وہ ایسے مجرمین کی ضمانت کی درخواستوں پر غور کرنے کیلئے سپریم کورٹ کی ہدایات کا لحاظ رکھے۔

ہم نے اپنی بات کہہ دی ہے اور اس سلسلہ میں اس قسم کے تمام معاملات کی ایک فہرست بنائی جائے اور 14 سال یا اس سے زیادہ کی سزا کاٹنے والے اور جرم کا اعادہ نہ کرنے والے قیدیوں کی ضمانت پر رہائی عمل میں لائی جائے۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ ایسے معاملات میں تمام لوگوں کو ایک ساتھ ضمانت دی جاسکتی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button