نئی نویلی دلہن کا خونی کھیل، کھانے میں زہر ملا کر زیورات سمیت فرار!
بتایا جاتا ہے کہ کھانا کھانے کے بعد خاندان کے افراد کی طبیعت بگڑ گئی، جس کے بعد انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ دوسری جانب، ملزمہ پر گھر سے زیورات اور شادی میں ملنے والی رقم لے کر ایک دوسری خاتون کے ساتھ فرار ہونے کا بھی الزام ہے۔
مہاراشٹر: ریاست مہاراشٹر کے جلگاؤں ضلع میں شادی کے محض تین دن بعد ایک نئی نویلی دلہن پر اپنے شوہر سمیت سسرال کے چار افراد کو کھانے میں چوہے مارنے کی دوا ملا کر زہر دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ کھانا کھانے کے بعد خاندان کے افراد کی طبیعت بگڑ گئی، جس کے بعد انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ دوسری جانب، ملزمہ پر گھر سے زیورات اور شادی میں ملنے والی رقم لے کر ایک دوسری خاتون کے ساتھ فرار ہونے کا بھی الزام ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ جلگاؤں ضلع کے پارولا تعلقہ کے ویلھانے گاؤں میں پیش آیا۔32 سالہ شخص کی شادی 7 اکتوبر کو ہوئی تھی، جبکہ 9 اکتوبر کی رات دلہن نے اپنے شوہر اور خاندان کے دیگر افراد کے کھانے میں چوہے مارنے کی دوا ملا دی۔
کھانا کھانے کے کچھ دیر بعد خاندان کے افراد کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ متاثرہ خاندان کے ایک بزرگ جوڑے کو علاج کے لیے دھولے کے سرکاری ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر تحقیقات شروع کردیں۔
گاؤں والوں کا احتجاج، دو خواتین حراست میں
واقعے کے بعد مقامی افراد اور خاندان کے دیگر ارکان نے پولیس اسٹیشن کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے دونوں خواتین کی گرفتاری اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کرنے والی دونوں خواتین کو دھولے ضلع کے نِمگُل گاؤں کے قریب سے حراست میں لے لیا۔
پولیس کے مطابق، ملزمہ دلہن کی شناخت سمن سبھاش ساہنی اور اس کی مبینہ ساتھی کی شناخت آرتی سوریہ اکش پٹیل کے طور پر بتائی گئی ہے۔ دونوں خواتین کا تعلق جھارکھنڈ سے بتایا جاتا ہے۔
شادی کے لیے ڈھائی لاکھ روپے دینے کا دعویٰ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جلگاؤں کے پارولا علاقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان نے دوسری ریاست کی لڑکی سے شادی کے لیے ڈھائی لاکھ روپے دیے تھے۔ تاہم، اس معاملے میں رقم کی ادائیگی کی نوعیت اور دیگر تفصیلات کی سرکاری طور پر تصدیق ہونا باقی ہے۔
پولیس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