وزیر جوپلی کرشنا راؤ سے سوال کرنے پر بی آر ایس کارکن پر پولیس تشدد کا الزام
اطلاعات کے مطابق، راگھو نے راماپورم گاؤں سے متعلق سوشل میڈیا گروپس میں وزیر سے سوالات اٹھائے تھے۔ اس کے بعد کولّاپور پولیس نے انہیں حراست میں لے کر تھانے منتقل کیا، جہاں مبینہ طور پر صبح 7 بجے سے شام 7 بجے تک ان سے پوچھ تاچھ کی گئی۔
ناگرکرنول: تلنگانہ کے ضلع ناگرکرنول کے کولّاپور منڈل میں بی آر ایس کارکن منڈلا راگھو پر پولیس تشدد کا الزام سامنے آیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ راگھو نے سوشل میڈیا گروپس میں ریاستی وزیر جوپلی کرشنا راؤ سے سوال کیا تھا، جس کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔
اطلاعات کے مطابق، راگھو نے راماپورم گاؤں سے متعلق سوشل میڈیا گروپس میں وزیر سے سوالات اٹھائے تھے۔ اس کے بعد کولّاپور پولیس نے انہیں حراست میں لے کر تھانے منتقل کیا، جہاں مبینہ طور پر صبح 7 بجے سے شام 7 بجے تک ان سے پوچھ تاچھ کی گئی۔
الزام ہے کہ اس دوران پولیس اہلکاروں نے راگھو کو ہراساں کیا اور کانگریس قائدین پر تنقید کرنے کے معاملے میں سوالات کیے۔ ان سے مبینہ طور پر کہا گیا، ’’کانگریس قائدین پر تنقید کرنے کی ہمت کیسے ہوئی؟‘‘
واقعے کے بعد راگھو کو شدید تکلیف ہونے کی اطلاعات ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے ہاتھوں اور پیروں پر خون جم گیا تھا۔ اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد مقامی سیاسی قائدین میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔
مقامی بی آر ایس قائدین نے مبینہ پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر راگھو سے کوئی غلطی ہوئی تھی تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے بجائے تشدد کا راستہ کیوں اختیار کیا گیا۔
قائدین نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی جانچ کی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی شہری کی جانب سے سوال اٹھانے یا تنقید کرنے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، نہ کہ جسمانی تشدد کیا جائے۔
اس واقعے کے بعد سیاسی کارکنوں کے ساتھ پولیس کے رویے اور اظہارِ خیال کی آزادی سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
تاہم، پولیس تشدد سے متعلق الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور اس معاملے پر پولیس کا سرکاری بیان سامنے آنے کا انتظار ہے۔