مضامین

بدلتا ہندوستان اور مسلمانوں کا خوفناک مستقبل

اظفر منصور

ہندوستانی مسلمان! نام سن کر ہی لگتا ہے کہ یہ اپنے علاقے کی باعزم و ہمت اور قوت و شجاعت سے لبریز نہایت دلیر و بے خوف قوم ہوگی، اور حقیقت بھی یہی ہے،چنانچہ تابناک ماضی اور صبر آزما حال سے اس کی تصدیق بھی ہوتی ہے مگر اب ہائے حرماں کہ ہندوستانی مسلمانوں کے تابناک ماضی کو کھرچ کر اس کے حال پر خوفناک مستقبل کا مہیب سایہ چھا گیا ہے، دن کو اپنی ضیاء اور سورج کو اپنی ضیاء پاشی پر بہت غرور تھا، مگر اس کا یہ گمان ہندوستانی عوام خصوصاً مسلمانوں پر جاری ظلم و تشدد کے سامنے ہیچ اور محض ہے، کیونکہ اسی دن کے اجالے میں کتنے ہی جنونی لوگوں کی جماعت کسی ایک بیچارے نہتے مسلم فرد کو پکڑ کر لاٹھی ڈنڈوں نیز دھار دار ہتھیار سے قتل کر ڈالتی ہے، جمہوریت کا لباس یہاں تقریباً سب نے ہی زیب تن کیا ہوا ہے مگر پھر بھی ایک قوم ”ارے صاف کہئے نہ مسلمان“ کے لیے یہ ایک گلے کا خطرناک طوق بنتا جا رہا ہے، اور بعض دیگر قوم خصوصاً ہندو ازم کے لیے باعث فخر و سرور، کیونکہ راجا سنگھ،ساکشی مہاراج، سادھوی پراچی سے لے کر ہر ادنیٰ اور چھوٹا بڑا بغیر کسی ڈر و خوف اور بلا کسی جھجک کے آتا ہے اور کوئی مسلمانوں کے قتل عام کی دھمکی دے ڈالتا ہے تو کوئی جلاوطنی کی تو کوئی مختلف قسم کی خبط الحواسی کا مظاہرہ کرتا ہے، مگر مجال کہ ان متشدد و اشتعال انگیز اور قاتلوں کے خلاف ”چوں“ کی بھی آواز آئے، بلکہ حد تو تب ہوجاتی ہے جب اسے دیش ہت میں کام کہہ کر محب وطن ہونے کا پاک سرٹیفکیٹ نواز دیا جاتا ہے، اور یہ روز کا ماحول بنتا جا رہا ہے، مسلمانوں کا ہر عمل و اقدام اب موجودہ حکومت اور اسکے حامیوں کی نظر میں مشکوک، ملک مخالف اور آتنک واد سے تعبیر ہے جبکہ کھلے عام ملک کو توڑنے، آپسی بھائی چارے کی فضاء و گندلا کرنے میں ہندوتوا کا جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے، بھارت کو 1947ء میں ایک جمہوری نظام کے تحت چلنے والا ملک تسلیم کیا گیا تھا اور پرزور طریقے سے کیا گیا تھا، یہاں آباد تمام مذاہب کے حقوق کی یکساں وکالت کی گئی تھی، اور سب کو یکساں درجہ بھی دیا گیا تھا مگر اب اسی ڈیموکریٹک ملک میں دو نظریہ کی لڑائی چل رہی ہے، جس میں ایک کا مستقبل سخت خوفناک تو دوسرے کا تابناک بنانے کی پیہم سعی کی جا رہی ہے، ایک کو سرعام کھلی آزادی ملی ہوئی ہے تو دوسرے کو اپنے حقوق کی بات بھی کرنا دشوار ہو رہا ہے بلکہ حقوق کی بازیافت کی صدا کو دیش ورودھی جیسا لقب دے دیا جاتا ہے، اسی ملک کی زمین پر مولانا کلیم صدیقی بھی ہیں اور بابا باگیشور دھام اور یتی نرسنگہا نند سر سروتی بھی، مگر دیکھئے ایک پس ِزنداں اسیری کی زندگی گذار رہا ہے تو دوسرا ڈنکے کی چوٹ پر آزاد گھوم رہا ہے ۔اور کن کن مثالوں کو دہرایا جائے؟
