200 ہندو یاتریوں نے پاکستان میں مندر کے درشن کئے

ہندوستان سے تقریباً 200‘ دُبئی سے 15‘ امریکہ اور دیگر خلیجی ممالک سے آنے والے چند ہندوؤں نے گڑبڑزدہ شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں واقع مندر کے درشن کئے۔

اسلام آباد: 200ہندو یاتری جن میں بیشتر کا تعلق ہندوستان سے ہے‘ پاکستان میں اتوار کے دن 100 سالہ قدیم پرم ہنس مہاراج مندر میں پوجا کے دوران جذبات سے مغلوب ہوگئے۔

ایک سال قبل اس مندر کو ایک اسلام پسند جماعت سے تعلق رکھنے والوں نے ڈھادیا تھا۔

ہندوستان سے تقریباً 200‘ دُبئی سے 15‘ امریکہ اور دیگر خلیجی ممالک سے آنے والے چند ہندوؤں نے گڑبڑزدہ شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں واقع مندر کے درشن کئے۔

اخبار ڈان نے یہ اطلاع دی۔ پرم ہنس کی سمادھی صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع کرک کے موضع تیری میں واقع ہے۔ ہندوستانی یاتری‘ واگھا بارڈر پارکرکے پاکستان میں داخل ہوئے۔

لاہور سے انہیں کڑے پہرہ میں مندر پہنچایا گیا۔ یاتریوں نے سیکوریٹی اور دیگر انتظامات کی تعریف کی۔ نئی دہلی کی ورونا ملہوترہ نے کہا کہ یہاں آکر ہمیں ایسا لگا جیسے ہم سورگ (جنت) میں آگئے ہوں۔

پاکستان میں اور خاص طورپر اس صوبہ میں ہماری جو خاطر مدارت ہوئی اس سے ہمیں ایسا لگا جیسے ہم اپنے ہی گھر میں ہیں۔

برسراقتدار پاکستان تحریک ِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن پارلیمنٹ اور پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے کہا کہ حکومت پاکستان ملک میں مذہبی سیاحت کو بڑھاوا دینے بھرپور مدد دے رہی ہے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button