ملک جمہوریت سے منوسمرتی کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے، ڈیموکریسی کے نام پر بنی پارٹیاں دیوالیہ ہو رہی ہیں، پاور فل یعنی بیباک نیتا کہے جانے والے بھی اب جائے پناہ کی تلاش میں ہیں، اور ایک کے بعد ایک قد آور نیتا اپنی حیثیت کھو رہے ہیں، راہول گاندھی جو کہ حزب مخالف کے مضبوط لیڈر تسلیم کیے جاتے ہیں وہ ایک ہی جھٹکے میں کنارے ہو گئے، یہ کہانی سب سے پہلے شروع ہوتی ہے اعظم خان اور ان کے صاحبزادے سے دونوں کو الزامات کی زنجیر میں جکڑ کر عدالت میں مجرم ثابت کروا کر صوبائی اسمبلی کی رکنیت ختم کروا دی گئی تھی لیکن اس وقت کسی کو احساس تک نہیں ہوا تھا کہ جمہوریت کا خون ہو رہا ہے کیونکہ یہاں پسپا ایک مسلمان ہو رہا تھا، خیر آگ کی یہ لپٹ راہول گاندھی تک بھی پہنچ ہی گئی، اسی طرح ایک کے بعد ایک سب لپیٹ میں آتے جائیں گے کیونکہ ملک اب ایک فیصلہ کن موڑ پہ آ کھڑا ہوا ہے، اور پورے ملک میں دو طرف سے دو قسم کی لڑائی جاری ہے اور ہر صورت نقصان اٹھانے والا یہی مسلمان ہے، ایک لڑائی سیاسی ہے جسے بی جے پی سے دیگر تمام پارٹیاں لڑ رہی ہیں دوسری لڑائی ہندو مسلم کی ہے جسے ہندوو¿ں کی تمام تنظیموں کے علاوہ دھرم گرو، صحافی، اساتذہ و والدین مسلمانوں کے خلاف لڑ رہے ہیں، اور دونوں صورتوں میں مسلمانوں کا ہی استحصال و خسارہ طئے ہے، دونوں سمتوں کے تناو¿ کا ہی اثر ہے کہ دن اپنی تابناکی کے باوجود تاریک سے تاریک تر ہوتا جا رہا ہے، اور شب کا تو کیا ہی کہنا۔ مسلمانوں کا مستقبل آگے کیسا ہوگا یہ سمجھنے کے لیے محض اتنا ہی کافی ہے کہ ہندوتوا تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف ہر اقدام کے لیے تیار ہے، انہیں ہماری اذان و نماز پہ اعتراض تو ہے ہی اب اپنے حق کی بات بھی قابل گرفت ہوگئی، پہلے ہمارے کھلے میں نماز پڑھنے پر انہیں کلفت ہوتی تھی اب گھر میں جمع ہوکر نماز پڑھنے میں بھی اعتراض ہوگیا (مراد آباد کا واقعہ دیکھیں) مسلمانوں سے نفرت جڑ پکڑ رہی ہے بلکہ پکڑ چکی ہے بس لاوا بن کر پھوٹنے کا انتظار ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود ہمیں گھبرانے اور اچھے حالات سے ناامید ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ یہ حالات خود ہماری بیداری کے لیے پیدا کئے گئے ہیں، جب ہم متحدہ طور پر بیدار ہونگے وہیں سے ہمارا انقلاب بھی شروع ہوگا۔ ایسے مایوس کن حالات میں سب سے پہلی اور اہم ذمہ داری ان لوگوں کی ہے جن کے ہاتھ میں قلم، منہ میں زبان، اور سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع سے عوام میں مقبولیت و پکڑ ہو میدان میں آئیں اور اپنی ملت کے روشن مستقبل کے لیے جد و جہد کریں، ورنہ اس کے مستقبل کی تاریکی و خوفناکی پر کمر بستگی کا فیصلہ تو ہر دھرم سنسد و دربار میں ہو رہا ہے۔